ایک صبح، تقریباً دس بجے، شہر کے آسمان پر ایک بہت بڑا مُکا (مٹھی) نمودار ہوا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ ایک پنجے کی طرح کھلتا گیا اور موت کے ایک عظیم چنگل کی مانند فضا میں ساکت ہو گیا۔ بظاہر وہ گوشت کا بنا ہوا معلوم ہوتا تھا، مگر نہیں، وہ گوشت کا نہیں تھا۔
دینو بوتزاتی …(ترجمہ) خالد فرہاد
ایک صبح، تقریباً دس بجے، شہر کے آسمان پر ایک بہت بڑا مُکا (مٹھی) نمودار ہوا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ ایک پنجے کی طرح کھلتا گیا اور موت کے ایک عظیم چنگل کی مانند فضا میں ساکت ہو گیا۔ بظاہر وہ گوشت کا بنا ہوا معلوم ہوتا تھا، مگر نہیں، وہ گوشت کا نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے پتھر سے تراشا گیا ہو، مگر وہ پتھر بھی نہیں تھا۔ گمان گزرتا تھا کہ بادلوں سے بنا ہے، مگر وہ بادل بھی نہیں تھا۔ وہ قیامت کی نشانی تھا۔ ایک سرگوشی جو تھوڑی ہی دیر میں آہ و بکا اور پھر چیخ پکار میں بدل گئی، ہر طرف پھیل گئی۔ یہ آواز ایک مربوط، اور ہولناک صدا کی صورت اختیار کر گئی اور صور کی گونج بن کر آسمان کی طرف بلند ہوئی۔
لوئیزا اور پیترو، اس پہر کی ملائم دھوپ میں ایک ایسے چوراہےپر موجود تھے جو شاندار عمارتوں اور باغات سے گھرا ہوا تھا۔ آسمان میں، ایک غیر معینہ بلندی پر وہ ہاتھ اب بھی معلق تھا۔ کھڑکیاں دہشت بھری چیخوں کے ساتھ کھل رہی تھیں اور نازک لباس پہنے نوجوان خواتین کے سر اس کا نظارہ کرنے کے لئےباہر نکل رہے تھے۔ شہر کی وہ ابتدائی چیخ اب مدھم پڑ رہی تھی اور لوگ تقریباً دوڑتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ انہیں حرکت کرنے اور کچھ کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی مگر انہیں علم نہ تھا کہ کہاں جائیں،کس کا سہارا لیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرشتوں کا تجسس
لوئیزا رونے لگی اور ہچکیاں لیتے ہوئے بولی: ’’میں جانتی تھی کہ انجام یہی ہونا ہے… کبھی چرچ نہیں گئی، کبھی دعا نہیں مانگی… میں ہر چیز سے بے نیاز تھی، مجھے ذرا برابر پروا نہیں تھی اور اب… مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ایسا ہی ہونا چاہئےتھا!‘‘ پیترو اسےتسلی دینے کے لئے بھلا کیا کر سکتا تھا؟ وہ خود بھی بچے کی طرح بلک رہا تھا۔ بلکہ اکثر لوگ، خصوصاً عورتیں زار و قطار رو رہی تھیں۔ اس ہنگامے میں صرف دو بوڑھے، چاق و چوبند پادری، قدم سے قدم ملاتے ہوئے، شاداں و فرحاں جا رہے تھے اور معزز راہگیروں کو خوشی سے بتا رہے تھے: ’’او مکارو! کھیل ختم! اب تو مکاری سے باز آؤ گےنا؟ کیوں؟ اب جیت ہماری ہے!تم ہمیشہ ہمارا مذاق اڑاتے تھے، ہمیں احمق سمجھتے تھے، اب دیکھتے ہیں کہ اصل مکار کون ہے!‘‘
وہ اسکول کے بچوں کی طرح نہال تھے اور اس جمِ غفیر کے درمیان سے گزر رہے تھے جو انہیں گھورتا رہا مگر مزاحمت کی ہمت نہ کر سکا۔ ابھی انہیں ایک تنگ گلی میں نظروں سے اوجھل ہوئے چند ثانیے ہی ہوئے تھے کہ ایک شخص، گویا اس نے کوئی بہت قیمتی موقع گنوا دیا ہو، غیر ارادی طور پر ان کے پیچھے بھاگا اور تاسف سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے چلایا: ’’خدا کی قسم!‘‘ وہ پیشانی پیٹتے ہوئے چیخا، ’’اور سوچو، وہ ہمیں اعترافِ گناہ کروا سکتے تھے!‘‘،‘‘لعنت ہو!‘‘ کسی اور نے فوراً کہا‘‘ہم کتنے بےوقوف ہیں! وہ ہمارے سامنے آئے اور ہم نے انہیں جانے دیا!‘‘ مگر کون ان پھرتیلے راہبوں تک پہنچ سکتا تھا؟
عورتیں اور ساتھ ہی مغرور اور کڑیل مرد، ناامیدی اور دِل شکستگی کے عالم میں، کفر بکتے ہوئےگرجوں سے باہر نکل رہے تھے۔ بلند مرتبت پادری غائب ہو چکے تھے۔ شاید انہیں اعلیٰ حکام اور کارخانے داروں نے پیشگی خرید لیا تھا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ دولت کی قدر و منزلت، باوجود اس کے کہ دنیا کا خاتمہ قریب تھا، حیرت انگیز طور پر برقرار تھی۔ شاید یہ خیال تھا کہ ابھی چند منٹ اور شاید چند دِن باقی ہیں۔ جہاں تک چرچ میں موجود خدمت پر مامور پادریوں کاتعلق تھا، وہاں ایسا ہولناک ہجوم جمع تھا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، یہاں تک کہ اژدہام کی وجہ سے ہونے والے ناخوشگوار واقعات کی خبریں آ رہی تھیں، یا ان دھوکےبازوں کا تذکرہ ہو رہا تھا جو پادریوں کا لباس پہن کر اعترافِ گناہ سننے کے لئے لوگوں کے گھروں میں جا رہے تھے اور خطیر رقمیں بٹور رہے تھے۔ دوسری طرف جوان جوڑے تیزی سے دوسروں سے الگ ہو رہے تھے تاکہ آخری بار محبت کر سکیں۔ اسی دوران سورج کی حدت سے وہ آسمانی ہاتھ پہلے سے زیادہ زرد نظر آنے لگا تھا اور اس طرح مزید سراسیمگی پیدا کر رہا تھا۔ افواہ پھیلی کہ قیامت بالکل قریب ہے۔ بعض کو یقین تھا کہ دوپہر تک کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے: جگر کے نغمے زندہ رہیں گے
اس دوران، ایک خوبصورت عمارت کے برآمدے میں، جو زمین سے دو قدمچےبلند تھا، ایک جوان پادری سر جھکائے اضطراب میں ٹہل رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسےوہ عمارت کے اندر جانے سے ڈر رہا ہو۔ اس گھڑی، اس عالیشان مکان میں، جہاں طوائفیں رہتی تھیں، ایک پادری کی موجودگی عجیب تھی۔ ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں: ’’پادری!پادری!‘‘ اس سے پہلے کہ وہ پادری فرار ہونے میں کامیاب ہوتا، لوگ بجلی کی سی تیزی سے اس کے آڑے آ گئے اور اس پر چلانے لگے: ’’ہمارا حلف لو! ہمارا اعتراف سنو!‘‘ پادری کا رنگ اُڑ گیا۔ اسے دھکیل کر ایک چھوٹی سی محراب نما جگہ پر لے جایا گیا جو ایوان سے باہر کی طرف نکلی ہوئی تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے اسی کام کے لئے بنائی گئی ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں مرد و ں اور عورتوں کا ایک گروہ شور مچاتا ہوا دھکم پیل کرنے لگا، ہر کوئی ستونوں اور منقش منڈیروں کا سہارا لے کر محراب تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔
پادری نے اعترافِ گناہ سننا شروع کیا اور تیزی سے ان اجنبیوں کی باتوں پر کان دھرنے لگا جو ہانپتے ہوئے اپنے گناہوں کا اقرار کر رہے تھے ( انہیں اس بات کی قطعی فکر نہیں تھی کہ کوئی ان کی باتیں سن رہا ہے)۔ اس سے پہلے کہ ان کی بات ختم ہوتی، وہ اپنے دائیں ہاتھ سے صلیب کا مختصر نشان بناتا، انہیں معافی دیتا اور فوراً اگلے گناہ گار کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ مگر ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ پادری پریشانی سے اپنے اردگرد دیکھتا اور گناہ گاروں کے اس بڑھتے ہوئے سمندر کا جائزہ لیتا۔ لوئیزا اور پیترو بھی بمشکل اس تک پہنچے اور اپنی باری کا فائدہ اٹھاتےہوئے اپنی بات پادری کے گوش گزار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ نوجوان عورت، اس خوف سے کہ کہیں وقت ختم نہ ہو جائے، جنونی عجلت میں چلائی: ’’میں کبھی عبادت کےلئے نہیں جاتی۔ میں جھوٹ بولتی ہوں… اور جو بھی دیگر گناہ تم چاہو… اس میں شامل کر لو… اور میں یہاں کسی خوف کے باعث نہیں آئی ہوں، میری بات کا یقین کیجئے کہ میں خدا کے قرب کی آرزو مند ہوں، میں قسم کھاتی ہوں کہ…‘‘ اور اسے یقین تھا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے۔ پادری بڑبڑایا: ’’میں تمہیں بخشتا ہوں…‘‘ اور پیترو کی بات سننے لگا۔ اب انسانوں میں ایک ناقابلِ بیان خواہش اُبھری۔ کسی نے پوچھا: ’’قیامت تک کتنا وقت باقی ہے؟‘‘ ایک باخبر آدمی نے گھڑی دیکھی:’’دس منٹ۔‘‘ اس نے بااعتماد انداز میں کہا۔ پادری نے یہ سنا اور اچانک جانے کی کوشش کی۔ مگر غیر مطمئن لوگوں نے اُسے پکڑ لیا۔ اس کی کیفیت بخار میں مبتلا شخص کی سی تھی اور واضح تھا کہ اعترافات کی چیخیں اس تک کسی بے معنی شور کی طرح پہنچ رہی ہیں۔ وہ ایک کے بعد دوسرے پر صلیب کا نشان بناتا اور خودکار طریقے سے دہراتا: ’’میں تمہیں بخشتا ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: قیام ِ امن، افرادِ قوم کی ذہن سازی اور اَدیب کا کردار
ہجوم کے اندر سے ایک شخص کی آواز آئی: ’’آٹھ منٹ!‘‘
پادری اب باقاعدہ کانپ رہا تھا۔ وہ اپنے پاؤں مرمریں فرش پر اس طرح پٹخ رہا تھا جیسے بچے کسی چیز کا مطالبہ کرتے وقت ضد کرتےہیں۔ اس نے مایوسی کےعالم میں التجائیں شروع کر دیں: ’’پھر میرا کیا ہوگا؟ میرا کیا بنے گا؟‘‘ وہ بے بسی سے گڑگڑانے لگا۔ ان بدبخت لوگوں نے اس کی اپنی روح کی نجات چھین لی تھی، شیطان انہیں لے جائے، چاہے جتنے بھی ہوں۔ مگر وہ خود کو کیسے بچائے؟ اپنی فکر کیسے کرے؟ وہ رونے کے قریب تھا۔ ’’اور میں؟ میں؟‘‘
وہ ہزاروں جنت کے طلبگاروں سے پوچھتا رہا۔ مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔