• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

Updated: February 06, 2026, 3:44 PM IST | shamim Tariq | mumbai

مہاراشٹر کے سابق نائب وزیراعلیٰ آنجہانی اجیت پوار مذہب اور ذات پات کی سیاست نہیں کرتے تھے۔ ان کی حادثاتی موت کے بعد چند سوال سب کی زبانوں پر ہیں کہ این سی پی کی سربراہی کون کریگا، وزیر مالیات کون بنے گا اور جو بنے گا وہ اپنی اہلیت ثابت کرسکے گا یا نہیں؟

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جب ہر طرف سے جانچ کی دہائی دی جا رہی تھی شردپوار نے اجیت پوار کی ناگہانی موت کو حادثہ قرار دیا اور اس حادثے پر سیاست نہ کرنے کی بات کہی۔ شردپوار، اجیت پوار کے چچا، سرپرست اور مطلع سیاست پر ایک ایسے تابناک ستارے کے طور پر نمودار کرنے والے ہیں  جو جلد ہی آسمانِ سیاست پر چھا گیا۔ شردپوار کے بارے میں  یہ نہیں  سوچا جاسکتا کہ وہ اجیت پوار کی حادثاتی موت پر سیاست نہ کرنے کی بات کہہ کر سیاست کرنا چاہتے ہیں  مگر آزادی کے بعد ملک کے عظیم لیڈروں  کے ساتھ جو ہوتا رہا وہ نظرانداز بھی تو نہیں  کیا جاسکتا۔ اگر یہ حادثہ ہے تو یہ حادثہ بار بار کیوں  ہو رہا ہے؟

lسب سے پہلے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت واقع ہوئی۔ جانچ کمیشن بیٹھا مگر کوئی نتیجہ سامنے نہیں  آیا۔

۲۳l؍ جون ۱۹۸۰ء کو اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی کی طیارہ حادثے میں  موت ہوئی۔

۳۰l؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کو کابینہ کے اہم وزیر اور کانگریس کے اہم لیڈر مادھو راؤ سندھیا کی طیارہ حادثے میں  موت ہوئی۔

۳l؍ مارچ ۲۰۰۲ء میں  لوک سبھا کے اسپیکر جی ایم سی بال یوگی ہیلی کاپٹر حادثے میں  جان گنوا بیٹھے۔

lہریانہ کے سابق وزیر اوم پرکاش جنرل ۳؍ مارچ ۲۰۰۵ء کو ہیلی کاپٹر حادثے میں  ہمیشہ کے لئے موت کی آغوش میں  سو گئے۔

lوائی ایس راج شیکھر ریڈی آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ تھے۔ ۲؍ ستمبر ۲۰۰۹ء کو ان کی بھی ہیلی کاپٹر حادثے میں  موت ہوگئی۔

lاروناچل کے وزیراعلیٰ ڈورجی کھانڈو بھی ۳۰؍ اپریل ۲۰۱۱ء کو ہیلی کاپٹر حادثے میں  جان سے گئے۔

lوجے روپانی گجرات کے سابق وزیراعلیٰ تھے، ۱۲؍ جون ۲۰۲۵ء کو ہوائی حادثے کی نذر ہوگئے۔

اسلئے شردپوار کے سیاست نہ کرنے کے مشورے کو قبول کرنے کے باوجود یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ جائے حادثے پر گئے کیوں  تھے؟ یقیناً خون کے رشتے کی طلب کے علاوہ یہ ان کے دل میں  پیدا ہونے والا وہ شبہ تھا جو انہیں  وہاں  لے گیا۔ آج ہی ایک اور ڈپٹی سی ایم کے بال بال بچنے کی خبر آئی ہے اسلئے شبہ شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ جائے حادثہ پر موجود لوگوں  کا کہنا ہے کہ طیارہ زمین سے ٹکرایا اور زبردست دھماکہ ہوا۔ ہوائی پٹی سے ۱۰۰؍ فٹ اوپر تھا طیارہ۔ اب محسوس ہو رہا تھا کہ اترتے وقت طیارے کا کنٹرول ختم ہوگیا تھا۔ ایک دوسرے عینی شاہد نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد فائر بریگیڈ جائے حادثہ پر پہنچا، ایمبولینس بھی آیا اور تمام میتوں  کو فوراً بھیج دیا گیا۔

اجیت پوار کو این سی پی توڑنے کی وجہ سے جانا جاتا ہے مگر یہ ان کا صحیح تعارف نہیں  ہے۔ صحیح تعارف یہ ہے کہ انہوں  نے این سی پی سے الگ ہو کر نئی این سی پی بنانے، اپنی بیوی کو اپنی چچا زاد بہن جو ان کے لئے سگی بہن سے زیادہ تھیں  کے خلاف پارلیمنٹ کا الیکشن تو لڑوایا مگر گھر خاندان ٹوٹنے نہیں  دیا۔ انہوں  نے بعد میں  یہ اعتراف بھی کیا کہ بیوی سونیترا کو بہن سپریا کے خلاف الیکشن لڑوا کر ٹھیک نہیں  کیا۔ اس قسم کی کشادہ ذہنیت کے لوگ سیاست میں  کم ہی ہوتے ہیں ۔ اپنی غلطیوں  کا اعتراف کرنے والے تو شاید عنقا ہیں ۔ ان کے بارے میں  یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ گیارہ مرتبہ وزیر مالیات رہے اور ریاست کو فضول خرچی سے بچایا۔ مسلم ایم ایل ایز نے جو بیان جاری کیا اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذہب اور ذات پات کی سیاست نہیں  کرتے تھے۔ میرےد وست شاہنواز تھانہ والا بتاتے ہیں  کہ وہ عید قرباں  پر قربانی کا ایک مسئلہ لے کر اجیت دادا کے پاس گئے اور انہوں  نے اس مسئلے کو یوں  حل کیا کہ افسر کو بلایا اور کہا کہ جو کچھ قانون کے مطابق ہے اس کی ادائیگی میں  کوئی رکاوٹ نہیں  پڑنی چاہئے۔ یہ ان کے اچھے منتظم اور غیر متعصب ہونے کی دلیل ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ اچھے قانون کو استعمال کرکے مسئلہ حل کرنے کے بجائے بری ذہنیت استعمال کرکے مسئلہ کو الجھایا جاتاہے۔

یہ بھی پڑھئے: جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

احمدآباد میں  ایئر انڈیا کے طیارے کا حادثے سے دو چار ہونا اور بارہ متی میں  نائب وزیراعلیٰ کا طیارہ حادثے میں  موت کی نیند سو جانا دو الگ الگ واقعات ہیں  مگر ان واقعات یا حادثات نے پورے ملک کو صدمے میں  مبتلا کر دیا ہے۔ احمدآباد معاملے کی جانچ جاری ہے اور ہر دن کوئی ایسی بات سامنے آرہی ہے جن سے الجھن بڑھتی جا رہی ہے وہیں  بارہ متی میں  جو ہوا وہ شروع سے ہی کچھ کوتاہیوں  اور کمیوں  کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ڈی جی سی اے نے ابتدا میں  جو معلومات فراہم کی ہے اس سے لگتا ہے کہ پائلٹ کو ’رن وے‘ نہیں  دکھائی دے رہا تھا۔ پہلی بار لینڈنگ ناکام ہوئی تو طیارے نے ہوا میں  پرواز بھری اور دوبارہ جب طیارہ کو زمین پر لانے کی کوشش کی تو اس کو ’رن وے‘ نہیں  نظر آرہا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ حادثہ اس وقت ہوا جب پائلٹ نے کہا تھا کہ اب ’رن وے‘ دکھائی دے رہا ہے۔ ڈی جی سی اے کا کہنا ہے کہ ’طیارہ کرو‘ یعنی طیارہ پر سوار عملہ نے میڈے کال یعنی شہری ہوا بازی میں  انتہائی ضروری انتباہ نہیں  دیا تھا جو حالات یا طیارہ کے پوری طرح کنٹرول میں  نہ ہونے پر دیا جاتا ہے۔ دوسرا سوال فلائنگ کنڈیشن سے متعلق ہے۔ جہاں  طیارہ حادثے کا شکار ہوا وہاں  ٹرانک سروس اور اطلاعات ایئر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کے ذریعہ نہیں  بلکہ فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز کی طرف سے مہیا کرائی جاتی ہے۔ ایسے ہی ایئر فیلڈ کو ’ان کنٹرولڈ‘ کہتے ہیں  اور یہاں  عام طور سے سہولتیں  کم میسر ہوتی ہیں ۔ مَیں  یہ سمجھتا ہوں  کہ جب یہاں  ویزیبلٹی کا مسئلہ تھا تو لینڈنگ کرنے سے بچا جاسکتا تھا۔ اجیت پوار جس طیارہ میں  سوار تھے وہ ’وی ایس آر وینچرس‘ کا ہے۔ ستمبر ۲۰۲۳ء میں  اس کمپنی کا ایک طیارہ ممبئی میں  حادثے کا شکار ہوا تھا۔ اس حادثے میں  کسی کی جان تو نہیں  گئی تھی مگر اس حادثے کی جانچ رپورٹ اب تک سامنے نہیں  آئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جمہوریت، جمہوری سماج اور قانون شکنی

اس وقت چند سوال سب کی زبانوں  پر ہیں  مثلاً اجیت پوار کی این سی پی کی سربراہی کون کرے گا، وزیر مالیات کون بنے گا اور جو بنے گا وہ اپنی اہلیت ثابت کرسکے گا یا نہیں ؟ اسمبلی میں  اجیت پوار کے ۴۰؍ ایکناتھ شندے کے ۵۷؍ اور بی جے پی کے ۱۳۲؍ اراکین ہیں ۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں  مگر حکومتیں  صرف اعداد سے نہیں  چلتیں ۔ حکومت چلانے کیلئے صلاحیت بھی ضروری ہے اور سردست کالم نگار کی نگاہ میں  اجیت پوار جیسا کوئی دوسرا نہیں  اس لئے کہا جاسکتا ہے؎

ایسا کہاں  سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں  جسے

ان کی جگہ سونیترا پوار کو نائب وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے مگر اس عہدے پر فائز ہو کر وہ کیا کرتی ہیں  یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

ajit pawar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK