پونے کے صنعتی علاقے سے ۲۰؍ کمپنیوں کے ستارا منتقل ہونے کے فیصلے کے بعد حکومت کو ہوش آیا، مقامی انتظامیہ کو سخت ہدایات۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 11:49 AM IST | Agency | Pune
پونے کے صنعتی علاقے سے ۲۰؍ کمپنیوں کے ستارا منتقل ہونے کے فیصلے کے بعد حکومت کو ہوش آیا، مقامی انتظامیہ کو سخت ہدایات۔
گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ صنعتی اکائیوں کیلئے مشہور پونے کے چاکن علاقے سے ۲۰؍ کمپنیوں نے اپنا کام کاج کھنڈالہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس صنعتی علاقے کی سڑکیں خستہ حال ہیں جس کی وجہ سے یہاں ہمیشہ ٹریفک جام رہتا ہے ۔ کمپنیوں کے ملازمین کو آنے جانے میںتکلیف ہوتی ہے ۔ جبکہ انتظامیہ شکایتوں پر توجہ نہیں دے رہا ہے۔ کمپنیوں کے اس اعلان کے بعد حکومت کو ہوش آیا اور سڑک کا کام کرنے والی ایجنسیوں کو ۳۱؍ اگست تک کسی بھی طرح سڑکوں کی تعمیر مکمل کرنے اور ٹریفک کو درست کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک کی ترقی کیلئے راہل گاندھی نے اتحاد و ہم آہنگی پر مبنی کانگریس کا نظریہ پیش کیا
ٹریفک کے مسئلے سے پریشان ان ۲۰؍ کمپنیوں کا ٹرن اوور ایک ہزار کروڑ روپے ہے جبکہ یہاں ۴؍ ہزار سے زائد افراد ملازمت کرتے ہیں۔ اتنے بڑے کاروبار کا کسی اور جگہ منتقل ہوجانا نہ صرف شہر میں کاروباری اعتبار سے نقصاندہ ہے بلکہ ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کرنے کا سبب بھی بنے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ اس تعلق سے حکومت کو علم نہیں تھا۔ ایک کاروباری دھننجے شیڈبالے کا کہنا ہے کہ پونے۔ ناسک ہائی وے پر بھوساری اور امبیٹھن چوک کے درمیان گاڑیاں ٹھہر جاتی ہیں جسکی وجہ سے پونے سے چاکن جانے والوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری شفٹ میں کام کرنے والے ہمارے ملازمین وقت پر فیکٹری نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ اسکی وجہ سے پروڈکشن پر اثر پڑ رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا’’ ہم نے اس تعلق سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ای میل کے ذریعے ۳؍ بار مطلع کیا لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اب یہاں صنعتوں کی اور ان کے ملازمین حالت ایسی ہو گئی ہے جیسے وہ آئی سی یو میں ہوں۔ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے وسطی پونے میں اپنا دفتر کھول لیا ہے اور دفتری کاموں کیلئے ملازمین کو وہاں منتقل کر دیا ہے۔ ایک اور کاروباری دلیپ بٹوال نے کہا کہ پہلے ہی ۵۰؍ سے زیادہ کمپنیاں دیگر ریاستوں میں منتقل ہو چکی ہیں اب ہم نے بھی کھنڈالہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ چاکن میں تقریباً ۳؍ ہزار قومی اور بین الاقوامی کمپنیاں موجود ہیں جو کم وبیش ۱۵؍ لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں لیکن ان کمپنیوں کو ان دنوں مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ ان کمپنیوں کا سالانہ ٹرن اوور ۳۲؍ ہزار کروڑ روپے تک ہے لیکن ان کیلئے مقامی سطح پر سہولیات کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’۲۰۴۷ء تک ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا ہے‘، لال قلعے سے وزیر اعظم کا خطاب
کمپنیوں کے فیصلے کی اطلاع ملتے ہی حکومت کو ہوش آیا اور اس نے مقامی انتظامیہ کو نیند سے جگایا کہ فوری طور پر چاکن کے صنعتی علاقے میں جو بھی تعمیراتی کام جاری ہے اسے ۳۱؍ اگست تک مکمل کیا جائے۔ اگر سڑک کے آس پاس غیر قانونی خوانچے یا دیگر چیزیں ہو ں تو انہیں ہٹایا جائے اور کسی بھی طرح ٹریفک کو درست کیا جائے۔
اس تعلق سے گزشتہ دنوں ایم آئی ڈی سی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر دپیندر سنگھ کشواہا اور پونے کے ضلع کلکٹر جتیندر دودی کے درمیان میٹنگ ہوئی ۔ انہوں نے اس تعلق سے غوروخوض کیا کہ کس طرح چاکن کے صنعتی علاقے سے ٹریفک میں حائل چیزوں کو ہٹایا جائے۔ پی ڈبلیو ڈی اور این ایچ اے آئی جیسی ایجنسیوں کو بھی اس تعلق سے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں برق رفتاری سے کام کریں۔ فی الحال یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ انتظامیہ کے حرکت میں آنے کے بعد یہ کمپنیاں کھنڈالہ منتقل ہونے کا فیصلہ ترک کر دیں گی یا اس پر قائم رہیں گی لیکن چاکن کے حالات سامنے آنے کے بعد لوگ اندازہ لگا رہے ہیں کہ مہاراشٹر کی ۳۶؍ ہزار کمپنیوں کے بند ہو نے کی وجوہات کیا رہی ہوں گی۔