• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: سسرال سے آگے....

Updated: January 20, 2026, 4:57 PM IST | Nazneen Firdous | Mumbai

ہمیں ایسے بھرے پرے گھر میں شادی نہیں کرنی۔ بالکل بھی نہیں۔‘‘ ہم اپنی بہن کی اس تجویز پر چلّا اٹھے۔ جس کے بقول لڑکی کی اصل زندگی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

’’ہمیں ایسے بھرے پرے گھر میں شادی نہیں کرنی۔ بالکل بھی نہیں۔‘‘ ہم اپنی بہن کی اس تجویز پر چلّا اٹھے۔ جس کے بقول لڑکی کی اصل زندگی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اور ہر لڑکی کی زندگی کا محور شادی، شوہر، بچے اور سسرال ہی ہوتا ہے اور سسرال کے آگے کچھ نہیں۔
’’خدا کا خوف کریں آپی۔ زندگی میں شادی اور سسرال کے آگے بھی کچھ ہوتا ہے۔‘‘ ہم نے انہیں شرمندہ کرنا چاہا۔ ’’ہاں ہوتا ہے۔ اور وہ بھاڑ ہوتا ہے جہاں تم جیسی لڑکیوں کو چلے جانا چاہئے۔ آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے۔‘‘
’’مسئلہ تو یہ ہے کہ یہ سسرال کم فوج زیادہ لگ رہی ہے۔ اور فوج کا مطلب ایک جرنیل قسم کی ساس، کرنل نما سسر اور نندو ں کی بریگیڈ ہو۔ اور اس محاذ میں ان سب کی مدد کو تایا زاد چچا زاد جیسے سسرالی رشتہ ہمیشہ موجود رہتے ہیں جو ہنگامی صورت حال میں کمک کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اور ہمیں نہتے سپاہی کی طرح ان سب سے مقابلہ کرنے کیلئے میدان جنگ میں بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اور.... اور....‘‘ ’’بس بس.... میری نہتی فوجی بہن۔ تم نے تو ایسا نقشہ کھینچ مارا کہ جی چاہتا ہے تمہیں پوری تیاری کے ساتھ ’مع اسلحہ جات‘ کے سسرال نامی میدان جنگ میں بھیج دوں تاکہ تم بالکل پسپائی نا اختیار کرو بلکہ فاتح بن کر لوٹو۔‘‘ آپی نے بھی بالکل ہمارے انداز میں جواب دیا۔ ’’مصالحہ جات؟‘‘ ہماری اردو ہمیشہ پریشان کرتی تھی۔ ’’اسلحہ جات یعنی ہتھیار....‘‘ آپی نے سَر پر ہاتھ مارا (اپنے)۔

یہ بھی پڑھئے: آپ نے کہانی پڑھی؟

’’اب جو بھی ہو۔ ہمیں اتنا پتہ ہے ہمیں ایسی فیملی میں شادی نہیں کرنی جہاں ہم پکا پکا کر ہی مر جائیں۔‘‘ ’’یعنی تم جنگ سے پہلے ہی ہتھیار ڈال رہی ہو۔‘‘ آپی نے ہمیں شرم دلانی چاہی۔
’’نہیں۔ ہم نقص امن کے خدشہ کے پیش نظر صلح کا جھنڈا لہرانا چاہتے ہیں۔‘‘ ہم نے کمال اطمینان سے کہا تھا اور آپی کسی بھی بحث سے بچنے کے لئے کمرے سے ہی واک آؤٹ کر گئی تھیں۔
ہمارے لئے شادی کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن سسرال.... وہ مسئلہ بن سکتا تھا یہ ہمیں لگ رہا تھا۔ اس لئے ہم کسی بڑے خاندان کی بہو بن کر نہیں جانا چاہتے تھے اور ہم یہی بات سب سے کہہ رہے تھے۔
’’چھوٹی فیملی ہو۔ ہیپی فیملی ہو۔‘‘ یہ ہمارا مطالبہ تھا جو امی آپی کو سخت ناگوار گزرا۔ ’’ہاں گنتی کے چار۔ تاکہ لوگ دیکھ کر کہیں کہ خاندان نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔‘‘ ’’اور آپ جو ہمارے لئے سوچ بیٹھی ہیں وہاں تو فوج کی پوری پلٹن ہے۔‘‘ ’’ہاں تو کیا ہوا۔ فوج مطلب رعب و دبدبہ۔‘‘ آپی نے معنی خیزی سے کہا تھا۔ امی نے ان کا ساتھ دیا تھا ۔ ’’ہاں اور نہیں تو کیا، ایک بڑے خاندان کی اہمیت تم کیا جانو۔ اچھے بُرے وقت میں یہ بڑے خاندان کتنے سودمند ہوتے ہیں تمہیں اندازہ نہیں....‘‘ اور چونکہ سچ میں ہمیں اندازہ نہیں تھا۔ اس لئے ہم خاموش ہوگئے تھے۔ اور ہماری یہ خاموشی شادی تک لے گئی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اس ’بڑی فیملی‘ کا حصہ بن چکے تھے۔ جہاں فیملی کے نام پر ایک پورا ’قصبہ‘ تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نئے سال میں اہلِ اُردو کی توقعات کیا ہیں؟

شادی کے دو ہفتہ تو بس سب ’’اچھا اچھا ہرا ہرا‘‘ ہی نظر آ رہا تھا۔ لیکن ’’ہرا ہرا نیلا نیلا‘‘ نظر آنا اس وقت شروع ہوا ۔ جب ہم صبح کا ناشتہ بنا رہے تھے تب ہماری ساس نے سسر صاحب کے لئے ناشتہ کا حکم دے دیا۔ ہم نے ’’جی امی‘‘ کہا اور ناشتہ بنانے میں جٹ گئے۔
چاول تیار تھے روٹی وہ کھاتے نہیں تھے، سالن گرم ہو رہا تھا۔ ہم نے پلیٹ لی اور چاول کی ڈش ٹیبل پر رکھ کر سالن لانے چلے گئے۔ سالن ابھی گرم نہیں ہوا تھا۔ بس دو منٹ لگے ہوں گے۔ جب سالن لے کر سسر صاحب کو دینے گئے تو ان کا ناشتہ ہوچکا تھا۔ اور وہ اب لیٹ بھی گئے تھے۔
’’ہائیں....‘‘ ہم سالن کا برتن پکڑے حیران کھڑے رہے۔ ’’ابا! ہم سالن لائے ہیں۔ آپ نے چاول کس کے ساتھ کھا لئے۔‘‘ ہم کچھ حیرانی سے بولے۔ ’’اوہ! تم اتنی دیر سے سالن لائیں۔ مَیں نے تو ایسے ہی کھا لیا۔ مجھے کھانے کی جلدی ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے اطمینان سے کہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اسے نہ پڑھئے پلیز

’’جلدی....‘‘ ہم نے ان کی پلیٹ دیکھی جسے وہ کھا کر رکھ چکے تھے۔
’’اتنی جلدی ہوتی ہے کہ بغیر سالن کے ہی چاول کھا لئے۔ الٰہی خیر....‘‘ ہم بھاگم بھاگ اپنے میاں کے پاس پہنچے۔ انہوں نے سن کر ہنس کر کہا، ’’ہاں! وہ ایسے ہی کرتے ہیں۔ کل پہلے سالن رکھنا اور پھر چاول۔ وہ وقت کے پابند ہیں اور وقت کے ساتھ چلنے پر یقین رکھتے ہیں اور کبھی کبھی وقت سے پہلے ہی بھاگنا عقلمندی سمجھتے ہیں۔ وہ ریلوے میں تھے۔ پتا تو ہے نا تمہیں۔‘‘ ’’اگر چاول سے پہلے سالن رکھا اور انہوں نے سالن یونہی پی لیا تو....‘‘ ہمارے منہ سے نکلا جس پر وہ گھور کر بولے، ’’ابا ہیں کوئی سالن پینے والے ڈریکولا نہیں۔ ‘‘
’’چلیں جی بات ختم۔‘‘ اور ہم دوسرے دن کی حکمت عملی سوچنے لگے جس سے وہ نہ روکھا چاول کھا سکیں اور نہ سالن پی سکیں....
ہمارے سسرال میں چار جیٹھ اور پانچ جیٹھانیاں تھیں۔ بھئی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک جیٹھ نے یونہی شوق میں دو شادیاں کر رکھی تھیں۔ اور پانچ نندیں۔ اور ان کے ڈھیرو ں بچے۔ ڈھیروں یوں کہ ہمیں ابھی تک یہ بالکل بھی یاد نہیں ہوا تھا کہ کس کو کتنے بچے ہیں اور لڑکیاں لڑکے کتنے ہیں اور ہر ہفتہ وہ لوگ اپنی ماں کی خیر خیریت کیلئے ضرور آ جاتے تھے۔ یہ اور بات تھی کہ اس سے ہماری خیریت مشکوک ہو جاتی تھی۔ یوں ایک مہینہ ہو تے ہوتے سسرال اور ساس نے ہمارے چودہ طبق روشن کر دیئے تھے۔

اس دن صبح صبح مہمان آگئے، وہ ہمیں مہمان لگے تھے لیکن مہمان اپنے آپ کو مہمان سمجھ ہی نہیں رہے تھے۔ پورے گھر میں یوں دندنا رہے تھے کہ اللہ کی پناہ۔ یہ اتنے سارے لوگ کون ہیں اور یہاں کیا کر رہے ہیں اور کیا ان سب کے لئے کھانا بھی پکانا پڑے گا۔ ہم تو ان مہمانوں کو دیکھ کر بیہوش ہوتے ہوتے بچے تھے۔ یہ ہماری ساس کے خالہ زاد بہن کے بیٹے بہوئیں وغیرہ تھیں اور ان کے ساتھ سات آٹھ بچے.... بچے پتا نہیں کتنے تھے ہم نے دو بار گنتی کی اور دونوں بار ایک مزید بچہ کہیں سے آنمودار ہوتا۔ اور ہم گنتی ہی بھول جاتے۔ آخر میں تنگ آکر ہم نے ان بچوں کو گننا ہی چھوڑ دیا۔ ہوں گے آٹھ دس....

ہماری ساس نے کھانا نکالنے کا حکم دیا اور ہم انہیں ہونق بن کر دیکھنے لگے۔ صبح جو سالن بنا تھا وہ اتنے لوگوں کے لئے نا کافی نظر آ رہا تھا مگر ساس صاحبہ نے خود ہی کچن میں آکر یہ مسئلہ یوں حل کیا کہ سالن میں سرخ مرچ اوپر سے ڈال دی۔ اور کچھ ہری مرچیں کاٹ کر ڈال دیں۔ اور خود باہر چلی گئیں۔ اور جب دسترخوان بچھا تو مہمان کھانے سے زیادہ پانی پی رہے تھے۔ اور جب کھانا ختم ہوا تو ہم نے دیکھا۔ سالن ابھی بھی جتنا تھا اتنا ہی تھا۔ شاید وہ ہماری ساس کے ہاتھوں کی برکت تھی۔ اور ہم ساس کی اس جنگی اور ہنگامی حکمت عملی کے قائل ہوگئے اور عش عش کر اٹھے۔

اس شام ہم کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آئے تو بیڈ کے قریب ٹیبل پر قلاقند کا پیکٹ رکھا دیکھا اور ہم حیران رہ گئے کہ یہ کہاں سے آیا۔ دل تو چاہا کہ کھول کر کھا لیں مگر شرم مانع آئی اور یہ بھی خیال تھا کہ کہیں ہماری ساس نے منگوا کر نہ رکھا ہو۔ یہ سوچ کر ہم وہ پیکٹ لے کر ایک اچھی بہو بننے کی چاہ میں اپنی ساس کے کمرے میں گئے جہاں سارے جیٹھ اور ہمارے میاں بھی بیٹھے بات چیت کر رہے تھے۔ ساس صاحبہ پلنگ پر اپنے پورے رعب و دبدبہ کے ساتھ بیٹھی تھیں۔

’’امی جی یہ قلاقند آپ نے منگوایا تھا۔‘‘ ہم نے وہ پیکٹ ان کی طرف بڑھایا اور اپنے میاں کو دیکھنے لگے جو عجیب عجیب اشارے کر رہے تھے۔

’’اوہ....‘‘ ہماری ساس نے وہ پیکٹ جھٹ پکڑ لیا۔ ’’نہیں، مَیں نے تو نہیں منگوایا تھا۔ شاید اشعر لے آیا ہو۔‘‘ انہوں نے اشعر کو خشمگیں نظروں سے گھورا جو اب سر جھکا گئے تھے جبکہ جیٹھ حضرات چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ لئے ہمارے میاں کو دیکھ رہے تھے جو اب کسی سے نظریں ملانے کو تیار ہی نہیں تھے۔ ’’اشعر....‘‘ اس سے پہلے کہ ہماری ساس کچھ کہتیں۔ ’’مَیں اب چلتا ہوں، امی صبح جلد جانا ہے۔‘‘ ہمارے میاں ہمیں کھینچ کر لے جاتے ہوئے بولے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : گھر تو آخر اپنا ہے....

’’کیا ہوا۔ ارے....‘‘ اپنے کمرے میں آتے ہی ہم کہہ اٹھے۔ ’’وہ قلاقند میں لایا تھا ہم دونوں کیلئے۔‘‘ ’’آپ لائے تھے تو وہاں کیوں رکھا تھا کمرے میں؟‘‘ ہم نے انہیں حیرانی سے دیکھا۔ ’’کم تھا اس لئے سب کو نہیں بتایا تھا چھپا کر لاکر رکھا تھا۔ اور تم نے سب کے سامنے شرمندہ ہی کر دیا۔‘‘ ’’اوہ....‘‘ ہم نے ٹھنڈی سانس بھری۔ اس آہ میں قلاقند نہ کھانے کا دکھ بھی شامل تھا۔

ہمیں کیا پتا تھا کہ چوری سے لاکر رکھا ہوا قلاقند ہمارے لئے ہی تھا۔ ہماری اپنی فیملی چھوٹی سی تھی۔ ہمارے خاندان کے لوگ دوسرے شہر میں رہتے تھے تو آنا جانا بھی نہیں تھا بس کبھی کبھی چچا وغیرہ آجاتے تھے۔ اور ابو نے کبھی اس قسم کے شارٹ کٹ استعمال نہیں کئے تھے تو ایک بھری پری فیملی کی نظروں سے بچا کر کوئی چیز لانا اور پھر اسے اکیلے ہضم کرنا ہماری جیسی خاتون کیلئے تو ایک ’ننجا ٹیکنک‘ ہی لگی تھی۔ اور میاں کی اس ’ننجا ٹیکنک‘ سے ہم یکسر انجان تھے۔ اسطرح ہم ایک بھرے پرے سسرال میں آکر وہ کچھ سیکھ رہے تھے جو ہم کسی درسی کتب سے کبھی سیکھ نہیں سکتے تھے۔

اس دن اشعر اپنے ہنی مون کا پلان بنا رہے تھے اور ہم نے دیکھا وہ سب اپنے اپنے پلان بنانے لگ پڑے تھے۔ دو نندوں نے اسی وقت اپنا پلان قطعی کر لیا کہ ہمارے ساتھ ان لوگوں نے بھی آنا ہے۔ اور دو جیٹھوں نے اپنی اپنی ٹانگیں اڑائیں کہ یہاں نہیں وہاں جائیں گے۔ کافی دیر بحث مباحثے ہوتے رہے اور ہم سب کو لڑتے دیکھ رہے تھے۔ اور ہمارا گھر ’بگ باس‘ کے گھر کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔ آخرکار ہمارے گھر کی ’بگ باس‘ یعنی ہماری ساس نے قطعی فیصلہ صادر کیا کہ جانا تو بس شمالی علاقہ جات ہی ہے۔ چاہے گرمیاں ہوں یا سردیاں۔ اور وہ خود بھی ہمارے ساتھ چلیں گی۔ سسر صاحب کہاں پیچھے رہتے۔ انہوں نے بھی ساتھ آنے کا اعلان کیا ورنہ ان کی جانب سے جنگ کی دھمکی تھی جس پر سب نے بادل نخواستہ رضامندی دی۔ ہم دونوں میاں بیوی سر ہلاتے اپنے کمرے میں آگئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک

’’یہ سب لوگ کیوں آرہے ہیں؟‘‘ ہم نے جھلا کر اپنے میاں کو دیکھا۔ ’’ہنی مون منانے۔‘‘ وہ شرمندہ سے بولے۔ ’’ہم دونوں کے ساتھ؟‘‘ ہم نے آنکھیں نکالیں۔ ’’سب کئی دنوں سے پلان کر رہے تھے کہ ہماری شادی کے بعد گھومنے جائیں گے تو....‘‘ وہ دبے دبے لہجے میں بولے۔ ’’اور تو اور ابّا جی بھی آ رہے ہیں....‘‘ ہم نے دہائی دی۔

’’ان کے ساتھ تو بس.... ’دوڑا دوڑا بھا گا بھاگا‘ والی کیفیت ہی رہے گی۔ وقت سے زیادہ تیز رفتار تو وہ خود ہیں۔‘‘ ہم رونے پر آگئے۔

’’کوئی بات نہیں۔ ایک اور ہنی مون ہم اکیلے منائیں گے۔‘‘ ان کا خوشامدی لہجہ۔

’’ہاں۔ اور اکیلے مطلب بالکل اکیلے جائیں گے ہم جیسے کنگنا گئی تھی۔‘‘ ہم نے ایک ہیروئن کی جانب اشارہ کیا تھا جو فلم میں اکیلی ہنی مون پر گئی تھی۔ اور خود اٹھ گئے تھے۔

اس طرح ایک بھرے پرے خاندان کے ساتھ ہنی مون منا کر جب واپس آئے تو اتنا ہی سمجھ میں آیا کہ سسرال کے آگے پیچھے سسرال ہی ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK