• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: کسک

Updated: September 21, 2026, 3:46 PM IST | Rahmani Kashifa Dr. Irfan Ahmed | Mumbai

اشعر جو چہارم جماعت کا ہونہار طالب علم تھا، خوشی سے جھومتا ہوا اسکول سے گھر آیا۔ اسکول بیگ صوفہ پر اچھال کر ماں کو آوازیں دیتا ہوا باورچی خانے کا رُخ کیا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اشعر جو چہارم جماعت کا ہونہار طالب علم تھا، خوشی سے جھومتا ہوا اسکول سے گھر آیا۔ اسکول بیگ صوفہ پر اچھال کر ماں کو آوازیں دیتا ہوا باورچی خانے کا رُخ کیا۔

’’امی.... امی! آپ کو پتہ ہے آج اسکول میں ہم دوستوں نے ایک پلان بنایا ہے۔‘‘ وہ پُرمسرت انداز میں گویا ہوا۔

امی نے متجسس ہو کر پوچھا ’’اچھا! کون سی پلاننگ کی ہے؟‘‘

اور اس سوال کے لئے جیسے وہ پہلے سے تیار تھا فوراً بول پڑا، ’’امی! ہم نے یہ پلاننگ کی ہے کہ ہم تمام دوست مل کر ٹیچر کو تحفہ دیں گے۔ کیک بھی لائیں گے۔ اس کے لئے آپ مجھے دو سو روپے دو۔ـ‘‘ اشعر جذبات میں کہتا جا رہا تھا یہ دیکھے بغیر کہ ماں کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔ آنکھوں میں خالی پن تھا۔ نظریں دیوار پر جمی ہوئی تھیں اور ذہن میں یکے بعد دیگرے خیالات آنے لگے کہ سلائی کڑھائی کرکے دن رات محنت کرکے کچھ روپے اکٹھا کئے تھے ان میں سے بجلی بل، اسکول کی فیس اور گھر کا راشن لانا تھا، ساتھ ہی منی کی دوائیاں، جو بخار میں تپ رہی تھی، لانی تھیں۔ جیسے تیسے ان کا گزارا ہو رہا تھا۔

’’امی! کیا ہوا؟‘‘ اشعر کے جھنجھوڑنے پر خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ : وہ خواب جو شرمندۂ تعبیر نہ ہوا

ماں نے دھیمی اور نرم آواز میں کہا، ’’بیٹا! ابھی جانے دو پھر کبھی دے دینا۔‘‘ لیکن معصوم سے دل نے بغاوت کی، وہ رونے لگا، ’’نہیں امی! مجھے روپے ابھی چاہئے، اگر مَیں نہیں لے کر گیا تو میرے دوست میرا مذاق اڑائیں گے۔‘‘ ماں نے کافی بہلایا پھسلایا مگر لاحاصل.... ننھے بچے نے گویا ضد پکڑ لی تھی۔ ماں نے بے بسی سے اسے دیکھا اپنا بٹوہ کھولا مڑے تڑے نوٹ نکال کر دھیرے سے اشعر کی سمت بڑھے دیئے یوں لگا جیسے کلیجہ نکال کر دے رہی ہوں۔

دوسرے دن اس معصوم بچے نے خوشی خوشی دوستوں کو روپے دے دئیے۔ اسکول میں ۵؍ ستمبر، یعنی ’’یوم ِ اساتذہ‘‘ جوش و خروش سے منایا گیا۔ اشعر کے ٹیچر نے تحائف سے بھری ہوئی ایک بڑی تھیلی لئے ہونٹوں پر فاتح مسکراہٹ سجائے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر وہاٹس ایپ پر تمام تحائف کے اسٹیٹس لگا دئیے گئے۔ کس بچے نے کون سا تحفہ دیا ہے یہ بھی یاد نہیں.... بس الماری سج گئی.... جنہیں قوم کے معمار کہا گیا، جن کے ہاتھوں میں قوم کا مستقبل ہے، جن کا ضمیر حق شناس ہو.... آہ.... وہ بچوں کی نفسیات سے لاعلم.... ایک ماں کے دل کی کسک سے نا آشنا.....

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK