کورونا وائرس سے بچاؤ کے نام پر عوام کا استحصال کیوں؟

Updated: November 15, 2020, 11:22 AM IST | Jamal Rizvi

غریب ، کم پڑھے لکھے اور گاؤں والوںکو زندگی میں کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ اب کورونا سے بچاؤ کیلئے کئے جانے والے احتیاطی اقدامات سے متعلق ان کی غیر سنجیدگی کو بنیاد بنا کر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ان احتیاطی اقدامات کو نظر انداز کرنا یقیناً صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے لیکن اگر کچھ لے دے کر نرمی برتی جائے تو اس سے وبا کے پھیلنے کے خطرے کو کم نہیں کیا جا سکتا

Coronavirus - pic : INN
کورونا وائرس ۔ تصویر : آئی این این

کورونا کی عالمی وبا نے انسانی معاشرہ کے سامنے جو مسائل پیدا کئے ہیں، وہ کئی سطحوں پر پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اس وبا نے نہ صرف صحت و طب کے شعبے کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کی وجہ سے کئی دیگر ایسے امور بھی پیچیدہ شکل اختیار کر چکے ہیں جو سماج کی سمت و رفتار متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان امور میں بعض کا تعلق انسان کی معاشی زندگی سے ہے اور بعض اس کے سماجی رویے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وبا نے جس طرح پوری دنیا کے سیاسی نظام اور انتظامی امور کو متاثر کیا ہے، اس کے اثرات آئندہ کئی برسوں تک انسانی معاشرے پر ظاہر ہوتے رہیں گے۔ان مسائل سے نجات حاصل کرنے کیلئے جس دور اندیشی اور مدبرانہ صلاحیت کی ضرورت ہے اس کا مظاہرہ بھی معدودے چند ملکوں کی حکومتوں اور پالیسی سازوں کی جانب سے ہوا۔اس وبا سے تحفظ کیلئےجو احتیاطی اقدامات کئے گئے، ان میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کو بیشتر ملکوں میں اس تدبیر کے طور پر اختیار کیا گیا جو اس وبا کے پھیلاؤ کو کسی حد تک محدود کر سکتی ہے۔ جن ملکوں میں لاک ڈاؤن کا نفاذ بہتر اور موثر طریقہ سے ہوا، وہاں اس وبا پر کچھ حد تک قابو بھی پا لیا گیا لیکن جن ملکوں میں لاک ڈاؤن کے موثر نفاذ کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اور نتیجہ خیز حکمت عملی نہیں اختیار کی گئی، ان ملکوں میں لاک ڈاؤن کے نفاذ سے پہلے اور اس کے بعد کی صورتحال میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ اس ضمن میں وطن عزیز کا شمار ایسے ہی ملکوں میں ہوتا ہے جہاں لاک ڈاؤن کا ہنگامی نفاذاس وبا پر قابو پانے میں کچھ بہت زیادہ کامیاب نہیں رہا۔اگر اس وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کا تجزیہ گزشتہ چھ مہینوں کے اعداد و شمار کے تناظر میں کیا جائے تو یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ لاک ڈاؤن کا نفاذ اس ملک میں کئی ایسے دیگر مسائل کا سبب بن گیا جن سے ملک کے عوام آج بھی پریشان ہیں۔
 کوروناسے بچنے کیلئے حکومت نے عوام کو جن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا مشورہ دیا، اب بیشتر جگہوں پر ان احتیاطی تدابیر پر عمل بھی برائے نام ہو رہا ہے۔لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا جومرحلہ وار سلسلہ حکومت کی جانب سے شروع ہوا وہ بھی طبی منطق کے پیمانے پر پورا نہیں اُترتا۔یہ صورتحال اس وقت ہے جبکہ دہلی، ممبئی اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد اب بھی ہزاروں میں ہے۔میڈیکل شعبہ سے وابستہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ آنے والوں دنوں میں جب سردی میں اضافہ ہوگا تو اس وبا کا پھیلاؤ تیز رفتاری کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے اس اندیشے کے باوجود ملک کے بیشتر حصے میں عوامی زندگی کا رنگ ڈھنگ تقریباً اسی نوعیت کا ہو گیا ہے جو اس وبا کے ظاہر ہونے سے پہلے تھا۔ عوام کے اس رویے کا فائدہ انتظامیہ سے وابستہ وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جو نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے سزاوار ہیں ۔اس وبا سے بچاؤ کے نام پر عوام کے استحصال کا مشاہدہ بہ آسانی کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں پولیس محکمہ کا نام سر فہرست ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں پولیس محکمے کے ذریعہ عوام کا استحصال سماج میں دیگر کئی طرح کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔اگر چہ اس معاملے میں بیشتر صوبوں کے پولیس محکمے کا رویہ تقریباً یکساں ہے تاہم یہ اس رویے میں یہ امتیاز ضرور دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کی زد پر بیشتر وہ لوگ آتے ہیں جو کم پڑھے لکھے ہوتے ، غریب ہوتے ہیں یا پھر دیہی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
 ہندوستانی معاشرے میں غریب ، کم پڑھے لکھے یا گاؤں کے رہنے والے عوام کو یوں بھی روزمرہ کی زندگی میں کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ اب کورونا سے بچاؤ کیلئے کئے جانے والے احتیاطی اقدامات سے متعلق ان کی غیر سنجیدگی کو بنیاد بنا کر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ان احتیاطی اقدامات کو نظر انداز کرنا یقیناً صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے لیکن اگر پولیس یا دیگر انتظامی امور سے وابستہ ذمہ داران کے ذریعہ کچھ لے دے کر ایسے لوگوں کے متعلق نرمی برتی جائے جنھوں نے ان اقدامات پر عمل کرنے میں غیر سنجیدگی یا تساہلی برتی ہو ، تو اس سے وبا کے پھیلنے کے خطرے کو کم نہیں کیا جا سکتا۔اس وقت ملک کے بیشتر علاقوں میںعوام اور انتظامیہ کے مابین اسی طرز کے رویہ کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چند روپوں کے لالچ میں پولیس یا دیگر انتظامی امور سے وابستہ افراد کے ذریعہ کیا جانے والا یہ برتاؤ کس بنا پر صحیح ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اس سے کورونا وائرس پر قابو بھلے ہی نہ پایا جا سکے لیکن یہ ضرور ہے کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا  اور اس وقت بیشتر جگہوں پر ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔
 ملک کی انتظامیہ کے علاوہ سیاست دانوں نے بھی اس وبا کے حوالے سے عوام کے استحصال کی خو اختیار کر رکھی ہے۔سیاست دانوں کے اس افسوس ناک طرز عمل کا مظاہرہ گزشتہ دنوں بہار اسمبلی کی انتخابی مہم میں نظر آیا۔ اس معاملے میں مرکز اور ملک کی کئی ریاستوں میں برسر اقتدار بی جے پی نے جس طرح کورونا ویکسین کی دستیابی کے نام پر عوام کا استحصال کیا ،وہ اس ملک کے سیاست دانوں کی اس سنگ دلی کو نمایاں کرتاہے جسے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔سیاست دانوں کی ایسی پر فریب باتوں کا شکار بیشتر وہی لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگیاں پہلے ہی سے مختلف قسم کے مسائل کی آماجگاہ بنی ہوتی ہیں۔سماج کے اس طبقے سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد اپنے اور اپنے اہل خانہ کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندو بست کرنے میں ہی اپنی ساری توانائی اور وقت صرف کر دیتے ہیں لہٰذا وہ ایسے معاملات کی تہہ تک جانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے جس سے یہ واضح ہو سکے کہ سیاست دانوں کے ذریعہ جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں حقیقت کتنی ہے اور عیاری کس حد تک ہے لیکن چونکہ ایسے معاملات حساس نوعیت کے ہوتے ہیں لہٰذا وہ ایسی باتوں کے فریب میں آجاتے ہیں اور عیار سیاست دانوں کے استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔
 کورونا سے تحفظ کیلئے حکومتی یا انتظامی سطح پر جو اقدامات کئے گئے ان سے تو بیشتریہی تاثر پیدا ہو تا ہے کہ جیسے یہ وبا بھی رنگ، نسل، قوم ،مذہب اور مالی حیثیت دیکھ کر عوام کو متاثر کرتی ہے۔اس وبا سے تحفظ کے نام پر سماج میں مذہبی منافرت پھیلانے کا کام بھی کیا گیا۔ اس معاملے میں ان فرقہ پرست عناصر نے بڑی سرگرمی کا مظاہرہ کیا جوسماجی تفریق میں اپنے مفاد کی راہ تلاش کرتے ہیں۔ ان عناصر نے اس وبا سے متاثر ہونے والوں کیلئے کوئی مفید کام کرنے  کے بجائے انھیں قوم اور مذہب کے خانوں میں تقسیم کر کے اپنا مفاد حاصل کیا۔ یہ صورتحال اب بھی کسی نہ کسی طور سے برقرار ہے۔مختلف ریاستوں میں عبادت گاہوں کو کھولنے کے مطالبے میں بھی اس فرقہ واریت کو دیکھا جا سکتاہے۔ کسی خاص مذہب کے پیروکاروں کیلئے خصوصی رعایت کا مطالبہ کرنے والوں کے نزدیک شاید اس وبا سے متاثر ہونے یا محفوظ رہنے کا تصور مذہبی عقیدے کی فضیلت کے ان کے خود ساختہ نظریہ سے وابستہ ہے ۔یہ انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک جہاں ایک طرف اس وبا سے بچنے کیلئے میڈیکل سائنس کے اصولوں اور مشوروں پر عمل کر رہے ہیں وہاں وطن عزیز میں ایسے غیر سائنسی اور غیر منطقی رویہ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس کا اس وبا سے بچنے میں کوئی رول نہیں ہے۔
 اس وبا نے پوری دنیا کے معاشی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ ہندوستانی معیشت بھی اس کی وجہ سے انتہائی تشویش ناک صورتحال سے دوچار ہے۔ظاہر ہے کہ معاشی نظام میں پیدا ہونے والی کوئی خرابی یا کمزوری سب سے پہلے سماج کے اسی طبقہ پر اثر انداز ہوتی ہے جو محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزارنے والا طبقہ ہوتا ہے۔ایسے میں اگر اس وبا سے بچاؤ کے نام پر اس طبقہ کا مالی اور جذباتی استحصال کیا جا ئے تو اس کی محرومی اور تنگ دستی میں مزید اضافہ ہوگا۔غریبوں کے تئیں فکرمندی کا مظاہرہ کرنے والی حکومت اور انتظامیہ کو اس جانب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کورونا سے تحفظ کے نام پر غریب، مزدور اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے استحصال کا سلسلہ رک سکے۔  حکومت اور انتظامیہ سے وابستہ بعض افراد کے ذریعے ان کا استحصال کئے جانے کے بجائے ان کے اندر اس وبا کی سنگینی کے متعلق بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام کسی جبر کے تحت نہیں بلکہ دوستانہ ماحول میں کیا جانا چاہئے۔ اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تبھی اس وبا کے پھیلاؤ کو کسی حد تک قابو میں کیا جا سکتا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK