دولت ِلب سے پھر اے خسروِ شیریں دہناں

Updated: March 20, 2021, 11:44 AM IST | Shahid Latif

الفاظ کا بہتر استعمال وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اِن کی طاقت سے واقف ہوں، جنہیں ان کی تاثیر کا علم ہو۔ بدلتے وقت کے ساتھ یہ چیزیں بے معنی لگتی ہیں مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔

languages - Pic : INN
زبانیں ۔ تصویر : آئی این این

گزشتہ ہفتے کے مضمون میں ایک قصہ طوالت کے ڈر سے ضبط تحریر میں نہیں لایا گیا تھا، پہلے وہ سن لیجئے
 ایک بادشاہ نے خواب دیکھا کہ اُس کے سارے دانت ٹوٹ گئے ہیں۔ آنکھ کھلی تو وہ بہت پریشان ہوا۔ صبح کو اُس نے شہر کے ایسے شخص کو دربار میں حاضر کرنے کیلئے کہا جو خواب کی تعبیر بتاتا ہو۔ ایک معبر حاضر کیا گیا۔ اُس نے خواب سنا اور سن کر خاموش ہوگیا۔ بادشاہ کی پریشانی بڑھ گئی۔ پوچھا کیا بات ہے۔ تعبیر بتانے والے نے کہا یہ زبان عاجز ہے، جرأت نہیں کرسکتی۔ بادشاہ نے کہا اجازت ہے، کوئی سزا نہیں ہوگی۔ تعبیر بتانے والے نے ڈرتے ڈرتے کہا بادشاہ سلامت میرا علم کہتا ہے کہ آپ کی زندگی میں آپ کے تمام اہل خانہ فوت ہوجائینگے۔ 
 بادشاہ جو پریشان تھا، یہ تعبیر سن کر زیادہ پریشان ہوا۔ اس نے تعبیر بتانے والے دوسرے شخص کو بلا بھیجا۔ وہ دربار میں حاضر ہوا۔ خواب سنا۔ خاموش ہوگیا۔ بادشاہ نے کہا جو تمہارا علم کہتا وہ بتاؤ، تمہیں اجازت ہے، کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ اُس نے ہمت کی مگر  وہی تعبیر بتائی جو پہلا شخص بتا چکا تھا۔ بادشاہ کی پریشانی حد سے تجاوز کرگئی۔ ایک وزیر نے کہا فکر نہ کیجئے آپ کی مملکت میں تعبیر بتانے والا ایک شخص ایسا ہے جس نے کبھی غلط تعبیر نہیں بتائی۔ 
 تیسرے معبر کو حاضر کیا گیا۔ اُس نے خواب سنا اور کچھ دیر خاموش رہا۔ اس سے پہلے جن دومعبروں کو خواب سنایا گیا تھا خاموش تو وہ بھی ہوئے تھے مگر اُن کے چہرے پر تشویش اور فکرمندی کے آثار تھے۔ اِس معبر کے چہرے پر سکون تھا۔ بادشاہ نے کہا سزا کے خوف سے بالاتر ہوکر بتاؤ تمہارا علم کیا کہتا ہے۔ معبر نے کہا جہاں پناہ، مَیں مبارکباد دینا چاہتا ہوں، آپ اپنے اہل خانہ میں سب سے طویل عمر پائیں گے۔ بادشاہ اس جواب سے مطمئن ہوا اور اس تیسرے معبر کو  انعام و اکرام سے نواز کر دربار سے رخصت کیا۔ 
 غور فرمائیے پہلے دو معبروں اور تیسرے معبر کی بتائی ہوئی تعبیر میں فرق کیا ہے؟ پہلے دو نے کہا تھا آپ کی زندگی میں آپ کے تمام اہل خانہ فوت ہوجائینگے۔ تیسرے نے کہا آپ سب سے لمبی عمر پائیں گے۔ مفہوم تو ایک ہی ہے۔ پھر کیا ہوا کہ پہلے دو کی بات سن کر بادشاہ تشویش میں مبتلا ہوا اور تیسرے کی بات سن کر مطمئن؟ 
 فرق آپ نے محسوس کرلیا ہوگا۔ الفاظ کے صحیح انتخاب سے تیسرا معبر انعام و اکرام کا حقدار بنا جبکہ پہلے دو کو  لب کشائی کی اجازت نہ مل گئی ہوتی تو ممکن تھا کہ اُن کیلئے سخت سزا تجویز کی جاتی۔ معلوم ہوا کہ الفاظ جان لینا کافی نہیں۔ کسی بھی لغت کے چھوٹے بڑے تمام الفاظ کی اپنی طاقت ہوتی ہے، مثبت یا منفی۔ ان کی طاقت کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہے اور اِس سے بھی زیادہ ضروری ہے اُن کی تاثیر کا ادراک کرنا۔
  انسان اپنے لئے  اعلیٰ معیاری چیزیں چاہتا ہے۔ لباس خریدتا ہے تو بہتر دکان سے۔ کھانا کھاتا ہے تو بہتر ریستوراں میں۔ مکان خریدتا ہے تو بہتر علاقے میں۔ سیروتفریح کیلئے جاتا ہے تو بہتر مقام پر۔ ہر جگہ اسے معیار کی تلاش ہوتی ہے۔ یہی نہیں وہ دوسروں کے حسن ِ معیار سے استفادہ بھی کرتا ہے۔ اس کے باوجود اکثر لوگ  الفاظ کے معیار پر غور نہیں کرتے۔ اعلیٰ معیاری الفاظ اسی لئے اپنی مقبولیت کھوتے جارہے ہیں۔ ’’اعلیٰ معیاری‘‘ سے مراد وہ تمام الفاظ جو کانوں میں رس گھولتے ہیں، تالیف قلب کا باعث ہوتے ہیں، مرہم بنتے ہیں، مخاطب کے مزاج کو شگفتگی عطا کرتے ہیں، سیدھے دل میں اُترتے ہیں اور ماحول کو مثبت توانائی عطا کرتے ہیں۔ دُنیا نے اس کی اہمیت کو جانا اسی لئے ’’معذور‘‘ کیلئے استعمال کیا جانے والا انگریزی لفظ ترک کردیا گیا۔ اب ایسے لوگوں کو ’’بہ انداز دِگر باصلاحیت‘‘ (Differently Abled)کہا جانے لگا ہے۔ انگریزی زبان بولنے والے تسلسل کے ساتھ بہتراور اعلیٰ معیاری الفاظ کو رائج کرتے جارہے ہیں، مگر دیگر زبانوں کے لوگوں کو اس کی جستجو نہیں ہے یا کم ہے کیونکہ اُن کے خیال میں جس کسی لفظ سے کام چل جاتا ہو،  چلا لینا چاہئے۔ اس معاملے میں اُردو اتنی خوش نصیب زبان ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک لفظ اس کی لغت اور ادبی و علمی کتابوں میں موجود ہے۔ یاد آیا فیض (احمد فیض) نے ایسے لوگوں کو، جن کے لبوں سے پھول جھڑتے ہوں ’’شیریں دہناں‘‘ قرار دیا تھا۔ یہاں چند ثانیوں کیلئے رُک جائیے اور غور کیجئے کیا خوبصورت لفظ (ترکیب) ہے۔ یہ نہ سمجھئے کہ فیض نے محبوب کو شیریں دہن کہا ہے۔ اُس کیلئے تو ’’خسرو ِشیریں دہناں‘‘ استعمال کرکے اس کے منصب کو بلند وبالا کردیا ہے (اس مضمون کا عنوان فیض کے مصرعے ہی سے مستعار ہے جس میں یہ ترکیب استعمال کی گئی ہے)۔ 
 صاحبو، ہماری زبان تشریف لائیے سے لے کر خوش آمدید تک، شاباش سے لے کر اقبال بلند ہو تک، سامعین کرام (بہت سے الفاظ کے ساتھ کرام) سے لے کر عرض مدعا یہ ہے کہ تک اور اجازت ہو تو .... سے لے کر معذرت چاہتا ہوں تک ایسے ہزاروں الفاظ اور فقروں سے مزین ہے جن کا نعم البدل معددوے چند زبانوں کے علاوہ کسی میں نہیں۔ اہل اُردو اُن کے استعمال سے بھلے ہی گریز کرنے لگے ہوں مگر آزما کے دیکھ لیجئے ان کی تاثیر نہیں بدلی۔ ان سے آج بھی نظر میں پھول مہکتے ہیں اور دل میں شمعیں جلتی ہیں۔  
 آپ جانتے ہیں، مشہور امریکی مصنف ڈیل کارنیگی نے ایک کتاب ۱۹۳۶ء میں لکھی تھی ’’لوگوں کو کس طرح دوست بنائیں اور اُن پر اثر انداز ہوں‘‘۔ یہ کتاب ساڑھے آٹھ دہائیوں (۸۵؍ سال) بعد بھی اُتنی ہی تعداد میں فروخت ہوتی ہے جتنی  اپنی اولین طباعت کے دور میں ہوئی تھی۔ وجہ کیا ہے؟ یہی کہ اس میں خوش گفتاری سے لے کر خوش اطواری تک بہت سی بہتر تدابیر سجھائی گئی ہیں۔ کارنیگی کے انتقال کو ۶۵؍ سال گزر گئے مگر کتاب کا ایک ایک صفحہ جی رہا ہے کیونکہ لوگوں کو اس کی ضرورت ہے۔ یہ  خام خیالی خام ہی ہے  کہ موجودہ دور میں اچھے الفاظ کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچنا بالکل ایسا ہے جیسے کوئی کہے کہ ہم نے آسمان کے تاروں کو  دیکھنا چھوڑ دیا ہے اس لئے ممکن ہے تارے اپنی چمک دمک کھو چکے  ہوں۔  آخر ہم پہلے سے فیصلہ کیوں کرلیتے ہیں کہ فلاں چیز بے معنی ہوگئی؟  ’’ٹیڈ ٹاک‘‘ (زیر نظر تصویر) مشہور اور مقبول کیوں  ہے؟ اس لئے کہ لوگ  اچھے الفاظ، اچھے خیالات  اور  اچھے آئیڈیاز سننے کیلئے بے چین رہتے ہیں، ہال کھچاکھچ بھرا رہتا ہے، وہ فری میں نہیں ٹکٹ خرید  کر آتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK