بی پی ایس سی امتحان: مسلم امیدواروں میں ٹاپ کرنے والی صدف عالم ایس ڈی ایم بنیں

Updated: October 13, 2021, 2:20 PM IST | Agency

  بہار پبلک سروس کمیشن کے سی ای ای ۶۵؍ ویں امتحان میں ریاست کے مظفر پور ضلع کی  رہنے والی صدف عالم نے ۲۸؍واں مقام حاصل کرکے ضلع اور قوم کا نام روشن کیا ہے۔

Sadaf Alam from Muzaffarpur district of the state secured 65th position..Picture:INN
بی پی ایس سی امتحان میں ۲۸؍ویں رینک سے کامیاب صدف عالم ۔ تصویر: آئی این این

  بہار پبلک سروس کمیشن کے سی ای ای ۶۵؍ ویں امتحان میں ریاست کے مظفر پور ضلع کی  رہنے والی صدف عالم نے ۲۸؍واں مقام حاصل کرکے ضلع اور قوم کا نام روشن کیا ہے۔ ضلع کے  صدر تھانہ علاقے میں واقع پتاہی پنچایت میں گاؤں کی بیٹی کی اس شاندار کامیابی پر جشن کا ماحول ہے۔  صدف عالم اس امتحان میں کامیاب ہونے والے ۳۶ مسلم طلبہ میں سرفہرست رہیں۔  ان کا انتخاب بہار ایڈمنسٹریٹیو سروس کے لئے ہوا ہے اور وہ ایس ڈی ایم کے عہدہ کی حقدار قرار دی گئی ہیں۔  قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال بھی اس امتحان میں صدف نے کامیابی حاصل کی تھی اور انہیں ریوینیو آفیسر کا عہدہ حاصل ہوا تھا۔  تاہم  اعلیٰ سرکاری افسر بننے کی  ان کی  دیرینہ تمنا رہی ہے لہٰذا انہوں نے دوسری بار قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور کامیاب رہیں۔  
 تفصیلات کے مطابق صدف عالم  مظفر پور کے پتاہی گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ ان کے والد منصور عالم کپڑوں کے تاجر ہیں۔  صدف کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی ہوئی۔  اس کے بعد ان کا داخلہ راجستھان کے مشہور ریزیڈنشیل اسکول ’  ونستھلی یونیورسٹی‘ میں ہوا جہاں انہوں نے بارہویں تک تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد صدف نے امیٹی یونیورسٹی سے آئی ٹی میں بی ٹیک مکمل کیا۔ صدف نے سول سروسیز میں کریئر بنانے کے عزم  کے ساتھ دہلی اور علی گڑھ کا رخ کیا اور یہاں مقابلہ جاتی امتحان کی رہنمائی حاصل کی اور آگے کی تیاری بھی یہیں کی۔ انہوں نے ایک اٹیمپٹ یوپی ایس سی امتحان   کا بھی کیا ہے۔  صدف نے اس شاندار کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مجھے یقین تھا کہ میں اس بار بھی کامیاب ہوجاؤں گی ، لیکن اتنا اچھا رینک ملے گا اس کا اندازہ نہیں تھا۔ ‘‘ ریاستی سروس کی جانب پیشقدمی کے متعلق استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ’’بی ٹیک مکمل کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ مجھے کارپوریٹ میں ملازمت نہیں کرنا ہے، میں گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں ، بچپن سے ایس ڈی ایم اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو جب بھی کبھی گاؤں میں دیکھا تو دل میں یہی خیال آتا تھا کہ یہ بننا چاہئے۔ اس طرح میں نے گریجویشن کے بعد تیاری شروع کی اور خدا کا شکر ہے کہ پہلے ہی اٹیمپٹ میں کامیاب ہوگئی تھی۔ مجھے ریوینیو آفیسر کا عہدہ ملا تھا لیکن میری چاہت تھی کہ میں اعلیٰ ایڈمنسٹریٹیو عہدہ حاصل کروں ۔ اس لئے میں نے دوسری بار امسال یہ امتحان دیا اوراللہ کا شکر ہے کہ میں کامیاب رہی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK