• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: ریت پر لکھی تقدیر

Updated: January 22, 2026, 4:45 PM IST | Dr Safiya Sayyed Mohammad Rafi | Mumbai

ایک ایسی لڑکی کی کہانی جسے تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے مگر وہ پورے گاؤں کے لئے مثال بنتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سورج ڈھلنے کے قریب تھا۔ آسمان پر سرخی پھیل رہی تھی اور ہوا میں عجب سی تھکن گھلی ہوئی تھی۔ گاؤں کے کنارے بہتی نہر کے پاس ایک بوڑھا پیپل کا درخت کھڑا تھا، جس کے نیچے عائشہ روز آکر بیٹھتی تھی۔ وہ خاموشی سے پانی کو دیکھتی رہتی، جیسے اس کے بہتے وجود میں اپنی زندگی تلاش کر رہی ہو۔
عائشہ کی عمر پچیس برس تھی، مگر اس کے چہرے پر عمر سے زیادہ تجربات کے سائے تھے۔ بچپن میں وہ بہت ہنسا کرتی تھی، مگر وقت نے اس کی ہنسی آہستہ آہستہ چھین لی تھی۔ اس کا باپ کسان تھا۔ محنتی مگر قرضوں میں ڈوبا ہوا۔ ماں صبح سے شام تک چولہے اور کھیت کے درمیان پس جاتی تھی۔ عائشہ پڑھنا چاہتی تھی۔ کتابوں کی خوشبو اسے کسی اور ہی دُنیا میں لے جاتی تھی۔ مگر جب وہ آٹھویں جماعت میں تھی، تو باپ نے کہا، ’’لڑکی ہو، زیادہ پڑھ کر کیا کرو گی؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سسرال سے آگے....

اس دن عائشہ نے پہلی بار جانا کہ خواب بھی اجازت مانگتے ہیں۔
چند برسوں میں اس کی شادی طے ہوگئی۔ جس گھر میں وہ بیاہی گئی، وہاں خوشی کم اور ذمہ داریاں زیادہ تھیں۔ شوہر خاموش مزاج تھا، مگر اس کی خاموشی میں محبت نہیں، بے حسی تھی۔ عائشہ نے دل ہی دل میں سمجھوتے کی چادر اوڑھ لی۔
دن رات گزرتے گئے۔ وہ گھر سنبھالتی، سب کا خیال رکھتی، مگر کوئی اس کے دل کی خبر نہ لیتا۔ جب کبھی وہ نہر کے پاس آتی، تو پانی سے باتیں کرتی، ’’کیا میری زندگی بھی یوں ہی بہتی رہے گی، بے سمت؟‘‘
ایک سال قحط آیا۔ کھیت سوکھ گئے، قرض بڑھ گیا، اور عائشہ کا شوہر شہر کام کرنے چلا گیا۔ جاتے وقت بس اتنا کہہ گیا، ’’مَیں لوٹ آؤں گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : درد سے مسکراہٹ تک

مہینے گزر گئے، پھر سال۔ نہ خط آیا، نہ خبر۔ گاؤں والوں کی زبانیں چلنے لگیں۔ کسی نے کہا وہ کسی اور کا ہوگیا ہے، کسی نے کہا وہ مر گیا ہے۔ عائشہ نے کسی کی بات کا جواب نہ دیا، بس صبر کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔
ماں باپ کی حالت بگڑتی گئی۔ عائشہ نے سلائی کا کام شروع کیا۔ دن کو محنت، رات کو چراغ کی مدھم روشنی میں سوئی دھاگا۔ اس کے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔
وقت کے ساتھ اس کا نام گاؤں میں عزت سے لیا جانے لگا۔ لوگ اس کی مضبوطی کی مثال دیتے۔ مگر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہر رات وہ پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ کر روتی ہے، بغیر آواز کے۔
ایک دن شہر سے ایک خط آیا۔ شوہر زندہ تھا، مگر اس نے واپس نہ آنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
خط کے الفاظ ٹھنڈے تھے، جیسے کسی اجنبی نے لکھے ہوں۔ عائشہ نے خط پڑھ کر اُسے تہہ کیا اور نہر میں بہا دیا۔
اس لمحے اس نے محسوس کیا کہ کچھ ٹوٹا نہیں، بلکہ آزاد ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : شہری راکھ

اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنی تقدیر خود لکھے گی۔ اس نے گاؤں کے بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ پہلے ایک بچی آئی، پھر دو، پھر پورا صحن بھر گیا۔ عائشہ کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی تھی، امید کی۔
برسوں بعد جب لوگ اس گاؤں کا ذکر کرتے تو کہتے، ’’یہ وہی گاؤں ہے جہاں ایک عورت نے ریت پر لکھی تقدیر کو علم کی سیاہی سے بدل دیا۔‘‘
اور پیپل کا درخت آج بھی کھڑا ہے، نہر آج بھی بہتی ہے، مگر عائشہ اب خاموش نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK