ہردوئی کی ایک طالبہ جس نے جونیئر اسسٹنٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی،وہ کئی بار معمولی فرق سےکوالیفائی کرنے سے رہ گئی تھی۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 3:20 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ہردوئی کی ایک طالبہ جس نے جونیئر اسسٹنٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی،وہ کئی بار معمولی فرق سےکوالیفائی کرنے سے رہ گئی تھی۔
پیہانی، ہردوئی کے محلہ مشرانہ میں رہنے والے ٹیچر اکھلیش مشرا کی بیٹی رشمی مشراکیلئے ۹؍ستمبر۲۰۲۶ء کا دن کوئی عام دن نہیں تھا۔ چھوٹے سےمکان میں موجود ہر فرد ہائیکورٹ جونیئر اسسٹنٹ امتحان کا نتیجہ دیکھنے کیلئے بے قرار تھا۔ جس میں ان کےگھر کی ہونہار بیٹی نے بھی شرکت کی تھی۔ پھر وہ لمحہ آگیا جب رشمی کی ۱۰؍ سالہ سخت محنت، جدوجہد اور آنسوؤں کی محنت رنگ لائی۔ رشمی مشرا یہ امتحان کوالیفائی کرکے سرکاری ملازمت کی حقدار بن گئی۔
رپورٹ کے مطابق رشمی کی یہ حصولیابی اسلئے خاص ہے کہ اسے اس مقام تک پہنچنے کیلئے کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ صبح۸؍ بجے سے دوپہر۲؍ بجے تک وہ اپنے والد کے قائم کردہ اسکول میں صرف تدریس ہی نہیں کرتی تھی بلکہ پورے اسکول کی ذمہ داری بھی سنبھالتی تھی۔ اس کے بعد شام۴؍ بجے تک چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اپنی اور خاندان کی مالی کفالت کا ذریعہ بنتی ہے۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ اور تھکن کے بعد جب پورا شہر سو جاتا ہے، تب رشمی کی اپنی پڑھائی شروع ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے آج تک کبھی کسی کوچنگ کا سہارا نہیں لیا۔ اس نے اپنی محنت اور خود مطالعے کے بل پر ہی ہر امتحان دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی کی مختصر تحریروں سے قوت فکر و استدلال کو خطرہ!
جب غربت سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی
رشمی کی جدوجہد کی کہانی۲۰۱۶ءمیں شروع ہوئی۔ جب اس نے پہلی مرتبہ ہائیکورٹ جونیئر اسسٹنٹ کا تحریری امتحان پاس کیا تو گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، لیکن مالی مشکلات کے باعث وہ ٹائپنگ کی کوچنگ نہیں لے سکی اور مین ایگزام سے باہر ہو گئی۔
جب غربت سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی
دوسری مرتبہ بھی اس نے تحریری امتحان پاس کیا۔ اس کی محنت اور لگن دیکھ کر قصبے کے ہی ششی اوستھی اور کلدیپ اوستھی آگے آئے۔ انہوں نے رشمی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے ایک نیا لیپ ٹاپ دیا اور کہا، ’’بیٹی، تم گھر پر رہ کر ہی ٹائپنگ کی مشق کر سکتی ہو۔‘‘
یہ لیپ ٹاپ رشمی کیلئے سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس نے دن رات محنت کرکے ٹائپنگ کا امتحان بھی پاس کرلیا، لیکن فائنل میرٹ لسٹ میں وہ محض۵ء۰؍مارکس کمی سے رہ گئی۔ اگلی مرتبہ بھی اسے صرف۲ء۰؍ نمبر کی کمی سے حتمی انتخاب سے باہر ہونا پڑا۔۲۰۲۵ءمیں ہائی کورٹ جونیئر اسسٹنٹ کے امتحان میں۱۰۰؍ میں سے۸ء۸۹؍نمبر حاصل کرنے کے باوجود وہ انگریزی ٹائپنگ میں کامیاب نہ ہو سکی۔
۱۰؍ سال تک معمولی فرق سے مسلسل ناکامی کا سامنا کسی بھی انسان کو توڑ سکتا ہے، لیکن رشمی چٹان کی طرح ثابت قدم رہی۔ اور پھر وہ لمحہ آ ہی گیا۔۹؍ستمبر کی شام جیسے ہی نتیجہ جاری ہوا، موبائل اسکرین پر کامیاب امیدواروں کی فہرست میں رشمی کا نام جگمگا اٹھا۔اہلِ خانہ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔