Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ : وہ خواب جو شرمندۂ تعبیر نہ ہوا

Updated: August 11, 2026, 12:04 PM IST | Khan Shabnam bint Farooq | Mumbai

’’پرینکا یار.... ذرا لائٹ تو چالو کر دو.... اچھاصرف میری طرف والا بلب آن کر دو....‘‘

Picture: INN
تصویر: آئی این این

’’پرینکا یار.... ذرا لائٹ تو چالو کر دو.... اچھاصرف میری طرف والا بلب آن کر دو....‘‘

پرینکا نے کروٹ بدلی تکیہ کانوں پر رکھا اور نیم وا آنکھوں سے گھڑی کی طرف دیکھا ’’شفق.... بس بھی کرو۔ رات کے چار بج چکے ہیں۔ اب سو بھی جاؤ۔‘‘

’’دو گھنٹے سو جاؤں گی تو دو گھنٹے کم پڑھوں گی۔‘‘ ’’لیکن دماغ بھی تو کوئی چیز ہے۔ مسلسل جاگنے سے یاد کیا خاک رہے گا؟‘‘

شفق مسکرائی ’’اس بار ابو سے وعدہ کیا ہے۔ نیٹ کلیئر کرکے ہی گھر جاؤں گی۔‘‘

پرینکا نے ایک ٹھنڈی سانس لی ’’اور مَیں نے ماں سے کہا ہے کہ اگلی بار دیوالی دہلی میں نہیں، گھر مناؤں گی.... بطور آئی اے ایس آفیسر۔‘‘

دونوں ہنس پڑیں....

وہ ہنسی چند لمحوں کی تھی....

اس کے بعد پھر وہی خاموشی....

کتابوں کے ورق پلٹنے کی آواز....

دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک....

اور باہر سے گزرتی میٹرو کی مدھم گونج۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: تربیت

دہلی.... یہ شہر صرف ملک کا دارالحکومت نہیں تھا۔ یہ خوابوں کی تعبیروں کا شہر ہے.... جہاں ہر گلی میں ایک کوچنگ سینٹر تھا۔ ہر چوراہے پر ایک لائبریری.... ہر دیوار پر ایک اشتہار....

صرف ایک سال میں کامیابی!

ٹاپ رینک کی ضمانت!

اور انہی اشتہارات کے درمیان ہزاروں لڑکے لڑکیاں اپنے اپنے خوابوں کو کندھوں پر اٹھائے پھرتے تھے۔

کوئی بہار سے آیا تھا۔ کوئی راجستھان سے۔ کوئی جھارکھنڈ سے۔ کوئی کشمیر سے۔

اور کوئی ایسے گاؤں سے جہاں آج بھی بجلی شام کو مہمان بن کر آتی تھی۔

شفق بھی انہی میں سے ایک تھی۔ اس کے والد ایک سرکاری اسکول میں کلرک تھے۔ ہر مہینے تنخواہ کا بڑا حصہ دہلی بھیج دیتے۔ اور ہر فون کال کے آخر میں صرف ایک جملہ کہتے ’’بیٹا! فکر مت کرنا پیسوں کا انتظام ہو جائے گا۔‘‘

شفق جانتی تھی....

یہ جملہ بولنے سے پہلے اس کے والد کتنی چیزوں سے سمجھوتہ کرتے ہوں گے۔

پرینکا کی کہانی کچھ مختلف تھی۔

اس کی ماں نے اپنی دو چوڑیاں بیچ کر اس کا کوچنگ میں داخلہ کروایا تھا۔ وہ اکثر مذاق میں کہتی ’’جب آئی اے ایس بن جاؤں گی تو پہلی تنخواہ سے سونے کی چوڑیاں واپس لے دوں گی۔‘‘

لیکن جب رات کو سب سو جاتے....

تو وہی پرینکا چھت کی طرف دیکھتے ہوئے خاموشی سے آنسو پونچھ لیتی۔

صبح سات بجے دونوں لائبریری پہنچ جاتیں۔ رات دس بجے واپس آتیں۔ ان کی زندگی میں اب نہ عید تھی، نہ دیوالی۔ نہ دوست نہ رشتے۔ صرف سلیبس.... صرف امتحان صرف ایک طویل تھکا دینے والا انتظار۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ: ریاکاری

کبھی کبھی پرینکا چِڑھ کر پوچھ لیا کرتی تھی ’’شفق! ہم آخر اتنی محنت کیوں کر رہے ہیں؟‘‘

شفق کا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا ’’کیونکہ ہمارے پاس محنت کے علاوہ کچھ نہیں۔‘‘

امتحان میں صرف سوال نہیں ہوتے۔ ہر سوال کے پیچھے کسی باپ کی مزدوری ہوتی ہے۔ کسی ماں کی دعائیں۔ کسی بہن کی قربانی۔ کسی بھائی کی ادھوری تعلیم۔ اور ایک نوجوان کی پوری جوانی۔

امتحان قریب تھا۔ پورا مکھرجی نگر جاگ رہا تھا۔ چائے کی دکانوں پر رات کے دو بجے بھی رش تھا۔ لائبریریوں میں کرسی خالی نہیں تھی۔

ہر چہرے پر بے خوابی تھی۔ لیکن آنکھوں میں امید بھی تھی۔

جب سینٹر ہال میں پرینکا پہنچی تو عجیب ہی رش لگا تھا.... لڑکے اپنی ہی جینس پر لگی جیبوں کو پھاڑ رہے تھے.... جبکہ لڑکیوں کا بھی حال کچھ ایسا ہی تھا وہ گلے میں پڑے دوپٹے کو اتار رہی تھیں کہیں ہاتھوں میں پڑی گھڑیاں اتر رہی تھیں تو کہیں کانوں کی بالیاں.... پرینکا نظر انداز کرتی اپنی باری کا انتظار کرنے لگی کیونکہ یہ منظر اب ہر امتحان گاہ کا معمول ہوچکا تھا.... پیپر دینے والے امیدوارں کی جانچ اسی طرح سے کی جاتی تھی....

امتحان ہوا۔ شفق مسکراتی ہوئی باہر نکلی۔

’’پرینکا.... اس بار واقعی اچھا ہوا ہے۔‘‘

’’میرا بھی۔‘‘

دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔

انہیں لگا....

شاید برسوں کی محنت رنگ لے آئی۔

لیکن قسمت نے ابھی اپنا آخری صفحہ نہیں کھولا تھا۔

دو دن بعد....

صبح کے سات بجے تھے۔ شفق نے موبائل اُٹھایا۔ وہاٹس ایپ کھولا۔ پہلی ہی خبر تھی....

’’پیپر لیک ہونے کے شبہ میں امتحان منسوخ ہونے کا امکان....‘‘

اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔

’’نہیں....‘‘

اس نے فوراً خبر بند کر دی۔ ایسا نہیں ہوسکتا.... مگر آدھے گھنٹے بعد سرکاری اعلان آگیا۔

امتحان منسوخ....

صرف دو لفظ۔ لیکن ان دو لفظوں نے لاکھوں امیدواروں کی زندگی جیسے روک دی۔ شفق خاموش تھی۔ پرینکا خاموش تھی۔ الماری میں رکھی کتابیں خاموش تھیں.... انہیں معلوم تھا اب پھر سے انہیں کھولا جائے گا پھر اس ایک طویل عرصے تک انہیں سمجھا جائے گا.... لیکن نتیجہ....

لیکن کا جواب اس ارضِ ہندوستان میں کسی کے پاس نہیں.... کیونکہ امتحان اگر صرف محنت مانگتا تو شاید بچے خودکشی کرنے کے بجائے اپنی محنت پر یقین رکھتے....

لیکن یہاں امتحان سے قبل ایک پورا سسٹم چلتا ہے جس میں مخصوص ادارے تُندہی سے کام کرتے ہیں جس کا نتیجہ پیر لیک ہونے کی صورت میں نظر آتا ہے.... کیونکہ ان کا مقصد اس پیٹ کو بھرنا ہے جو شاید کبھی بھی نہیں بھرسکتا.... اور کسی کا حق کھا کر تو کبھی بھی نہیں....

تبھی فون بجا.... پاپا کا فون آ رہا ہے....

پرینکا نے فون اٹھانے کے لئے کہا.... لیکن شفق کے ہاتھ کانپ رہے تھے....

پرینکا نے فون اسپیکر پر لگایا....

’’بیٹی شفق کیسی ہو؟‘‘

’’ہاں ابو!‘‘ خیریت کے الفاظ کہیں گلے میں ہی رندھ گئے۔

’’بیٹا! خبر دیکھی۔ پریشان مت ہونا.... ہم دوبارہ تیاری کریں گے۔‘‘

شفق کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

اسے معلوم تھا.... ’ہم‘ کا مطلب صرف وہ نہیں.... بلکہ اس کا باپ بھی تھا.... جو پھر اوور ٹائم کرے گا.... پھر قرض لے گا.... پھر اپنی ضرورتیں ٹال دے گا۔

فون بند ہوچکا تھا.... دونوں ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے وہیں لیٹ گئی....

خان شبنم بنت فاروق
اسی شام کوچنگ کے باہر طلبہ کا ہجوم تھا۔
ہر چہرہ غصے اور بے بسی کا آئینہ تھا۔
’’ہمارا کیا قصور ہے؟‘‘
’’ہم ہر بار سزا کیوں بھگتتے ہیں؟‘‘
’’چور کوئی اور ہے....
اور سزا ہمیں ملتی ہے!‘‘
ایک لڑکا چیخ رہا تھا۔
دوسرا رو رہا تھا۔ تیسرا خاموشی سے اپنا ایڈمٹ کارڈ پھاڑ رہا تھا۔
پرینکا نے آہستہ سے کہا
’’شفق! چلو جنتر منتر چلتے ہیں....‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہیں.... تو کل ہماری خاموشی بھی خرید لی جائے گی۔‘‘ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا....
اور اگلی صبح دہلی کی سڑکیں ان کی منتظر تھیں۔
اگلی صبح جنتر منتر کا منظر کسی امتحانی مرکز سے مختلف نہیں تھا۔
فرق صرف اتنا تھا....
آج کسی کے ہاتھ میں سوالیہ پرچہ نہیں تھا۔
ہر ہاتھ میں ایک تختی تھی۔
ہمیں دوبارہ امتحان نہیں انصاف چاہئے....
پیپر لیک بند کرو!
محنت کی قیمت دو!
ایجوکیشن منسٹر جواب دو!
شفق اور پرینکا بھی اس ہجوم کا حصہ تھیں۔
کوئی بہار سے آیا تھا۔
کوئی جھارکھنڈ سے۔
کوئی راجستھان سے۔
کوئی اتر پردیش سے۔
کسی کی عمر کی آخری کوشش باقی تھی۔
کسی نے پانچ سال صرف اسی ایک امتحان کے نام کر دیئے تھے۔
کسی کے والد نے زمین بیچی تھی۔
کسی ماں نے زیور گروی رکھے تھے۔
مگر آج سب کی پہچان ایک تھی....
امیدوار....
ایک دبلا پتلا نوجوان مائیک پر آیا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی:
مَیں مزدور کا بیٹا ہوں.... میرے ابو روز بارہ گھنٹے مزدوری کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا.... بیٹا تو صرف پڑھ۔
مَیں پڑھا.... دن میں بھی، رات میں بھی.... مگر....
اگر پرچہ پہلے ہی بک چکا ہو.... تو میری محنت کس کتاب میں لکھی جائے گی؟
پورا مجمع خاموش تھا....
کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔
ایک لڑکی نے اپنی فائل اٹھائی۔ اس میں ایڈمٹ کارڈ، کوچنگ کی رسیدیں، لائبریری کا کارڈ اور برسوں کے نوٹس تھے۔ اس نے سب ہوا میں بلند کئے اور بولی:
یہ صرف کاغذ نہیں.... میرے والد کی دس سال کی کمائی ہے۔
اس کی آواز رندھ گئی۔ بہت سے لوگوں کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
شفق نے آہستہ سے پرینکا سے کہا،
’’دیکھ رہی ہو؟
یہاں ہر شخص کی کہانی الگ ہے....
مگر درد ایک ہی ہے۔‘‘
طلبہ نے پُرامن انداز میں نعرے لگائے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی بات سنی جائے۔ کچھ دیر بعد پولیس کی نفری بڑھنے لگی۔ بریگیڈ لگا دیئے گئے۔ لاؤڈ اسپیکر سے اعلان ہوا کہ مجمع منتشر ہو جائے۔ مگر نوجوان وہیں بیٹھے رہے۔ وہ کہہ رہے تھے ہم راستہ بند کرنے نہیں آئے.... ہم اپنا مستقبل بچانے آئے ہیں۔
صورتحال آہستہ آہستہ کشیدہ ہونے لگی۔ پولیس نے مجمع کو پیچھے دھکیلنا شروع کیا۔ دھکم پیل میں کئی طلبہ گر گئے۔ کچھ مقامات پر لاٹھیاں چلیں۔ افراتفری مچ گئی۔
ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے بھی چھوڑے گئے۔ فضا میں دھواں بھر گیا۔ آنکھیں جلنے لگیں۔
لوگ ایک دوسرے کو سنبھالتے ہوئے ادھر ادھر بھاگنے لگے.... جانے کتنے طلبہ زخمی ہوئے، کتنوں پر لاٹھیوں برسائی گئی.... سر خون سے لہولہان ہوئے.... لاٹھیوں پر کیلیں لگا کر طلبہ پر تشدد کیا گیا.... کچھ کو کرنٹ تک دیا گیا....
اس افراتفری میں....
شفق نے پرینکا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا:
’’چھوڑنا مت....‘‘
’’کبھی نہیں....‘‘
زمین پر بکھرے ہوئے نوٹس ہوا میں اڑ رہے تھے۔ کسی کا چشمہ ٹوٹ چکا تھا۔ کسی کا ایڈمٹ کارڈ مٹی میں پڑا تھا۔ کسی کی برسوں کی محنت چند لمحوں کی بھگدڑ میں بکھر گئی تھی۔
اسی دوران ایک صحافی نے شفق سے پوچھا:
آپ لوگ آخر چاہتے کیا ہیں؟
شفق نے آنسو صاف کئے:
’’ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے.... ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ امتحان امتحان رہے.... دھوکہ دہی کا اڈا نہیں....‘‘
 
 
شام تک احتجاج ختم ہوگیا۔ سڑکیں صاف کر دی گئیں بریگیڈ ہٹا دیئے گئے۔ خبرناموں میں چند منٹ کی سرخیاں چلیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ ہیش ٹیگ ٹرینڈز ہوئے۔ پھر اگلے دن ایک نئی خبر آگئی اور پچھلی خبر پرانی ہوگئی۔
مگر ان لاکھوں امیدواروں کی زندگی میں کوئی نئی صبح نہیں آئی۔
 
پرینکا.... اس روم میں تنہا بیٹھی تھی.... جس کمرے میں وہ دونوں نے ساتھ خواب دیکھا تھا.... جہاں کے در و دیوار اس بات کے گواہ ہیں کہ دونوں نے بغیر کسی بھید بھاؤ کے ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا کیونکہ دونوں کا مذہب اگرچہ الگ تھا لیکن مقصد ایک....
آج پرینکا تو اسی کمرے میں تھی لیکن شفق....
شفق.... شفق.... آنکھیں کھولوں ہم بس ابھی ہسپتال پہنچ جائیں گے....
شفق آنکھ کھولوں نا.... شفق....
میں تمہارے ہاتھ جوڑتی ہوں....
کوئی ایمبولنس بلاؤ....
تمہیں بھگوان کا واسطہ....
کیا تمہارے دل پتھر کے ہوگئے ہیں....
پرینکا پولیس اور آر اے ایف جوانوں کے سامنے چیخ چیخ کر رو رہی تھی....
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خون میں لت پت شفق کو ہسپتال لے جائے....
لیکن یہاں سامنے وہ پتھر دل لوگ تھے جن کی آنکھیں تو تھیں لیکن دیکھنے سے قاصر تھیں.... جن کے احساسات مردہ ہوچکے تھے.... وہ چیختی رہی لیکن.... وہاں کوئی بھی انسان موجود نہ تھا.... سب کے سب حیوان تھے جو حیوانیت کا نظارہ پیش کر رہے تھے....
عکس دھندلانے لگے....
پرینکا نے خود کو کمرے میں پایا جہاں وہ بے بس بیٹھی تھی.... جہاں خواب ادھورے رہنے کے غم پر شفق کا غم غالب تھا....!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK