اک طرف بے بسی،اک طرف بے حسی ہو تو کیا کیجئے

Updated: May 01, 2021, 1:38 PM IST | Shahid Latif

اب ہر شخص کہہ رہا ہے کہ پہلی لہر کے بعد ہی دوسری لہر سے نمٹنے کی تیاری کی گئی ہوتی تو یہ نوبت نہ آتی۔ مگر کیا بے عملی ہی قصوروار ہے یا پس پشت کچھ اور بھی ہے؟

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

جہاں  جہاں بھی اس وقت لاک ڈاؤن ہے وہاں وہاں تاحد نظر سناٹا ہے، مناظر پر مردنی چھائی ہوئی ہے، زندگی کی رونق اور ہماہمی یرغمال بنی ہوئی ہے، لوگ گھروں میں مقید ہیں، پچھلے سال کے مقابلے میں خوف کم ہے مگر وحشت زیادہ ہے، احساسِ بے بسی ذہن کو ماؤف کئے دے رہا ہے، بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ احساس ڈرا رہا ہے کہ کچھ نہیں ہے، اسپتال نہیں ہے، بستر نہیں ہے، طبی عملہ نہیں ہے، آکسیجن نہیں ہے، وینٹی لیٹر نہیں ہے اور سب سے بڑی بات وہ سیاسی عزم نہیں ہے جو عوام کو احساسِ بے بسی سے نکال سکے۔
  آج سرزمین وطن کا ہر شہری یہ سوچ سوچ کر ہی پریشان ہورہا ہے کہ اگر اُسے یا اُس کے کسی عزیز کو کچھ ہوا تو کیا ہوگا؟ کل تک غریبوں کو دوا نہیں ملتی تھی، آج امیرانسان بھی اسپتال کے بیڈ کو ترس رہا ہے جو ایک بیڈ تو معمولی شے ہے، پورا اسپتال خریدنے کی طاقت رکھتا ہے۔ بے بسی اس حد تک پہنچ جائیگی یہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ حوصلہ اور اُمید انسان کا بڑا اثاثہ ہے۔ ان دوربینوں کے ذریعہ وہ مشکل حالات میں بھی عافیت کے جزیروں کو مرکز ِنگاہ بنائے رکھتا ہے اور پھر وہاں پہنچ کر کھلی فضا میں سانس لیتا ہے۔ مگر اب حال یہ ہے کہ حوصلہ اور اُمیدکے ریشم و کمخواب میں وباء نے اپنے منحوس نوکیلے پنجے گاڑ دیئے ہیں۔ کھلی فضا موجود ہے مگر سانس لینا دشوار ہے۔ وباء نے سانسوں میں دراڑیںڈال دی ہیں۔ 
 جس حکمت عملی کے ذریعہ وباء کی ہلاکت خیزی کو روکا جاسکتا تھا اُس میں حکمت تھی نہ عمل۔ پہلی بار وطن عزیز کے سادہ لوح باشندوں کو پتہ چلا کہ ۵؍ کھرب ڈالر کی معیشت کا خواب دیکھنے والے ہم لوگ تو آکسیجن سے بھی پیدل ہیں۔ اسپتالوں کی صحت بہتر اور مستحکم ہوتی تو انسانی صحت کی ضمانت ملتی۔ یہاں وباء کی زد میں آنے والے انسانوں کی سانسیں بعد میں اُکھڑنی شروع ہوئیں پہلے اسپتالوں کا دم ٹوٹا۔ ملک کے سادہ لوح باشندوں کو اپنے تخیل میں ماہرین کا یہ انتباہ ہر گلی کوچے میں لکھا ہوا نظر آیا کہ ہندوستان میں آبادی کے تناسب سے ڈاکٹروں کی تعداد کافی کم ہے۔ ہمارا اپنا معاشی سروے  (۲۰۔۲۰۱۹ء) کہتا ہے کہ ملک میں مریض ڈاکٹر تناسب ۱۴۵۶؍ (مریض) بمقابلہ ایک ڈاکٹر ہے مگر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) دعویٰ کرتا ہے کہ یہ تناسب ایک ڈاکٹر بمقابلہ ۱۰؍ ہزار ۱۸۹؍ مریض ہے۔ اسپتالوں میں بستر کا بھی یہی حال ہے۔ ۲۰۲۰ء کی ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ کہتی ہے کہ ملک میں جتنے بیڈ ہیں اگر اُنہیں پوری آبادی میں تقسیم کیا جائے تو ہر۱۰؍ ہزار کی آبادی کے حصے میں ۵؍ بیڈ آئیں گے یعنی ۲؍ہزار شہریوں میں ایک بیڈ جبکہ ویتنام جیسے جنگ زدہ ملک میں بھی ۱۰؍ہزار کی آبادی پر ۳۲؍ بیڈ ہیں۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ اسپتال میں بستر کی دستیابی کے معاملے میں ہم ۱۶۷؍ملکوں کی فہرست میں ۱۵۵؍ ویں نمبر پر ہیں۔ صرف بارہ ملکوں سے آگے یعنی ۱۵۴؍ ملکوں سے پیچھے۔ 
  اب تک ہمیں اس قسم کی چند موٹی موٹی باتیں ہی معلوم ہیں مگر  ملک کے مختلف حصوں میں موت کو منڈلاتا ہوا دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ جائزہ بھی لینا چاہئے کہ وینٹی لیٹر مریض تناسب کیا ہے؟ یا آکسیجن مریض تناسب کیا ہے؟ بہ الفاظ دِگر ایک وینٹی لیٹر پر کتنے مریضوں کی گنجائش ہے اور جتنی آکسیجن ملک میں پیدا کی جاتی ہے اگر اُسے پوری آبادی میں تقسیم کرنا ہو تو ایک ایک شہری کے حصے میں کتنے ملی لیٹرآکسیجن آئے گی اور اُتنے ملی لیٹر کو حاصل کرنا اور جی جانا آسان ہے یا اُسے ٹھکرا کر باعزت طریقے سے مر جانا بہتر؟ اب تک کے مشاہدات سے گزرنے کے بعدایسے فیصلے بھی ضروری ہوگئے ہیں جو ابھی نہیں ہوئے تو ایسا لگتا ہے کہ عنقریب ہوں گے۔
 بیماری وہ جنگ ہے جو حوصلہ سے جیتی جاتی ہے مگر اسلحہ کے بغیر نہیں۔ یہاں اسلحہ ہی نہیں ہے۔ کئی ریاستوں میں لوگ اپنا آکسیجن سیلنڈر اُٹھائے خود ری فلنگ کیلئے دوڑتے دیکھے گئے۔ چار ہزار کا سیلنڈر چودہ ہزار میں ملے تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، مل جانا بڑی بات ہوگئی ہے۔ ہماری نگاہوں کے سامنے یہ دیوپیکر بے بسی اس لئے ہے کہ ارباب اقتدار دوسری لہر کے انتباہ پراتنے غیر سنجیدہ پائے گئے جیسے اس لہر کا خطرہ ہمارے ملک کو نہیں، کسی خط استوائی ملک کو ہو۔ اس غیر سنجیدگی کا خمیازہ ڈاکٹروں سمیت طبی عملہ اور اسپتال انتظامیہ کو بھگتنا پڑرہا ہے۔
 یوٹیوب پر ممبئی کی ایک جواں سال ڈاکٹر کا ویڈیو طبی عملے کی اسی بے بسی کو آشکار کرتا ہے۔ ویڈیو میں ڈاکٹر ترپتی گیلاد نے جو کچھ بھی کہا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُن کی حالت برہمی، خوف اور انتہائی درجے کی بے بسی کی ملی جلی کیفیت پر مبنی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ (اور دیگر ڈاکٹر) مریضوں کی جان بچانے کیلئے شب و روز سرگرداں ہیں مگر ’’ایسا لگتا ہے کہ کسی کو کچھ فکر ہی نہیں ہے۔‘‘ اُن کا اشارہ انتظامیہ کی بے فکری اور صحیح سمت میں قدم نہ اُٹھانے کی حقیقت کی طرف ہے۔ دوران گفتگو ایک وقت ایسا آیا کہ ڈاکٹر ترپتی رو پڑیں۔جو لوگ یوٹیوب بلاناغہ دیکھتے ہیں اُنہیں علم ہوگا کہ اس سے قبل بھی کئی ڈاکٹر اپنا درد بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوئے یا اپنی بے بسی کے اظہار پر مجبور ہوئے ہیں۔
  ڈاکٹر ترپتی کے آنسو نہ تو ڈاکٹروں اور دیگر طبی خادموں کی مسلسل بے آرامی کی وجہ سے بہے ہیں نہ ہی اپنے عزیزوں دوستوں اور گھر بار سے دوری کی وجہ سے ۔ یہ آنسو ہمارے نظام ِ صحت پر تبصرہ  ہیں جو نظام ِ تعلیم یا شہری (Civic) سہولیات کی طرح کبھی موضوع بحث نہیں بنتا۔اس کی وجہ خود عوام بھی ہیں جو حقیقی مسائل کو سمجھ نہیں پاتے اور جعلی مسائل میں اُلجھا دیئے جاتے ہیں اور اُسی چکرویوہ میں رہتے ہیں اور شاید رہنا پسند کرتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ دو روز قبل پایہ ٔ تکمیل کو پہنچنے والی مغربی بنگال کی پولنگ کیلئے گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی جماعتوں میں دُنیا بھر کی جوتم پیزار جاری تھی، ان جماعتوں نے اتنے جوش و جنون سے انتخابی مہم چلائی کہ انتخابی میدان پر میدانِ کارزار کا گمان ہونے لگا۔ اس دوران کئی موضوعات زیر بحث آئے مگر کیا ریاست کے بنیادی ایشوز پر بھی کچھ بات چیت ہوئی؟  انسان بے بس ضرور ہے مگر قدرت نے اُسے اپنی بے بسی دور کرنے کا اختیار بھی دے رکھا ہے۔ سیاست اُس کا یہ اختیار چھین لینے کے درپے رہتی ہے۔ وباء کی دوسری لہر کا عنوان بن جانے والی مجموعی بے بسی کے ماحول میں اس موضوع پر سوچئے گا ضرور۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK