• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: وہ صبح جو ابھی آئی نہیں

Updated: September 22, 2026, 5:43 PM IST | Shagufa Khan Azmi | Nasirpur, Bandol, Azamgarh

رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا۔ اچانک کسی برے خواب کے زیرِ اثر میری آنکھ کھلی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا، اب تو یہ میری زندگی کا معمول بن چکا تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

یہ کہانی ہے اذیت کے سمندر میں غوطہ زن ماں کی

قلم میرے ہاتھ میں نہیں ہے

الفاظ میرے قلم کی نوک سے نہیں نکلے 

لیکن یہ کہانی ہے میرے درد کی

یہ کہانی ہے میرے آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے پانی کی

یہ کہانی ہے میرے وجود کے ٹکڑے کے بچھڑنے کی

یہ کہانی ہے یعقوب سے یوسف کے بچھڑنے کی....

رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا۔ اچانک کسی برے خواب کے زیرِ اثر میری آنکھ کھلی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا، اب تو یہ میری زندگی کا معمول بن چکا تھا۔ رات کے سناٹے میں ذرا سی آہٹ بھی میرے دل کو چونکا دیتی، جیسے کوئی دور سے میرے بیٹے کی خبر لے کر آ رہا ہو۔

وہ بچہ جسے مَیں نے اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، آج قانون کی ایک ایسی دیوار کے اُس پار تھا جہاں میری ممتا بھی پہنچنے سے قاصر ہے۔

وہ چہرہ جسے مَیں نے اپنی گود میں پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ آنکھیں جن میں مَیں نے اس کے بچپن سے آج تک نہ جانے کتنے خواب سجائے تھے۔ مگر اب انہی آنکھوں کے پیچھے نہ جانے کتنی بے بسی، کتنی خاموشی اور کتنی راتیں قید ہیں۔ مَیں نے اپنے آنسو پونچھے اور بستر سے اٹھ گئی۔

وضو کیا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کسک

ٹھنڈے پانی کے لمس نے جیسے میرے اندر کے شور کو چند لمحوں کیلئے خاموش کر دیا۔ پھر مَیں نے جائے نماز بچھائی۔

کمرے کی خاموشی میں میری سسکیاں بھی شاید عبادت کا حصہ بن گئی ہیں۔

نماز ختم کی تو کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی۔ ہاتھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہر بار ہاتھ اٹھاتے ہی دل کے اندر جمع برسوں کا درد آنکھوں سے بہہ نکلے گا۔

پھر مَیں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔

اور ہمیشہ کی طرح میرے ہونٹوں پر کوئی لمبی فہرست دعاؤوں کی نہیں تھی۔

بس ایک دعا تھی۔

وہی دعا جو جانے کتنی راتوں سے میری نیند، میری سانس اور میری زندگی بن چکی ہے۔

’’یا ربِ کائنات....‘‘

میری آواز لرز گئی۔

’’وہ روشن صبح مجھے عطا فرما....‘‘

مَیں رک گئی۔

آنکھوں سے آنسو بہہ کر دعا کے لئے اٹھے ہاتھوں پر گرنے لگے۔

’’وہ صبح.... جو میرے بیٹے کے باعزت بری ہونے کا اعلان کرے۔‘‘

یہ کہتے ہی میرے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔

مَیں نے اپنے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا لیا۔

فجر کی نماز پڑھ کر مَیں کھڑکی کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔

آسمان ابھی سیاہ تھا، مگر مشرق کی سمت کہیں دور ہلکی سی سفیدی جنم لے رہی تھی۔

مَیں نے اسے غور سے دیکھا۔

میرے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔

یا اللہ کیا یہ وہی صبح ہے؟

میرا بیٹا تو ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:وائی فائی زون میں قید پرواز

اُس نے ظلم کے سامنے سَر جھکانا کبھی نہیں سیکھا۔ جب بھی اُس نے ناانصافی دیکھی، اُس نے ببانگ دہل آواز بلند کی، اور اپنے ملک سے اسے بے پناہ محبت تھی ایسی محبت جس کی مثال شاید ہی مَیں نے کسی اور میں دیکھی ہو۔ وطن اُس کے لئے صرف نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں کا نام نہیں تھا؛ یہ اُس کے خوابوں میں بستا تھا، اُس کی دعاؤں میں شامل تھا، اُس کی ہر سانس میں دھڑکتا تھا۔ وہ اپنے ملک کو بہتر، اور پُرامن دیکھنا چاہتا تھا۔ شاید اسی لئے جب اُس نے اپنے وطن میں ناانصافی دیکھی تو خاموش نہ رہ سکا۔ اُس نے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائی، سچ کا ساتھ دیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اپنے وطن کے لئے بولنے والا میرا بیٹا ایک دن اسی وطن کی جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا ہوگا، اور انصاف و ظلم کے پل صراط پر ہر روز اپنی منزل کی تلاش میں سر گرداں رہے گا۔

اور عدالتیں ہیں کہ تاریخ پر تاریخ دیئے جا رہی ہیں۔

ایک اور تاریخ.... پھر ایک اور تاریخ....

ہر نئی تاریخ میرے لئے کیلنڈر پر لکھی ہوئی ایک تاریخ نہیں ہوتی، میرے انتظار کی ایک اور رات ہوتی ہے، میری آنکھوں میں اترتی ہوئی ایک اور بے خوابی ہوتی ہے، میرے دل پر پڑتا ہوا ایک اور بوجھ ہوتی ہے۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے چیخ کر پوچھوں....

آخر انصاف کی بھی کوئی تاریخ ہوتی ہے؟

میرے بیٹے کی جوانی تو تاریخوں میں گزر رہی ہے۔ اُس کے خواب تاریخوں میں قید ہیں، اُس کا روشن مستقبل تاریخوں کے حوالے ہیں، اور میری ممتا بھی ہر اگلی تاریخ کے ساتھ تھوڑی اور بوڑھی ہو رہی ہے۔

کاش!

کاش کوئی ایسی بھی عدالت ہوتی جہاں اُن منصفوں سے سوال کیا جاتا جو انصاف کو تاریخوں کے حوالے کرتے جا رہے ہیں کاش کوئی ایسا انصاف کا در ہوتا جو اُن ہاتھوں کو بھی پابند ِ سلاسل کرتا جو فیصلے لکھنے کے بجائے صرف نئی تاریخیں لکھتے ہیں۔ مَیں جانتی ہوں، عدالت کا احترام لازم ہے۔ لیکن میرے سوال جائز ہیں....

کیا میرے جوان بیٹے کی زندگی کو صرف چند ہندسوں میں لکھی ہوئی اگلی تاریخ بنا دینا انصاف ہے؟

کیا بغیر جرم ثابت ہوئے سالہا سال پابند سلاسل کرنا انصاف ہے؟

کیا میڈیا کی طرف سے بے بنیاد الزامات لگانا اور اس پر جھوٹ کی دیوار کھڑی کرنا انصاف ہے؟

مَیں ماں ہوں میں جانتی ہوں ممتا میں بہت طاقت ہوتی ہے اتنی کہ حکومتیں ہار جاتی ہے، عدالتیں ہار جاتی ہیں، سلاخیں ہار جاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK