Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: آجاؤ....

Updated: April 07, 2026, 2:57 PM IST | Mumtaz Nikhat | Mumbai

ہماری ریزور بینک کی کالونی بہت بڑی ہے۔ لوگ مالی طور پر کافی امیر ہیں۔ اکثر گھروں میں برتن دھونے اور جھاڑو پونچھا کرنے کیلئے نوکر رکھے گئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہماری ریزور بینک کی کالونی بہت بڑی ہے۔ لوگ مالی طور پر کافی امیر ہیں۔ اکثر گھروں میں برتن دھونے اور جھاڑو پونچھا کرنے کیلئے نوکر رکھے گئے ہیں۔ میں بھی جب اس کالونی کے ایک فلیٹ میں رہنے لگی تو میں نے بھی گھر کے کام کی سہولت کیلئے نوکرانی رکھنی چاہی۔ ایک نوکرانی جس کا نام سکینہ تھا وہ مجھے کافی محنتی لگی اور میں نے بھی اسے رکھ لیا۔ سکینہ واقعی بہت محنتی تھی مگر اس کے پاس کام کی بہتات تھی۔ مجھے ایک اور نوکرانی رکھنی پڑی اور طے یہ ہوا کہ کسی دن وہ نوکرانی نہ آئے یا بیمار ہو جائے تو سکینہ کو بلا لیا جائے۔ طے یہ ہوا کہ جب اس کی ضرورت ہو اس کے موبائل پر لکھ کر ڈال دیا جائے ’’آجاؤ....‘‘ وہ آکر کام کر جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: تو پھر یہ تماشہ کیا ہے؟

لوگ اس کو الگ الگ محنتانہ دیتے تھے۔ کوئی ۱۰۰؍ روپے کوئی ۱۵۰؍ روپے مگر مَیں نے اسے ۲۰۰؍ روپے دینے کا طے کیا۔ غرض وہ کام کرنے لگی۔ مہینے میں ایک یا دو بار مجھے اس کی ضرورت ہوتی تھی۔ وہ اپنے روزمرہ کے کام نپٹا کر آجاتی اور بہت صاف کام کرتی۔ میں بہت خوش تھی۔ اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی آتی تھی کیونکہ وہ اسکول سے واپس آجاتی اور اپنی ماں کے ساتھ رکتی تھی۔ لڑکی بڑی پیاری تھی، مجھے اس لڑکی نے آنٹی آنٹی کہہ کر موہ لیا تھا۔ ۲۰۰؍ روپے امید سے کچھ زیادہ ہی تھے۔ دن گزرتے گئے۔ مَیں اس کو میسیج کرکے بلاتی رہی۔ مجھے صرف لکھنا پڑتا ’’آجاؤ....‘‘ اور وہ آجاتی، مگر یہ سب اس کے شوہر کے علم میں نہیں تھا۔ اور وہ اپنے شوہر سے چھپتے چھپاتے گھروں کے کام کیا کرتی تھی۔

کچھ دن گزرے اور اس وقت کورونا کی وباء پھیلی۔ گھر کی کام والیوں نے آنا بند کر دیا مگر سکینہ برابر آتی رہی۔ اس نے کالونی کے کیئر ٹیکر کو منا لیا تھا۔ مجھے اس سے بڑا سپورٹ تھا مگر ایسا ہوتا کہ وہ اپنی کمائی کا زیادہ تر حصہ اپنے شوہر کو دے دیتی تاکہ وہ شراب پی سکے۔ کورونا کے دور میں بھی اس کا شوہر شراب کے لئے پیسے لیتا رہا۔ بیچاری بچی کا خیال صرف سکینہ کو ہی رکھنا پڑتا۔ سکینہ کے کوئی قریبی رشتہ دار بھی نہیں تھے جو ان کی مدد کرتے۔ کورونا کے دور میں سکینہ کی مدد اس کے وہ لوگ ہی کرتے جہاں وہ کبھی کبھی کام کیا کرتی تھی۔ اب تو لوگ اپنا کام خود اپنے ہاتھوں سے کرنے لگے تاکہ باہر سے کوئی آکر انہیں بیماری کا شریک نہ کر لے۔ بیچاری سکینہ کے شوہر نے اس دور میں بھی شراب پینا کم نہیں کیا۔ سکینہ کو لوگ روزمرہ کے لئے پیسے دیتے تھے وہ بھی بند ہوگئے۔ لوگوں نے اسے کبھی کبھی بلانا بھی چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: تنگ گلی

اب سکینہ بڑے برے دور سے گزر رہی تھی۔ کورونا نے سب سے زیادہ ان غریبوں پر ہی ظلم کیا تھا پھر اچانک سکینہ بیمار ہوگئی۔ اب اس نے میرے گھر بھی آنا بند کر دیا تھا کہ کہیں میں بیمار نہ ہو جاؤں۔ مگر کورونا نے اس بیچاری کی بھی جان لے لی۔ اب وہ بچی اپنے شرابی باپ کے پاس اکیلی رہ گئی۔ وہ بھی بیمار نہ ہو جائے اس کیلئے میں اسے اپنے گھر لے آئی۔ اس طرح اس کے اسکول کا بھی کوئی ناغہ نہ ہوتا۔ باپ شرابی پوچھنے بھی نہیں آیا کہ میری بیٹی کہاں اور کیسی ہے؟ میں نے سوچا شاید بیماری کی وجہ سے وہ نہیں آ رہا ہے، مگر بیماری کا دور بھی ختم ہوگیا اور وہ نہیں آیا۔ اب بچی صرف میرے حوالے تھی۔ میں نے اس کا پورا پورا خیال رکھا۔ لوگوں نے کہا کہ اسے مت رکھو اس میں بھی بیماری کے جراثیم ہوں گے مگر میں نہ مانی۔ میں جب بھی اسے اپنے سے الگ کرنا چاہتی سکینہ کا چہرہ میری نظروں میں گھوم جاتا اور وہ شرابی باپ کے پاس جانا بھی نہیں چاہتی تھی لہٰذا وہ میرے پاس رہتے رہتے جوان ہوگئی۔ خوبصورت تو تھی ہی اس کیلئے رشتہ ڈھونڈنا بھی مشکل نہیں تھا۔ میٹرک پاس کرتے ہی میں نے اس کیلئے ایک نوجوان کو پسند کر لیا اور پھر اس کی شادی طے ہوگئی۔ کبھی کبھی اس کا شرابی باپ اسے دیکھنے کیلئےآجاتا تھا۔ میں نے اس بچی کی ذمہ داری اپنے سر لے کر برا تو نہیں کیا تھا۔ بچی گھر کے سارے کام کاج سیکھ چکی تھی اور کام میں میرا ہاتھ بٹاتی تھی۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مجھے مفت کی نوکرانی مل گئی ہے مگر لوگوں کا کیا ہے میں جانتی تھی میں نے اسے اپنی اولاد کی طرح پالا تھا۔ پھر وہ دن بھی آگیا کہ اس کی شادی ہونے والی تھی۔ اس کا شرابی باپ ایک دن پہلے اس سے ملنے آیا، مگر میں نے اسے منع کیا کہ شادی میں شریک ہو کر اس کے سسرال والوں کو اپنا شرابی چہرہ نہ دکھائے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کچھ کفارے کبھی ادا نہیں ہوتے

وہ چلا گیا پھر جس دن اس بچی کی ڈولی اٹھی کچھ دوری پر ایک جنازہ بھی اٹھا پتہ چلا کہ وہ اس کے باپ کا تھا۔ بچی کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن میرے دل میں ایک انجانی سی خوشی تھی اور ایک عجیب سا اطمینان۔ میں نے اپنے موبائل سے سکینہ کو پیغام بھیجا.... ’’آجاؤ!‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK