Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: سناٹوں کی آواز

Updated: April 28, 2026, 2:03 PM IST | Dr. Asma Rahmatulla | Mumbai

ریحانہ میڈم اپنی کلاس میں بیٹھی رہ گئیں۔ پنکھے کی ہلکی سی گھومتی آواز، کھڑکی سے آتی دھوپ کی آخری لکیر، بلیک بورڈ پر چاک کی سفید لکیریں.... یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بنا رہے تھے جو دل کو چھو لیتا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دوپہر کی آخری گھنٹی بجی تو اسکول کی فضا میں ہلچل سی مچ گئی۔ بچوں کی آوازیں، بستوں کی کھڑکھڑاہٹ، دوستوں کو آخری بار پکارنے کی جلدی، کسی کا پانی کی بوتل ڈھونڈنا، کسی کا کاپی بھول جانا.... چند لمحوں کے لئے ایسا لگا جیسے پورا اسکول ایک زندہ وجود بن کر سانس لے رہا ہو۔ پھر آہستہ آہستہ یہ شور دروازوں سے باہر نکل گیا۔ قدموں کی چاپ کم ہوئی، آوازیں دھیمی پڑیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا اسکول خاموش ہوگیا۔

ریحانہ میڈم اپنی کلاس میں بیٹھی رہ گئیں۔ پنکھے کی ہلکی سی گھومتی آواز، کھڑکی سے آتی دھوپ کی آخری لکیر، بلیک بورڈ پر چاک کی سفید لکیریں.... یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بنا رہے تھے جو دل کو چھو لیتا تھا۔

میز پر ایک چھوٹا سا ربڑ، ایک بچے کی ادھ کھلی کاپی، اور کرسی کے نیچے گری ہوئی پینسل.... جیسے یہ سب ابھی بھی اپنے مالک کا انتظار کر رہے ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: اوقات

ریحانہ میڈم نے آہستہ سے سانس لی۔ یہ چھٹی کے بعد کا سناٹا ہمیشہ ان کے دل میں اتر جاتا تھا۔ انہیں لگتا جیسے ابھی ابھی زندگی یہاں سے اٹھ کر چلی گئی ہو، اور پیچھے صرف یادوں کی دھول رہ گئی ہو۔

وہ اسی خاموشی میں ڈوبی تھیں کہ اچانک ان کے ذہن میں ایک اور منظر ابھرا.... ان کی بیٹی مریم کی رخصتی کا دن۔

گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ خواتین کی سرگوشیاں، بچوں کی ہنسی، برتنوں کی کھنک، دعاؤں کی صدائیں.... ہر طرف ایک عجیب سی رونق تھی۔ مریم سرخ جوڑے میں بیٹھی تھی، نظریں جھکی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ ریحانہ میڈم بار بار اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں، جیسے اس لمحے کو دل میں قید کر لینا چاہتی ہوں۔

پھر رخصتی کا وقت آیا۔ کسی نے دعا دی، کسی نے گلے لگایا، کسی نے آنسو پونچھے۔ گاڑی کے دروازے بند ہوئے، ہاتھ ہلے، دعائیں بلند ہوئیں اور گاڑی آہستہ آہستہ دور ہونے لگی۔ ریحانہ میڈم کے قدم جیسے زمین سے جڑ گئے۔ وہ بس دیکھتی رہیں۔ گاڑی مڑ گئی.... اور پھر سب ختم ہوگیا۔

چند لمحوں بعد گھر میں ایک عجیب سی خاموشی اتر آئی۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک جو صحن قہقہوں سے گونج رہا تھا، وہاں اب صرف ہوا کی آواز تھی۔ کرسی پر پڑا دوپٹہ، میز پر رکھی آدھی پی ہوئی چائے، دروازے کے پاس مریم کی چھوڑ دی گئی چپل.... ہر چیز جیسے رخصتی کی کہانی سنا رہی تھی۔ اس دن ریحانہ میڈم نے پہلی بار محسوس کیا کہ خوشی کے بعد آنے والا سناٹا سب سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ادھوری خواہشوں کا سفر

ریحانہ میڈم نے آنکھیں بند کیں تو ایک اور یاد ان کے سامنے آ گئی.... وہ دن جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تھا۔

گھر میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ کوئی قرآن پڑھ رہا تھا، کوئی تسلی دے رہا تھا، کوئی خاموش بیٹھا آنسو پونچھ رہا تھا۔ وقت جیسے تھم گیا تھا۔ پھر اچانک میت اٹھائی گئی۔ دعاؤں کی آوازیں بلند ہوئیں، قدموں کی چاپ سنائی دی، دروازہ بند ہوا.... اور لوگ آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگے۔

کچھ ہی دیر بعد گھر خالی ہوگیا۔ وہ کمرہ جہاں والدہ لیٹی تھیں، خاموش ہوگیا۔ تکیہ ویسے ہی رکھا تھا، چارپائی خالی تھی، اور کھڑکی سے آتی روشنی میں گرد کے ذرّے تیر رہے تھے۔ ریحانہ میڈم نے محسوس کیا کہ یہ خاموشی عام خاموشی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی ویرانی تھی جس میں یادیں بولتی ہیں۔

اسکول کی راہداری میں قدموں کی آواز گونجی تو وہ حال میں لوٹ آئیں۔ وہ آہستہ آہستہ باہر نکلنے لگیں۔ میدان خالی تھا۔ جھولا ہلکا سا ہل رہا تھا، جیسے ابھی کسی بچے نے چھوڑا ہو۔

اسی لمحے انہیں ایک ویران ریلوے اسٹیشن یاد آگیا۔ شام کا وقت تھا۔ چند مسافر بنچوں پر بیٹھے تھے۔ پھر ٹرین آئی، شور ہوا، دروازے کھلے، لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔ چند لمحوں بعد ٹرین روانہ ہوگئی۔ جیسے ہی آخری ڈبہ نظروں سے اوجھل ہوا، پلیٹ فارم پر گہری خاموشی اتر آئی۔ ہوا نے اخبار کے ایک ٹکڑے کو اُڑایا، دور کتّا بھونکا، پھر سب خاموش۔

وہ خاموشی عجیب تھی، جیسے کسی نے وقت کو روک دیا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سود و زیاں

ریحانہ میڈم کو یاد آیا کہ مہمانوں کے جانے کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کچھ دیر پہلے تک گھر میں قہقہے گونجتے ہیں، چائے کے کپ ادھر ادھر رکھے ہوتے ہیں، بچے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ پھر ایک ایک کرکے سب رخصت ہو جاتے ہیں۔ دروازہ بند ہوتا ہے، کمرے سمیٹے جاتے ہیں اور گھر خاموش ہو جاتا ہے۔ اس خاموشی میں دل جیسے کسی کی کمی محسوس کرتا ہے۔

ریحانہ میڈم اسکول کے گیٹ سے باہر نکلیں۔ شام ڈھل رہی تھی۔ ہوا میں خنکی تھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ زندگی میں کچھ سناٹے ایسے ہوتے ہیں جو دل پر نقش بن جاتے ہیں۔ یہ سناٹے دراصل رشتوں کی گہرائی کا ثبوت ہوتے ہیں۔ جو جتنا حساس ہوتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ انہیں محسوس کرتا ہے۔

گھر پہنچ کر انہوں نے دروازہ کھولا۔ اندر ہلکی سی خاموشی تھی۔ انہوں نے بیگ رکھا اور صحن میں بیٹھ گئیں۔ آسمان پر شام کے رنگ پھیل رہے تھے۔ انہیں لگا جیسے زندگی بھی انہی رنگوں کی طرح ہے.... کبھی شور، کبھی خاموشی، کبھی ہنسی، کبھی اداسی۔

اُن کے دل میں خیال گزرا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کچھ کفارے کبھی ادا نہیں ہوتے

اسکول میں چھٹی کے بعد کا سناٹا....

دلہن کی رخصتی کے بعد کی اُداسی....

میت کے اٹھ جانے کے بعد گھر کی ویرانی....

ویران ریلوے اسٹیشن سے ٹرین کے چلے جانے کے بعد کی خاموشی....

اور مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد دل کی خالی جگہ....

یہ سب زندگی کے وہ لمحے ہیں جو ہمیں احساس سکھاتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ رشتے صرف موجودگی کا نام نہیں، بلکہ جدائی کے بعد رہ جانے والی خاموشی بھی رشتوں کی گہرائی بیان کرتی ہے۔

ریحانہ میڈم نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے مسکرا دیں۔ انہیں محسوس ہوا کہ سناٹے دراصل خالی نہیں ہوتے، ان میں یادوں کی آوازیں چھپی ہوتی ہیں.... اور صرف حساس ترین لوگ ہی انہیں سن سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK