درختوں کی بلند شاخوں سے چھن کر آتی ہوئی سنہری روشنی گھاس پر یوں بکھر رہی تھی جیسے کسی نے نرم سبز قالین پر باریک سونے کے ذرّے چھڑک دیئے ہوں۔
EPAPER
Updated: April 09, 2026, 2:27 PM IST | Taiyyiba Asrar Ahamad | Mumbai
درختوں کی بلند شاخوں سے چھن کر آتی ہوئی سنہری روشنی گھاس پر یوں بکھر رہی تھی جیسے کسی نے نرم سبز قالین پر باریک سونے کے ذرّے چھڑک دیئے ہوں۔
درختوں کی بلند شاخوں سے چھن کر آتی ہوئی سنہری روشنی گھاس پر یوں بکھر رہی تھی جیسے کسی نے نرم سبز قالین پر باریک سونے کے ذرّے چھڑک دیئے ہوں۔ دور جھولوں کے پاس کھیلتے بچوں کی آوازیں اب دھیرے دھیرے مدھم ہو رہی تھیں۔ دن کی چہل پہل آہستہ آہستہ اپنے قدم سمیٹ رہی تھی اور فضا پر ایک نرم سی خاموشی اترنے لگی تھی۔ میں پارک کی اس پرانی بنچ پر بیٹھی تھی۔ وہی بنچ....
جس پر امی کے ساتھ اکثر بیٹھا کرتی تھی۔
وقت نے پارک کی بہت سی چیزیں بدل دی تھیں۔ کچھ درخت نئے تھے، کچھ راستے پختہ ہوچکے تھے۔ مگر یہ بنچ اب بھی ویسی ہی تھی پرانی، خاموش، جیسے اس کے اندر برسوں کی یادیں محفوظ ہوں۔ میں نے اپنی ڈائری کھولی اور قلم تھام لیا۔ چند لمحوں تک صفحہ خالی رہا۔ الفاظ جیسے دل کی گہرائیوں سے نکلنے میں جھجک رہے تھے۔ صفحہ سفید تھا، مگر دل کے اندر یادوں کا ایک پورا جہان آباد تھا۔ ایسا جہان جس میں امی کی آواز، ان کی مسکراہٹ، ان کی شفقت سب کچھ آج بھی زندہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: آجاؤ....
مَیں نے لکھنا شروع کیا: ’’دو برس بیت گئے۔‘‘ قلم وہیں رک گیا۔ دو برس.... وقت کے پیمانے پر شاید یہ ایک معمولی سی مدت ہو، مگر دل کے آنگن میں یہ مدت ایک طویل خاموشی کی طرح پھیل گئی ہے۔ زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی۔ صبحیں آتی رہیں، شامیں ڈھلتی رہیں، دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدلتے رہے۔ مگر دل کے کسی گوشے میں ایک لمحہ ایسا ہے جو اَب تک وہیں ٹھہرا ہوا ہے۔ وہ لمحہ جب امی ہم سے جدا ہوئیں۔
میں نے نظریں اٹھا کر پارک کو دیکھا۔ ہوا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر آہستہ آہستہ سرسراتی ہوئی گزر رہی تھی۔ پتوں کی یہ سرگوشیاں کبھی کبھی مجھے یوں محسوس کراتی جیسے فطرت خود کوئی پرانی کہانی سنا رہی ہو۔ ایسی کہانی جس میں یادیں بھی ہیں اور خاموش دعائیں بھی۔ مجھے امی کا مسکراتا ہوا چہرہ یاد آگیا۔ وہ مسکراہٹ جس میں شفقت بھی ہوتی تھی، اطمینان بھی، اور ایک خاموش حوصلہ بھی۔ زندگی کی کتنی ہی الجھنیں ایسی تھیں جو ان کی ایک مسکراہٹ سے آسان ہو جاتی تھیں۔
ان کی موجودگی گھر میں ایسے تھی جیسے کسی باغ میں بہتی ہوئی نرم ہوا.... ایک ایسی ہوا جس کا احساس تو ہر لمحہ ہوتا ہے مگر اس کی اہمیت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب وہ اچانک رک جائے۔ اور پھر ایک دن وہ ہوا رک گئی۔ امی ہمیں بہت جلد چھوڑ کر چلی گئیں۔ ان کا جانا ایسا تھا جیسے کسی روشن دن میں اچانک شام اتر آئے۔ جیسے سورج ابھی پوری طرح چمکا بھی نہ ہو اور افق پر اندھیرا پھیلنے لگے۔
ہمیں تو ابھی ان کی چھاؤں میں بہت دیر تک بیٹھنا تھا۔
مگر....
میں نے ڈائری کے صفحے پر نظریں جھکا لیں۔ یادوں کے دروازے اب پوری طرح کھل چکے تھے۔ مجھے اچانک ایک پرانا منظر یاد آیا۔ میں اور امی اسی راستے پر چل رہے تھے۔ اچانک میں دوڑتے ہوئے جھولوں کی طرف بھاگنے لگی اور ٹھوکر کھا کر گھاس پر گر پڑی۔ امی فوراً میرے پاس آئیں، میرا ماتھا سہلایا اور پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا: ’’بیٹا، جلد بازی شیطان کا کام ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: تو پھر یہ تماشہ کیا ہے؟
اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ ماں کی ڈانٹ بھی دراصل محبت کی ایک نرم صورت ہوتی ہے۔ جیسے بادل کی ہلکی سی گرج جس کے پیچھے بارش کی ٹھنڈک چھپی ہوتی ہے۔
گھر میں جب امی ہنستی تھیں تو یوں لگتا تھا جیسے صحن میں اچانک بہار اتر آئی ہو۔ ان کے قہقہے گھر کی دیواروں میں خوشی کی طرح گونجتے تھے۔
کبھی کبھی وہ ہلکی سی نصیحت بھی کر دیتی تھیں۔ ’’بیٹا، سچ بولنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، مگر دل کو سکون ضرور دیتا ہے۔‘‘ ’’دل صاف رکھو، زندگی آسان ہو جاتی ہے۔‘‘ تب شاید میں نے ان باتوں کی گہرائی کو پوری طرح محسوس نہیں کیا تھا۔ مگر آج جب زندگی کے راستے کبھی مشکل ہو جاتے ہیں تو یہی الفاظ دل میں چراغ کی طرح روشن ہو جاتے ہیں۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ماں دراصل ایک سایہ دار درخت کی مانند ہوتی ہے۔ ایسا درخت جو خاموشی سے اپنی چھاؤں پھیلاتا ہے، اپنے پھل دوسروں کو دیتا ہے اور کبھی اپنی تھکن کا ذکر نہیں کرتا۔ انسان اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھا رہتا ہے اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بڑی نعمت کے سائے میں ہے مگر جب وہ سایہ اچانک اٹھ جائے تو دھوپ کی تمازت بہت دیر تک دل کو تپاتی رہتی ہے۔
میں نے آہستہ سے ڈائری بند کر دی۔ پارک میں شام اب گہری ہو چکی تھی۔ آسمان کے نیلے کینوس پر اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا اور اس کے بیچ ایک تنہا ستارہ چمکنے لگا۔ ہوا کا ایک نرم جھونکا درختوں کے پتوں کو ہلاتا ہوا گزرا۔ اسی لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے بہت نرمی سے میرا نام پکارا ہو۔ میں چونک کر اردگرد دیکھنے لگی۔ پارک خاموش تھا۔ مگر دل کے اندر ایک عجیب سی طمانیت اتر آئی۔
میرے لبوں پر بے اختیار دعا آگئی:
’’یا اللہ، میری امی کی قبر کو اپنی رحمت کے نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔‘‘
میں نے بنچ سے اٹھ کر چلنا شروع کیا۔ پھر جانے کیوں دل نے کہا کہ ایک بار پلٹ کر دیکھوں۔ میں نے مڑ کر اس بنچ کی طرف دیکھا۔ شام کی مدھم روشنی اس پر ٹھہری ہوئی تھی۔ اور اس لمحے مجھے یوں لگا.... جیسے اس بنچ پر امی اب بھی بیٹھی ہوں۔ میں نے بے اختیار ہاتھ بڑھا کر بنچ کو چھوا۔ لکڑی ٹھنڈی تھی.... مگر دل کو یوں لگا جیسے کسی مانوس لمس کی گرمی اب بھی باقی ہو۔ دل سے آواز آئی، ’’ماں کبھی پوری طرح جاتی ہی نہیں.... وہ یادوں کی روشنی بن کر ہمارے ساتھ رہتی ہے۔‘‘