• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کیاغزہ نیتن یاہوکا واٹر لو‘ثابت گا؟

Updated: November 29, 2023, 1:18 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

صرف اسرائیل ہی میں نہیں عالمی سطح پر بھی نیتن یاہو کی بڑے پیمانے پر مخالفت ہورہی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وہ بائیڈن اور سونک جیسے عالمی لیڈروں کی آنکھوں کا تارا ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اس وقت دنیا کے ناپسندیدہ ترین لیڈر بن گئے ہیں۔ اس سے زیادہ ذلت کیا ہوگی کہ ان کا موازنہ ہٹلر سے کیا جارہا ہے؟

Demonstrations against the war and in support of the Palestinians took place in American cities and European capitals. Photo: INN
امریکی شہروں اور یورپ کی راجدھانیوں میںجنگ کی مخالفت اور فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے ہوئے۔ تصویر:آئی این این

ڈیڑھ ماہ سے دنیا بھر کی اپیلوں  کو بنجامن نیتن یاہو یہ کہہ کر ٹھکرا رہے تھے کہ جنگ بندی کا مطلب حماس اور دہشت گردی کے سامنے سرنگوں  ہونا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم یہ دعویٰ کررہے تھے کہ تمام اسرائیلی جنگی قیدیوں  کی رہائی اور حماس کے مکمل خاتمے کے بغیر جنگ بندی کا سوال ہی نہیں  اٹھتا ہے۔
پہلے چار دنوں  کی عارضی جنگ بندی اور پیر کی رات اس کی توسیع کے مد نظرسوال یہ ہے کہ کیا یہ سمجھا جائے کہ نیتن یاہو کو حماس کے سامنے بالآخر جھکنا پڑا؟ سوال یہ بھی ہے کہ تقریباً پچاس دنوں  تک غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجاکر، پندرہ ہزار بے گناہ لوگوں  کا قتل کروا کر  اور سترہ لاکھ لوگوں  کو بے گھر کر کے اسرائیل کے نسل پرست وزیر اعظم کو آخر حاصل کیا ہوا؟ نیتن یاہو نے قسم کھائی تھی کہ جب تک حماس تمام اغوا کئے گئے اسرائیلی شہریوں  کو بلاشرط رہا نہیں  کردیتی ہے اور اسرائیل ڈیفنس فورسز حماس کا نام و نشان نہیں  مٹا دیتی ہے تب تک بمباری نہیں  تھمے گی۔لیکن اسرائیل غزہ میں  ہر دن ایک ہزار بم گرانے کے باوجود ایک یر غمالی کو بھی رہا نہیں  کراسکا۔ تھک ہار کر اپنے شہریوں  کی آزادی کیلئے حماس سے اسے مذاکرات کرنا پڑا  اور مزاحمت کاروں  کی شرط مان کر پچاس اسرائیلی یرغمالوں  کے بدلے ایک سو پچاس فلسطینیوں  کو رہا کرنے پر آمادہ ہونا پڑا جو بنا کسی جرم کے برسوں  سے اسرائیلی جیلوں  میں  بند تھے۔  حماس کا قلع قمع کرنا تو دور سوائے چندکمانڈروں  کی ہلاکتوں  کے اسرائیلی فوج فلسطینی حریت پسند تنظیم کا کچھ نہیں  بگاڑ سکی۔ اسرائیل نہ صرف ایک بہت بڑی اقتصادی اور عسکری طاقت ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں  سے بھی لیس ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ۷؍اکتوبر کے فوراً بعد امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک نہ صرف اس کی حمایت میں  کھڑے ہوگئے بلکہ اسلحہ سے بھرے طیارے اور جنگی بحری بیڑے بھی تل ابیب بھجوا دیئے۔  سوچئے کہ اسرائیل سے بھلا حماس کاکیا مقابلہ!
 اس کے باوجود اس غیر متوازن لڑائی میں  حماس نے پچاس دنوں  تک ہتھیار نہیں  ڈالے تو یہ اس کی اخلاقی جیت نہیں  تو پھراور کیا ہے؟ یاد رہے کہ اسرائیل نے تین عرب ممالک مصر، اردن اور سیریا (شام)  کے محض چھ دنوں  میں  چھکے چھڑا دیئے تھے۔  
 اپنی پوری طاقت جھونک دینے کے باوجود نیتن یاہو  ۲۴۰؍ اسرائیلی یرغمالوں  میں  سے ایک کو بھی اگر آزاد نہیں  کراسکے اور نہ ہی کسی حماس لیڈر کو گرفتار کرسکے تو یہ ان کی ذاتی شکست نہیں  تو پھراور کیا ہے؟ نیتن یاہو صرف حماس کے خلاف ہی نہیں  بلکہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ بھی لڑرہے ہیں ۔ جنگ کے دوران ہر ملک کے عوام عموماً حکومت کے ساتھ حمایت اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں  لیکن اسرائیل میں  حماس کے ذریعہ اغوا کئے گئے لوگوں  کے اہل خانہ نیتن یاہو کی مخالفت میں  مظاہرے کررہے ہیں ۔ 
ایک سروے کے مطابق ۸۰؍فیصد اسرائیلی شہریوں  کا خیال ہے کہ ۷۵؍سال میں  اسرائیل پر ہونے والا سب سے تباہ کن حملہ سیکوریٹی اور انٹلی جنس کی ناکامی کا نتیجہ تھا اور اس ناکامی کے لئے پوری طرح نیتن یاہو ذمہ دار ہیں ۔ ایک اور سروے سے پتہ چلا کہ صرف چار فی صد اسرائیلی شہری وزیر اعظم کو قابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔  صرف اسرائیل ہی میں  نہیں  بلکہ  بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی بڑے پیمانے پر مخالفت ہورہی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ نیتن یاہو،  بائیڈن اور سونک جیسے عالمی لیڈروں  کی آنکھوں  کا تارا ہیں  لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اس وقت دنیا کے ناپسندیدہ ترین انسان بن گئے ہیں ۔ اس سے بڑھ کر اور ذلت کیا ہوگی کہ ان کا موازنہ ہٹلر سے کیا جارہا ہے؟
۷؍ اکتوبر کے بعد اسرائیلیوں  کو عالمی ہمدردی اور نیتن یاہو کو عالمی حمایت مل گئی تھی لیکن جیسے جیسے غزہ میں  ہلاکتوں  میں  اضافہ ہونے لگا اور خصوصاً جب الاہلی ہسپتال پر حملہ کرکے اسرائیل ڈیفنس فورسز نے پانچ سو لوگوں  کو شہید کردیا تو ہمدردی نفرت میں  اور حمایت مخالفت میں  بدل گئی۔ امریکی شہروں  اور یورپ کی راجدھانیوں  میں  جنگ کی مخالفت اور فلسطینیوں  کی حمایت میں  مظاہرے ہونے لگے۔ غزہ میں  ہلاک ہونے والے معصوم بچوں  کے ویڈیو دیکھ کر سفید فام امریکی لڑکیاں  پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگیں  اور واشنگٹن اور شکاگو کی سڑکوں  پر "Palestine`s freedom is our dream"  کے نعرے بلند ہونے لگے۔ اتوار کے دن یہودیوں  نے غزہ کے مظلومین کی حمایت اورجنگ بندی کی توسیع کیلئے نیویارک کے مصروف ترین مین ہیٹن برج پر دھرنا دے کر گاڑیوں  کی آمدورفت روک دی۔ اسپین اور بلجیم جیسے یورپی ممالک فلسطینیوں  سے اظہار ہمدردی اور صہیونیوں  کی مذمت کرنے لگے اور ساؤتھ افریقہ بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی سی) سے نیتن یاہو کو گرفتار کرکے ان پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرنے لگا۔ اسرائیلی شہری سمیت دنیا بھر کے انصاف اور امن پسند یہودی آج نیتن یاہو پر لعنت بھیج رہے ہیں ، اُنہیں  یقین ہے کہ غزہ کے بے گناہوں  کی شہادت رائیگاں  نہیں  جائیگی، نیتن یاہو کا انجام برا ہوگا۔
دی گارجین کے مطابق اسرائیلی مظالم پر دنیا بھر میں  ہورہی مذمت سے حماس کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں ۔ پہلے لوگ فلسطینی شہریوں  کی حمایت کے ساتھ حماس کی مذمت بھی کررہے تھے۔ اب خیالات بدل رہے ہیں  اور دبی زبان سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سولہ برسوں  سے غزہ میں  جاری اسرائیل کی جابرانہ اور نسل پرستانہ پالیسیوں  نے حماس کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل تک نے یہ کہہ دیا کہ حماس کے حملے کو غزہ میں  فلسطینیوں  کی حالت زار کے تناظر میں  سمجھنے کی ضرورت ہے۔ رِہا ہونے والے اسرائیلی یرغمال مزاحمت کاروں  کے حسن اخلاق کی تعریف کررہے ہیں ۔ بلاشبہ اسرائیل نے ظلم و استبداد کی تمام حدیں  پار کردیں  پھر بھی فلسطینیوں   کے پائے استقلال میں  لغزش نہیں  ہوئی۔ فلسطینی باشندے مسکراکر موت کو گلے لگارہے ہیں  لیکن رحم کی بھیک نہیں  مانگ رہے ہیں ۔ دُنیا نے اتنے بڑے انسانی المیے کے درمیان مظلوموں  کی جانب سے بانکپن، استقلال،متانت اور وقارکا ایسا دل نشیں  نظارہ پہلے کبھی نہیں  دیکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یورپ اور امریکہ کے عام شہری فلسطینیوں  سے صرف ہمدردی نہیں  کررہے بلکہ ان کے صبر وتحمل اور غیر متزلزل ایمان کے گرویدہ بھی ہوتے جارہے ہیں ۔ فلسطینیوں  کی شجاعت اورجذبۂ  قربانی کو برسوں  قبل یہودی نژاد امریکی مصنف Anthony Bourdain نے منفرد انداز میں  بیان کیا تھا:
"Today nearly everything is made  in China...except for courage- it`s 
made in Palestine."

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK