’’نہیں ریانہ، تم نہیں۔‘‘ مَیں جلدی سے بولا کیونکہ مَیں اس کی زبان سے واقف تھا وہ اماں سے جس طرح سے بات کرے گی اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلنے والا تھا۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 4:56 PM IST | Irfana Tazeen Shabnam | Mumbai
’’نہیں ریانہ، تم نہیں۔‘‘ مَیں جلدی سے بولا کیونکہ مَیں اس کی زبان سے واقف تھا وہ اماں سے جس طرح سے بات کرے گی اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلنے والا تھا۔
ریانہ اور اماں کی رنجشوں سے تنگ آکر یا پھر گھبرا کر مَیں نے فیصلہ کر لیا کہ آج اماں سے بات کر ہی لیتا ہوں۔ ریانہ کا اصرار بھی روز بہ روز بڑھتا ہی جا رہا تھا اور مَیں چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پس رہا تھا۔ آفس سے تھکا ماندہ گھر آتے ہی میں صوفے پر جوتوں سمیت ڈھے سا گیا۔ اماں سے بات کرنے کی ہمت جٹانا کوئی مشکل کام نہ تھا میری اماں تو محبتوں سے گندھی ہوئی تھیں میری مجبوریوں کو مجھ سے زیادہ سمجھ لیتیں حالانکہ بابا نے گھر کی ساری ذمہ داریوں کے علاوہ گھر کے سارے فیصلوں کا حق بھی انہیں عطا کر دیا تھا۔ ریانہ میری زندگی کی اولین چاہت تھی جسے مَیں نے دیوانہ وار چاہااور پا بھی لیا۔ اماں نے میری خواہش کو مقدم رکھا۔
’’چائے....‘‘
ریانہ کی آواز پر مَیں نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔ بھاپ اُڑاتی چائے میرے ہاتھوں میں تھما کر وہ وہیں بیٹھ گئی۔
’’دیکھو زمان! تم اماں سے بات کرتے ہو یا پھر مَیں خود کر لوں۔‘‘
’’نہیں ریانہ، تم نہیں۔‘‘ مَیں جلدی سے بولا کیونکہ مَیں اس کی زبان سے واقف تھا وہ اماں سے جس طرح سے بات کرے گی اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلنے والا تھا۔
’’تو پھر جلدی کرو۔ میرا یہاں دم گھٹتا ہے۔‘‘ اس کی ممبئی شفٹ ہونے کی خواہش شدید تر ہوتی جارہی تھی جہاں پتہ نہیں اس کے کون کون سے دوست مقیم تھے۔
میرا بھی خیال تھا کہ وہاں اچھی نوکری مل جائے گی یہاں گاؤں میں رکھا ہی کیا تھا وہاں میرا دیرینہ دوست بھی تھا جو ہمیشہ مجھے ممبئی سیٹل ہوجانے کی پیشکش کرتا رہتا۔ ’’تم یہاں ایک بار آکر تو دیکھو زمان۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ادھوری خواہشوں کا سفر
وہ ہر طرح سے میرا ساتھ دینے لئے تیار تھا۔ پھر مَیں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ گاؤں چھوڑ کر ممبئی شفٹ ہو جاؤں۔ بات پھر آکر اماں پر ٹھہر گئی۔ وہ گاؤں چھوڑ کر ہمارے ساتھ آئیں گی یا نہیں؟ یہ بعد کی بات تھی، بڑا مسئلہ رہائش کا تھا۔ ممبئی کے فلیٹس تو یوں بھی چھوٹے ہوتے ہیں جہاں ریانہ کا اماں کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا مشکل تھا۔
مَیں چائے کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرتے ہوئے اماں سے بات کرنے کا سرا ڈھونڈ رہا تھا۔
***
پردہ سرکا کر مَیں کمرہ میں داخل ہوا تو اماں تسبیح کے دانے گھما رہی تھیں جونہی ان کی نظر مجھ پر پڑی ان کے صبیح چہرے پر مامتا کی چاندنی بکھر گئی۔
’’آؤ بیٹا!‘‘ ان کا لہجہ محبتوں سے گندھا ہوا تھا۔ مَیں ان کے قریب آکر بیٹھ گیا۔
’’کچھ پریشان ہو؟‘‘ انہوں نے میرے ماتھے پر آئے پسینے کی بوندوں کو اپنے دوپٹے سے صاف کیا۔
’’آں.... ہاں اماں! میرا مطلب نہیں۔‘‘ مَیں گڑبڑا گیا۔
’’چائے پی تم نے؟‘‘
’’ہاں اماں ابھی پی کر آیا ہوں۔ اماں وہ آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔‘‘
’’کہو بیٹا؟‘‘
’’وہ اماں! مَیں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم لوگ ممبئی شفٹ ہوجائیں۔ آپ تو جانتی ہی ہیں نا اماں کہ مَیں یہاں کچھ بھی ٹھیک سے نہیں کر پا رہا ہوں وہاں شاید کچھ کر لوں، آخر انصاربھی تو ہے وہاں پر بس اسی کے اصرار پر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔‘‘
’’اور ریانہ؟‘‘ اماں نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’وہ میرے بغیر کہاں رہ سکتی ہے اماں، آپ تو جانتی ہیں میں کچھ خجل سا ہوگیا۔‘‘
’’کب جا رہے ہو بیٹا؟‘‘ ان کے لہجہ میں ایک لمبے سفر کی تھکان تھی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سود و زیاں
’’بہت جلد اماں لیکن وہ....‘‘ میری ادھوری بات پر استفہامیہ نظروں سے مجھے دیکھا ’’وہاں پر جو فلیٹ ہے میرا مطلب گھر بہت چھوٹا ہے صرف ایک بیڈروم والا تو....‘‘ مَیں آگے نہیں بول پایا اور نظریں چرا لیں۔
’’ٹھیک ہے بیٹا! مَیں تمہاری مجبوری سمجھ سکتی ہوں۔ مَیں یہیں رہوں گی اور پھر یہاں کی مٹی سے الگ بھی تو نہیں ہوسکتی۔ تمہارے پاپا کی یادیں بھی تو لپٹی ہیں یہاں کے در و دیوار سے۔‘‘ وہ خلاؤں میں دیکھتی ہوئی بولیں۔
’’لیکن اماں گھر کا پیسہ اٹھا کر ہی تو اس گھر کا بندوبست کرنا پڑے گا۔ آپ تو جانتی ہیں کہ میری تنخواہ کتنی ہے۔‘‘ میری بات پر انہوں یکبارگی اپنا جھکا ہوا چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھا۔
’’زمان تم....؟‘‘ آگے وہ کچھ نہ کہہ پائیں شاید وہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ میں کہاں رہوں گی....؟
’’گلستان بہت اچھی جگہ ہے اماں! بس کچھ دنوں کی بات ہے جب مَیں سیٹل ہوجاؤں گا اور اچھی رہائش کا بندوبست کرلوں گا تو فوراً آپ کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔‘‘
’’گلستان....‘‘ انہوں نے زیر لب کہا۔ ان کی آنکھوں میں ایک سایہ سا لہرایا۔
’’ہاں، ہمارے گاؤں کا سب سے خوبصورت ہوم جہاں بوڑھے لوگ ہی نہیں یتیم و لاوارث بچے بھی رہتے ہیں جس کی وجہ سے بالکل گھر کا ماحول بن جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: یادوں کی روشنی
مَیں نے اماں کو طفلانہ تسلی دی مگر وہ کہیں دور خلاؤں میں دیکھ رہی تھیں۔ مَیں چپ چاپ وہاں سے آٹھ آیا۔
آگے کچھ اور کہنے کیلئے میرے پاس الفاظ بھی نہیں تھے اور جو کچھ کہنا تھا وہ تو مَیں نے کہہ دیا تھا۔
ریانہ بہت خوش تھی کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو پوری ہونے جا رہی تھی۔ اماں تو بہت اچھی تھیں پھر پتہ نہیں کیوں ریانہ کی ان کے ساتھ سرد جنگ ہمیشہ جاری رہتی۔
’’اُف زمان....! کتنا اچھا لگے گا جب صرف ہم دونوں ہوں گے اور تیسرا کوئی نہیں....‘‘ اس نے آنکھیں بند کرلیں ’’یہ خیال ہی کتنا کیف آگیں ہے!‘‘
’’اب بس بھی کرو....‘‘ میرے لہجے میں اکتاہٹ تھی۔
پتہ نہیں کیوں اماں سے بات کرنے کے بعد دل میں ایک خلش سی تھی۔ مجھے میرے بچپن کے وہ دن یاد آگئے جب دن بھر اماں میرے پیچھے بھاگتی رہتیں میں اپنی من مانیاں کرتا پھرتااپنی ضدیں منواتا جب تھوڑا بڑا ہوا تب بھی وہ باتیں جنہیں براہ راست بابا سے کہنے کی ہمت نہ ہوتی وہ اماں سے کہلواتااور بابا کی، اماں سے بےپناہ محبت ہی تھی جو وہ ہنس کراماں کی ہر بات مان لیتے۔ مجھے اس بات کا زعم تھاکہ اماں اور بابا کے پیار کا میں بلا شرکت غیرے مالک تھا لیکن اماں کا وہ مان (کہ وہ بھی میری محبتوں کی بلا شرکت غیرے مالک تھیں) میں نے اسی دن توڑ دیا جب ریانہ میری زندگی میں آئی۔
موبائل بج رہا تھا سگریٹ ایش ٹرے میں ڈالتے ہوئے میں نے موبائل ریسیو کیا دوسری طرف انصار تھا اس سے بات کرنے کے بعد میں ریانہ کی طرف آ گیا۔
’’تم نے تیاریاں تو مکمل کر لی ہیں نا؟‘‘
’’ہاں! سب کچھ تیار ہے.... بس تم گلستان والوں سے بات کرکے اماں کو چھوڑ آؤ....‘‘ وہ چہک رہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: آجاؤ....
پھر مَیں نے اماں سے بھی کہہ دیا کہ دوچار دن میں وہ اپنا سامان باندھ لیں۔ انہیں چھوڑنے کے بعد ہی ہم لوگوں کا جانا ممکن ہوگا ان کا سامان تھا بھی کتنا، ایک ہی بیگ میں آگیا۔ سارے انتظامات مکمل ہوچکے تھے بس اماں کی کچھ دوائیاں لینی تھیں جو اماں کو لے جاتے ہوئے میڈیکل شاپ سے لینا تھا۔ گھر سے نکلتے ہوئے اماں کا چہرہ ایک دم سپاٹ تھا بس ایک گہری نگاہ مجھ پر ڈالی گویا کہہ رہی ہوں ’’ریانہ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی تو کیا میں تمہارے بغیر جی پاؤں گی؟‘‘ مَیں نے نظریں چرا لیں۔ راستے میں میڈیکل شاپ سے اماں کی دوائیاں لے کر جیب میں ڈال لیں۔ گلستان کی سربراہ صغریٰ آنٹی لگ بھگ اماں کی ہم عمر تھیں۔ اندر جانے کے بعد یکبارگی اماں نے مجھے خود سے لپٹا لیا پھر میری پیشانی چومتے ہوئے بولیں ’’اپنا خیال رکھنا۔‘‘
مَیں شرمندہ سا ہوگیا یہ تو مجھے کہنا تھا پھر میں نے طفلانہ تسلی دی ’’مَیں جلد ہی آکر آپ کو لے جاؤں گا۔ آپ بھی اپنا خیال رکھیں۔‘‘ پھر مَیں تیزی سے مڑا اور باہر نکل آیا۔ ریانہ کی کال مسلسل آ رہی تھی جسے میں اماں کے سامنے ڈسکنیکٹ کرتا رہا۔ اب جیسے ہی ریسیو کیا اس کی تجسس سے بھری آواز آئی ’’چھوڑ آئے اماں کو؟‘‘
’’اب اتنی بھی عجلت اچھی نہیں....‘‘ مَیں نے جھلا کر کہا۔
پتہ نہیں کیوں دل عجیب سا ہو رہا تھا سگریٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو پتہ چلا کہ اماں کی دوائیاں تو جیب میں ہی رہ گئی ہیں۔ میں پھر واپس گلستان کی طرف چل پڑا جیسے ہی اندر داخل ہوا تودیکھا کہ اماں اندر باغیچے میں بیٹھیں لاوارث بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔
’’آنٹی! یہ اماں کی دوائی دینا بھول گیا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے لاؤ۔‘‘ انہوں نے ہاتھ بڑھایا ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔
’’کیا بات ہے آنٹی سب ٹھیک تو ہے؟‘‘ مَیں نے ایسے ہی پوچھ لیا۔
’’ہاں بیٹے!‘‘ وہ بھیگی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں ’’تاہم، تم نےاتنی اپنائیت کے ساتھ پوچھا کہ سوچتی ہوں بتا ہی دوں۔‘‘
’’ضرور....‘‘ مجھے جلدی جانا تھا بہت سے کام نپٹانے تھے۔ تاہم، تجسس نے جانے نہ دیا۔
’’برسوں پہلے ایسی ہی بھری دوپہر میں جب میں نئی نئی کام پہ لگی تھی کچھ لوگ ایک بچے کو لے کر آئے وہ اتنا چھوٹا تھا کہ رونے کے علاوہ کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔ لوگوں نے اس بچے کو سڑک کے کنارے پڑے کباڑ سے اٹھایا تھا۔ پتہ نہیں وہ کیسی بےحس عورت تھی جو اپنے معصوم بچے کو کچرے میں پھینک کر گئی تھی۔ مَیں نے اس کو گلستان میں پناہ دے دی۔ دوسرے ہی دن ایک عورت آئی جو کسی بچے کو گود لینا چاہتی تھی۔ ہم نے اسے سارے بچے دکھائے لیکن اس عورت نے اسی بچے کو چنا جو ایک دن پہلے کباڑ میں ملا تھا۔ اس کے بعد اتفاق ہی تھا کہ اس عورت سے کہیں نہ کہیں ملاقات ہوتی ہی رہی۔ اس عورت نے اس بچے پر زندگی کی ساری رعنائیاں اور لطافتیں لٹا دیں۔ محبت، اپنائیت، مامتا، گھر سب کچھ.... اسے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیا لیکن....‘‘ وہ بولتے بولتے رک گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کچھ کفارے کبھی ادا نہیں ہوتے
’’لیکن کیا آنٹی؟‘‘ میرا تجسس عروج پر تھا۔
’’....لیکن آج وہ بچہ اتنا بڑا ہوگیا اس عظیم ماں کو اس لئے گلستان چھوڑ گیا کہ اس کے گھر میں اپنی ماں کے لئے جگہ نہ تھی....‘‘ صغریٰ آنٹی کی بھیگی نگاہیں میرے سراپے پر آکر ٹک گئیں۔
وہ اور نہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھیں ان کا لفظ لفظ مجھے تحت الثریٰ میں اتارتا جا رہا تھا۔ مَیں وہیں بیٹھتا چلا گیا مجھ میں اتنی بھی سکت نہ تھی کہ دوڑ کر اماں کے پیر ہی پکڑ لیتا!