• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دل کو صرف دھڑکنے نہ دیں، اسے صحت مند بھی رکھیں

Updated: September 29, 2026, 3:43 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کیا ہم اپنے دل کی خبر صرف اس وقت لیتے ہیں جب سینے میں درد اٹھتا ہے؟ کیا صحت مند دکھائی دینے والا انسان بھی دل کی بیماری کا شکار ہوسکتا ہے؟ اور کیا روزمرہ کی کچھ معمولی عادتیں خاموشی سے ہمارے دل کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کیا ہم اپنے دل کی خبر صرف اس وقت لیتے ہیں جب سینے میں درد اٹھتا ہے؟ کیا صحت مند دکھائی دینے والا انسان بھی دل کی بیماری کا شکار ہوسکتا ہے؟ اور کیا روزمرہ کی کچھ معمولی عادتیں خاموشی سے ہمارے دل کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں؟ورلڈ ہارٹ ڈے ہمیں ہر سال۲۹؍ ستمبر کو انہی سوالات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دل ہمارے جسم کا وہ عضو ہے جو پیدائش سے پہلے ہی کام شروع کردیتا ہے اور زندگی کے آخری لمحے تک مصروف رہتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم اس کی صحت کو اپنی ترجیحات میں اس وقت شامل کرتے ہیں جب کوئی مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ دل کی حفاظت کسی ایک دوا یا ایک دن کی احتیاط سے نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے معمولات سے ہوتی ہے۔

 کھانے کو دوا بنائیں، بیماری کا سبب نہیں

ہماری غذا دل کی صحت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور صحت مند چکنائی کو غذا کا حصہ بنانا چاہیے جبکہ بہت زیادہ تلی ہوئی، چکنائی، نمک اور شکر والی اشیا کے استعمال کو محدود کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اپنے’بی ایم آئی‘ کو کم از کم سال میں ایک بار ضرور چیک کروائیں

 نمک کم کریں

نمک کی زیادتی بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے اور دل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ کھانے میں اوپر سے نمک چھڑکنے کی عادت ختم کرنا اور پیکٹ بند اشیا خریدتے وقت غذائی لیبل دیکھنا ایک اچھی ابتدا ہوسکتی ہے۔

 جسم کو حرکت دیتے رہیں

گھنٹوں کرسی پر بیٹھے رہنا، چند قدم کی دوری تک کا سفر بھی گاڑی سے کرنا اور جسمانی سرگرمی سے مسلسل دور رہنا صحت کیلئے مناسب نہیں۔ تیز چہل قدمی جیسی معتدل سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ عالمی ادارۂ صحت بالغ افراد کیلئے ہفتے میں کم از کم۱۵۰؍ منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی کی سفارش کرتا ہے۔

 تمبا کو ’کبھی کبھار‘ بھی استعمال نہ کریں

سگریٹ، بیڑی اور تمباکو کی دوسری شکلیں دل اور خون کی نالیوں کو متاثر کرتی ہیں۔ سگریٹ نوشی چھوڑنا دل کی صحت کیلئے اہم قدم ہے اور اس سلسلے میں ضرورت پڑنے پر طبی ماہرین سے مدد بھی لی جاسکتی ہے۔

 بلڈ پریشر کو  نظر انداز نہ کریں

ہائی بلڈ پریشر کئی مرتبہ واضح علامات کے بغیر موجود رہتا ہے۔ اسی لیے صرف یہ سوچ لینا کہ ’’مجھے تو کوئی تکلیف نہیں‘‘ کافی نہیں۔ وقتاً فوقتاً بلڈ پریشر کی جانچ کرانا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دل کیا ہے اور ہمارے جسم میں اس کی کیا اہمیت ہے؟

 کولیسٹرول اور خوشکر کی جانچ کراتے رہیں

کولیسٹرول اور خون میں شکر کی زیادتی قلبی بیماری کے خطرے سے وابستہ عوامل ہیں۔ بالخصوص ایسے افراد جن کے خاندان میں دل کی بیماری، ذیابیطس یا بی پی کی تاریخ ہو، انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے طبی جانچ کرانی چاہئے۔

 بڑھتے وزن کو معمول نہ سمجھیں

اضافی وزن بلڈ پریشر، خون میں شکر اور کولیسٹرول جیسے کئی خطراتی عوامل کو متاثر کرسکتا ہے۔ وزن کو متوازن رکھنے کیلئے فاقہ کشی یا غیر سائنسی نسخوں کے بجائے متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی زیادہ قابلِ عمل راستہ ہے۔

 ذہنی سکون اور نیند کو اہمیت دیں

مسلسل تناؤ، بے آرامی اور بے ترتیب معمول مجموعی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ کام کے ساتھ آرام، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور خاندان یا دوستوں کے ساتھ صحت مند سماجی تعلقات بھی متوازن زندگی کا حصہ ہیں۔

 خاندانی تاریخ کو نظرانداز نہ کریں

اگر والدین یا قریبی رشتہ داروں میں کم عمری میں دل کا دورہ، فالج، بلند فشارِ خون یا غیر معمولی کولیسٹرول کی تاریخ رہی ہو تو اس بارے میں اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔ خاندانی تاریخ بعض قلبی خطرات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

 علامات کو معمولی نہ سمجھیں

سینے میں دباؤ یا درد، سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی پسینہ، اچانک کمزوری یا بے ہوشی جیسی علامات سامنے آئیں تو انہیں محض تھکن یا گیس سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔دل کی صحت کا تعلق صرف اسپتال، دوا اور ڈاکٹر سے نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ ہم کیا کھاتے ہیں، کتنا چلتے ہیں، کتنا آرام کرتے ہیں اور اپنی صحت کی کتنی نگرانی کرتے ہیں،یہ سب ہمارے دل کیلئے اہم ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK