• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ کی ممکنہ تقسیم؛ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے لیڈران متحد

Updated: September 14, 2026, 7:05 PM IST | London

برطانیہ کی وحدت اور آئینی مستقبل ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے لیڈر زیادہ خودمختاری اور آزادی کے ریفرنڈم کے حق کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔ کارڈف میں ہونے والا اجلاس برطانیہ کی ممکنہ تقسیم، علاقائی خودمختاری اور شمالی آئرلینڈ کے مستقبل سے متعلق بحث کو مزید شدت دینے کا امکان ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

دی ٹیلی گراف کے مطابق اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے لیڈر پیر کو کارڈف میں اجلاس کریں گے، جس میں زیادہ آئینی خودمختاری کے منصوبوں اور برطانیہ کے ممکنہ ٹوٹنے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی، ویلز کے فرسٹ منسٹر رھن اپ ایورِتھ اور شمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشیل او‘نیل سے توقع ہے کہ وہ ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کریں گے، جس میں آزادی کے حوالے سے ریفرنڈم کرانے کے حق کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ تینوں خطوں میں آزادی کی حامی جماعتیں حکومت کر رہی ہیں۔ 
دی ٹیلی گراف کے مطابق اس اجلاس کا مقصد برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم پر دباؤ بڑھانا بھی ہے، جنہوں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اگر اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے واضح عوامی اتفاقِ رائے موجود ہو تو وہ ایک اور ریفرنڈم کی حمایت کریں گے۔ تینوں لیڈروں کی جانب سے کارڈف میں ہونے والے اس غیر معمولی اجلاس کے ذریعے اپنے اپنے خطوں کو مستقبل کے آئینی فیصلوں میں زیادہ اختیار دینے کا مطالبہ متوقع ہے۔ اجلاس میں اختیارات کی منتقلی کے تحت کام کرنے والی حکومتوں کے درمیان مزید قریبی تعاون پر بھی غور کیا جائے گا۔ 
آزادی کی حامی جماعتوں کو سیاسی میدان میں کامیابی
یہ اجلاس اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں ہونے والی اہم سیاسی تبدیلیوں کے بعد ہو رہا ہے۔ ویلز میں مئی کے انتخابات کے بعد پلائیڈ کِمرو کارڈف کی سینیڈ میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ اس کے لیڈررھن اپ ایورِتھ بعد ازاں فرسٹ منسٹر منتخب ہوئے۔ اسکاٹ لینڈ میں چھ نشستیں کھونے کے باوجود اسکاٹش نیشنل پارٹی بدستور ہولی روڈ کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے، جبکہ ریفارم اور گرینز نے بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ شمالی آئرلینڈ میں ۲۰۲۴ءمیں مشیل او‘نیل کے فرسٹ منسٹر بننے کے بعد سے سِن فین اقتدار میں ہے۔ ۲۰۲۲ءکے اسٹورمونٹ انتخابات میں سِن فین سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی، تاہم ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے بائیکاٹ کے باعث نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیر ہوئی۔ توقع ہے کہ شمالی آئرلینڈ میں اگلے سال ہونے والے انتخابات کے بعد بھی سِن فین اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی۔ کارڈف اجلاس میں سِن فین کی صدر اور آئرلینڈ کی اپوزیشن لیڈرمیری لو میک ڈونلڈ بھی شرکت کریں گی۔ لیڈروں کی جانب سے زیادہ تعاون اور آئینی خودمختاری کے مطالبے کو دوبارہ آگے بڑھانے پر بات چیت متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹیکساس: ”غیرملکی“ طلبہ کو نشانہ بنانے والے بو فرینچ کےپوسٹ پر انڈین امریکنز، ریپبلکنز کا شدید ردِعمل

ٹرمپ کے آئرلینڈ کے اتحاد سے متعلق بیان نے بحث کو مزید بڑھا دیا
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے آئرلینڈ کے اتحاد سے متعلق بیان کے بعد شمالی آئرلینڈ کے آئینی مستقبل پر بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔ ہفتے کو ڈبلن کے دورے کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’’متحدہ آئرلینڈ‘‘ دیکھنا پسند کریں گے۔ انہوں نے شمالی آئرلینڈ کے جمہوریہ آئرلینڈ میں شامل ہونے کو ’’ایک اچھی بات‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’’یہ برا کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ٹرمپ کے ان بیانات نے سیاسی بحث میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے، کیونکہ برطانیہ کے زیر انتظام خودمختار خطوں میں قوم پرست جماعتیں اپنے آئینی مستقبل کے تعین کے لیے زیادہ اختیارات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اینڈی برنہم نے انگلینڈ میں اختیارات کی منتقلی کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا اہم حصہ بنایا ہے۔ دوسری جانب جان سوینی نے برطانوی وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ’’برطانیہ کے آخری وزیر اعظم‘‘ بننے کے امکان کا سامنا ہے۔ کارڈف میں ہونے والا یہ اجلاس برطانیہ کے مستقبل اور اس کی مختلف قوموں کو حاصل اختیارات کے حوالے سے جاری بحث کو مزید شدت دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK