موجودہ دور میں والدین کی مصروفیات بہت بڑھ گئی ہیں، ایسے میں بچوں کی تربیت بھی متاثر ہے ۔ زیرنظر مضمو ن میں اسی مصروف دور کے اہم اور ازحد ضروری موضوع سے بحث کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 4:19 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai
موجودہ دور میں والدین کی مصروفیات بہت بڑھ گئی ہیں، ایسے میں بچوں کی تربیت بھی متاثر ہے ۔ زیرنظر مضمو ن میں اسی مصروف دور کے اہم اور ازحد ضروری موضوع سے بحث کی گئی ہے۔
بچے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا عطیہ ہیں ، خود قرآن مجید نے ان کو آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے، (الفرقان: ۷۴ ) اور اللہ تعالیٰ نے دو اولو العزم پیغمبروں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت زکریا ؑ کے سلسلہ میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے خدا سے اولاد کے لئے دُعا فرمائی اوراللہ تعالیٰ نے اس کو قبول فرمایا۔ (الصافات :۱۰۰ ، مریم : ۵) اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کی خواہش انسان کی ایک فطری اور جائز خواہش ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو انسان کے لئے آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بنایا ہے۔ بچوں کے بغیر کسی خوبصورت اور جاذبِ قلب و نظر سماج کا تصور بھی ممکن نہیں۔
اسلام نے جیسے سماج کے مختلف طبقات کے حقوق اور واجبات متعین کئے ہیں ، اسی طرح بچوں سے متعلق ان کے سرپرستوں اور سماج کے فرائض کی بھی رہنمائی کی ہے۔ بچوں سے متعلق اسلام کا پہلا سبق یہ ہے کہ انسان دُنیا میں نئے انسان کی آمد پر خوش ہو نہ کہ غمگین اور فکر مند۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کی پیدائش کی اطلاع دی تو اس کو خوشخبری سے تعبیر فرمایا: ’’سو ہم نے ان (کی زوجہ) کو اسحاق (علیہ السلام) کی اور اسحاق (علیہ السلام) کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت دی۔‘‘
بچوں کی پیدائش خوشی کی بات ہے اس میں لڑکوں اور لڑکیوں کی کوئی تفریق نہیں۔ اسلام سے پہلے لوگ لڑکیوں کی پیدائش پر رنجیدہ خاطر ہوتے اور اس کو اپنے لئے باعث ِعار تصور کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس کو کافرانہ طریقہ قرار دیا اور اس کی مذمت فرمائی، (الزخرف: ۱۷) کیوںکہ انسان نہیں جانتا کہ اس کے لئے لڑکے زیادہ مفید ہوں گے یا لڑکیاں ؟ اور اسے یہ علم نہیں کہ کون مشکل وقتوں میں اس کے کام آئے گا ؟
یہ بھی پڑھئے:اللہ کے نزدیک مقبول ہونا مومن کی کامیابی ہے، پھر یہ وائرل ہونے کی خواہش کیوں؟
بچوں کا سب سے بنیادی حق ان کے زندہ رہنے کا حق ہے۔ اسلام نے جس طرح اس حق کی رعایت رکھی ہے شاید ہی اس کی مثال مل سکے۔ عام طور پربچہ کا قانونی وجود اس وقت مانا جاتا ہے جب اس کی پیدائش ہوچکی ہو لیکن اسلام کی نگاہ میں جس روز ماں کے رحم میں تخم انسانی نے قرار پکڑا اسی دن سے وہ ایک قابل احترام اور لائق ِحفاظت انسان ہے۔ اسی لئے اسلام کی نظر میں اسقاط حمل کو ناپسندیدہ عمل ہے۔ بچہ کی پیدائش کے بعد اس کی حفاظت اور بقاء کا انتظام نہ صرف والدین اور سرپرست بلکہ پوری انسانی برادری کا فریضہ ہے ۔ اسی مقصد کے لئے شریعت نے ماں پریہ اخلاقی حق رکھا ہے کہ وہ بچوں کو دودھ پلائے ۔ قرآن مجید نے ایک سے زیادہ مواقع پر اس کا ذکر کیا ہے۔ میڈیکل سائنس میں بھی یہ ایک تسلیم شدہ امرہے کہ بچوں کے لئے ماں کے دودھ سے زیادہ مفید اور بہتر کوئی غذا نہیں، پھر جب تک بچے اس لائق نہ ہوجائیں کہ خود کسبِ معاش کرسکیں، اس وقت تک بچوں کی کفالت والدین پر اور والدین نہ ہوں تو دوسرے قریبی رشتہ داروں پر رکھی گئی ہے۔ ماں باپ کے لئے یہ روا نہیں رکھا گیا کہ وہ نابالغ بچوں کو مزدوری پر لگائیں اور اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی برتیں ۔( الدر المختار مع الرد :۵؍۳۳۷)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ جس بات کی تاکید فرمائی وہ بچوں کی تعلیم اور ان کی تربیت ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اسلام بچوں کی جبری تعلیم کا بھی قائل ہے تو بے جا نہ ہوگا کیوںکہ آپؐ نے ہر مسلمان کے لئے تحصیل علم کو فرض قرار دیا ہے، (ابن ماجہ عن انسؓ) ظاہر ہے کہ فرائض میں ضرورت پڑنے پر جبر سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ امام بخاری ؒنے اپنی کتاب میں ایک عنوان کے تحت ثابت کیا ہے کہ پانچ سال کی عمر میں تعلیم کا آغاز ہونا چاہئے۔ (بخاری ، باب الغتباط فی العلم و الحکمۃ )
’’ تعلیم ‘‘ میں دین کی تعلیم بھی داخل ہے کہ بقدرِ ضرورت علم دین حاصل کئے بغیر نہ انسان اپنی دُنیا کو بہتر بناسکتا ہے اور نہ آخرت سنور سکتی ہے اس لئے ایسے علم کا حصول بھی ضروری ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرسکے اور ایک باعزت اور خود دار شہری کی حیثیت سے زندگی بسر کرنا اس کے لئے ممکن ہو ۔ قرآن مجید نے اس کے لئے ایک جامع تعبیر اختیار کی ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ سے بچاؤ۔ (التحریم :۶) بچوں کو دوزخ سے بچانے کیلئے دین کی تعلیم تو ضروری ہے ہی، طریقۂ معاش کی بھی تعلیم ضروری ہے تاکہ وہ جائز طریقہ پر اپنی ضروریات کو پورا کرسکیںاور جب روزی کمانے لائق ہوں تو حلال روزی کے ذرائع اختیار کریں۔
بچوں کی تعلیم اسلام کی نگاہ میں کس درجہ اہم ہے اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ گو اُصولی طور پر بالغ ہونے کے بعد بچے کی کفالت باپ پر واجب نہیں، سوائے اس کے کہ وہ معذور ہو لیکن اگر لڑکے حصولِ تعلیم میں مشغول ہوں اور والدین ان کے اخراجات ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو پھر ان کا نفقہ بھی واجب ہے۔ اسی طرح فقہاء نے طلبہ کیلئے زکوٰۃ کو جائز قراردیا اور بعض اہل علم نے ان کو بھی قرآن مجید کے بیان کئے ہوئے زکوٰۃ ’’فی سبیل اللہ ‘‘ کے زمرہ میں رکھا ہے ۔
بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت بھی ضروری ہے ۔ تربیت ہی در اصل انسان کو انسان بناتی ہے ، آپؐ نے فرمایا کہ کسی شخص نے اپنی اولاد کو اچھے اخلاق و آداب سے بہتر عطیہ نہیں دیا ۔ (ترمذی ، باب ماجاء فی ادب الولد ) ایک اور موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے بچوں کو تہذیب اور شائستگی سکھاؤ۔ (ابن ماجہ ، باب بر الوالد الخ ) آپؐ انسانی نفسیات کے عارف اور رہبر انسان تھے اور ہرچھوٹے بڑے معاملہ میں رہنمائی فرمایا کرتے تھے چنانچہ ایک موقع پر نہایت جامعیت کے ساتھ آپؐ نے بچوں کے ان حقوق کا ذکر فرمایا جو والدین پر ہیں ، ارشاد ہوا :
’’ساتویں دن بچہ کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور نہلایا دھلایا جائے، تیرہ سال میں نماز و روزہ کے لئے سرزنش کی جائے، سولہ سال کی عمر میں باپ اس کی شادی کردے، پھر اس کا ہاتھ پکڑے اور کہے: میں نے تجھے اخلاق سکھا دیئے، (قد أدبتک) تعلیم دے دی اور تیرا نکاح کردیا، میں اللہ کی پناہ چاہتاہوں اس سے کہ تو دُنیا میں میرے لئے فتنہ کا یا آخرت میں عذاب کا باعث بنے ۔‘‘ ( مسند احمد ، ابن حبان عن انسؓ )
آپؐ نے اپنے اسوہ اور ارشادات سے ہمیں بچوں کی تعلیم و تربیت کے طریقوں سے بھی آگاہ فرمایا۔ اس سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ بچوں کے مزاج اور موقع و محل کو دیکھتے ہوئے کبھی نرمی کا اور کبھی سختی کا معاملہ کیا جائے۔ بے جا تشدد اور ہر وقت سخت گیری فائدہ کم اورنقصان زیادہ پہنچاتی ہے؛ اسلئے اصل میں بچوں کے ساتھ شفقت مطلوب ہے۔ حضرت انسؓ راوی ہیں کہ میں نے کسی شخص کو بال بچوں میں آپؐ سے زیادہ شفیق نہیں دیکھا۔ (مسلم ) ایک بار اقرع بن حابسؓ نے حضورؐ کو دیکھا کہ آپؐ حضرت حسینؓ کا بوسہ لے رہے ہیں۔ اقرع ؓ نے کہا کہ میرے دس بیٹے ہیں میں نے کبھی ان کا بوسہ نہیں لیا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:فتاوے: سنت کی رکعت میں سورۃ، سلام کا جواب، طلاق کا سوال، قرآن پاک اور فدیہ
بچوں کے ساتھ بے احترامی اور حوصلہ شکنی کا رویہ بہتر نہیں۔ ان کے مزاج اور نفسیات کا لحاظ ضروری ہے۔ جہاں حد سے زیادہ سختی بچوں کی تربیت کے لئے مضر ہے، وہیں یہ بھی روا نہیں کہ جہاں تنبیہ اور ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت ہو وہاں بھی اپنے آپ کو مہر بہ لب رکھا جائے۔ اس سے بچوں کی تربیت نہیں ہوپاتی اور ان میںبد تہذیبی کا رجحان بڑھتا جاتا ہے۔ بعض بچوں میں اپنی ہر ضد کو پورا کرنے کا مزاج بن جاتا ہے۔ یہ بات بچوں کے مستقبل کے لئے بہت ہی نقصان دہ ہے۔ اسی لئے آپؐ نے حسب ِضرورت بچوں کی تنبیہ کا بھی حکم دیا ہے چنانچہ آپؐ نے فرمایا کہ جب بچے دس سال کے ہوجائیں اور نماز پڑھنے میں کوتاہی کریں تو ان کی کسی قدر سرزنش بھی کی جائے، (ترمذی) اسی لئے فقہاء نے والدین کو بال بچوں کی اور اساتذہ کو طلبہ کی مناسب حد میں رہتے ہوئے تادیب اور سرزنش کی اجازت دی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں بچوں کو سرپرست اپنا وقت نہیں دے پاتےجو بچوں کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ وہ باپ اور بزرگوں کی سچی محبت سے محروم ہیں اور بچوں کی تربیت کے پہلو پر بے توجہی عام ہے۔ بچوں کا حق صرف یہ نہیں کہ ان کیلئے خورد و نوش کا انتظام کردیا جائے؛ ان کیلئے اصل کام یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کو معلم اخلاق بنایا جائے اور لوگوں کو سمجھایا جائے کہ بچوں کیلئے کماناہی سب کچھ نہیں، اُن پر اپنا وقت صرف کرنا بھی بنیادی اور اہم ہے ، اور ان کو اس سے محروم رکھنا ان کے ساتھ نا انصافی اور حق تلفی ہے!
والدین کی دعا سے عبداللہ بن مبارکؒ کی دنیا بدل گئی!
اولادکے لئے دُعائے خیر بھی ان کا ایک حق ہے۔ اپنے بچوں کے لئے بھی اور قوم کے بچوں کے لئے بھی۔ کیونکہ دُعا بہرحال اثر رکھتی ہے۔ اس سلسلہ میں مشہور محدث اور صاحبِ دل امام عبداللہ بن مبارکؒ کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ اپنی ابتدائی زندگی میں گانے بجانے اور عیش و عشرت میں مست رہتے تھے۔ آپ کے والدین کو اس پر بڑی کڑھن تھی اور دن رات رو رو کر اللہ سے دُعا کرتے تھے۔ اسی درمیان جب ایک دن عیش و نشاط کی بزم آراستہ تھی کہ آپ کی آنکھ لگ گئی اور آپ ؒ نے خواب میں دیکھا کہ ایک خوبصورت باغ ہے ، جس میں ایک ٹہنی پر پرندہ بیٹھا ہوا ہے اور وہ اس آیت کو پڑھ رہا ہے جس کا ترجمہ ہے :
’’کیا ایمان والوں کے لئے (ابھی) وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی یاد کے لئے رِقّت کے ساتھ جھک جائیں اور اس حق کے لئے (بھی) جو نازل ہوا ہے۔‘‘ (الحدید : ۱۶)
امام عبد اللہ بن مبارک ؒ بے چین ہو کر اٹھے ، ان کی زبان پر تھا کہ ’’ خدایا ! وہ وقت آگیا‘‘ پھر تو اسی وقت جام و سبو چکنا چور کردیئے ، رنگین کپڑے اُتار پھینکے ، غسل کیا اور خدا کے حضور توبہ کی ، یہاں تک کہ علم و معرفت کے اُفق پر خورشید بن کر چمکے کہ شاید ہی کوئی محدث اورفقیہ ہو جس نے ان کی علمی عظمت اور فضل و تقویٰ کا اعتراف نہ کیا ہو ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ والدین کی دُعا ہی کا اثر تھا۔