نسیم صاحب انچاس برس کے تھے۔ بالوں میں سفیدی، آنکھوں پر موٹا چشمہ اور چہرے پر مستقل سنجیدگی مگر دل میں اب بھی ایک طالب علم زندہ تھا۔ وہ اپنے علاقے کے ایک پرائمری اسکول میں تقریباًانتیس برسوں سے تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کچھ برس ہی ہوئے تھے تنخواہ شروع ہونے کے لئے۔ جس وجہ سے تنخواہ کم، مگر عزت بہت۔ زندگی مگر صرف عزت سے نہیں چلتی۔
نسیم صاحب انچاس برس کے تھے۔ بالوں میں سفیدی، آنکھوں پر موٹا چشمہ اور چہرے پر مستقل سنجیدگی مگر دل میں اب بھی ایک طالب علم زندہ تھا۔ وہ اپنے علاقے کے ایک پرائمری اسکول میں تقریباًانتیس برسوں سے تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کچھ برس ہی ہوئے تھے تنخواہ شروع ہونے کے لئے۔ جس وجہ سے تنخواہ کم، مگر عزت بہت۔ زندگی مگر صرف عزت سے نہیں چلتی۔
گھر میں بوڑھے ماں باپ تھے جن کی دوائیں کبھی ختم نہ ہوتیں۔ ایک چھوٹا بھائی جو بے روزگاری کا شکار، ایک بیوہ بہن جو اپنے دو معصوم بچوں سمیت ان ہی کے سہارے تھی۔ نسیم صاحب کے بچے بھی بڑے ہو چکے تھے۔ بیٹی کی شادی کرنی تھی، چھوٹے بیٹے کی فیس دینی تھی۔ دو سال چھ ماہ کا ننھا پوتا بھی دادا سے فرمائشیں کرنے لگا تھا۔
انہی دنوں عدالت عظمیٰ کے حکم نامے کی خبر آئی کہ مستقل تقرری کے لیے ٹی ای ٹی یا سی ٹی ای ٹی (ٹیچر اہلیتی) امتحان کامیاب کرناضروری ہے۔ امتحان کیلئے درخواست دینے کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ بہت سے اساتذہ نے امتحان دینے کا فیصلہ کیا۔ ان اساتذہ میں نسیم صاحب بھی شامل تھے۔ نسیم صاحب نے نئے تقرر کردہ ساتھی اساتذہ جو چند برس پہلے ہی ٹیچر اہلیتی امتحان کامیاب ہوکر آئے تھے ان سے مشورہ کیا۔ ساتھیوں نے امتحان کے نصاب کے ساتھ ساتھ امتحان کا پرچہ حل کرنے کی مختلف ترکیبیں سمجھائیں حالانکہ اساتذہ اُن کے بچوں کی عمر کے تھے۔ مگر نسیم صاحب نے اُ نکی باتوں کو بغور سنا۔
مگر عمر کے اس دور میں نسیم صاحب اُن کی باتیں سمجھنے کی حالت میں نہ تھے۔ چہرے پر صاف نظر آرہا تھا کہ بہت سی باتیں وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سینئرساتھی اساتذہ بولے:’نسیم صاحب! اب اس عمر میں کیا کریں گے امتحان دے کر؟‘انہوں نے آہستہ لہجے سے جواب دیا۔ ’’ذمہ داریاں عمر نہیں دیکھتیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: دُنیا کا اختتام
پھر ایک نئی زندگی شروع ہوئی۔ فجرکی نماز کے بعد مطالعہ، اسکول کے بعد ٹیوشن، رات کو کتابیں پڑھناروز کا معمول بن ہوگیا۔ کبھی ننھاپوتاآ کر گود میں بیٹھ جاتا، کبھی ماں آواز دیتی۔ ’’بیٹا!نسیم ذرا دوائی دے دو۔ ‘‘ہر بار کتاب بند ہوتی، پھر کھلتی، پھر بند ہوتی، خواب ٹوٹتے بکھرتے، پھر جڑتے۔
امتحان والے دن وہ سادہ کپڑوں میں امتحان سینٹر پہنچے۔ نوجوان امیدواروں کے بیچ وہ الگ نظر آتے تھے۔ سنجیدہ چہرہ، ذہین میں مختلف خیالات کا ہجوم اُن کے چہرے سے صاف نظر آرہا تھا۔ کچھ نے انہیں دیکھ کر کہا۔ ’’کیا!یہ بھی امتحان دیں گے؟‘‘انہوں نے مسکرا کر اپنا ہال ٹکٹ مضبوطی سے پکڑ ا اور امتحان ہال کی جانب چل پڑے۔ پرچہ آسان نہ تھا۔ سوالات پڑھنے میں ہی نسیم صاحب کا وقت صرف ہوگیا۔ کئی سوال نئے نصاب کے، کئی ذہن گھما دینے والے۔ انہوں نے پوری کوشش کی مگر دل کے کسی کونے میں شک بیٹھ گیا۔ کچھ وقت کے بعد نتیجہ آیا۔ وہ ناکام تھے۔ گھر میں کسی نے کچھ نہ کہا۔ بیوی نے خاموشی سے چائے رکھ دی۔
ماں نے صرف اتنا پوچھا۔ ’’بیٹا، تھک تو نہیں گئے؟‘‘اس رات وہ دیر تک جاگتے رہے۔ پہلی بار کتاب کھلی نہ تھی۔ اگلے دن حسب معمول اپنے وقت پر اسکول گئے۔ بچے دوڑ کر آئے۔ استاد آگئے، استاد آگئے۔ ایک بچے نے کہا۔ ’’سر! کل ابو کہہ رہے تھے آپ بہت اچھے استاد ہیں۔ ‘‘نسیم صاحب رک گئے اور ننھے طالب علم کی طرف دیکھا۔ چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آئی۔ انہوں نے تختہ سیاہ پر لکھا۔
’’کامیابی صرف نمبر سے نہیں، کردار سے بھی ملتی ہے۔ ‘‘پھر سبق شروع کر دیا۔ شام کو انہوں نے نتیجہ والا پرچہ الماری میں رکھ دیا۔ ناکامی کے طور پر نہیں، یاد دہانی کے طور پرکہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی، وہ بس کبھی کبھی نتیجے بدل دیتی ہے...اور زندگی؟وہ بدستور چلتی رہی، کتابوں، ذمہ داریوں اور بچوں کی معصوم آوازوں کے ساتھ۔