سائیکولوجسٹ عزیز الدین خان جنہوں نے ڈِسلیکسیا کی تشخیص اوراس سے نمٹنے کا کارگر حل پیش کیا

Updated: November 09, 2020, 3:04 PM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed

یوپی کے ایک چھوٹے سے قصبہ سے ملک کے نامور سائیکولوجسٹ اور محقق بننے کی ان کی یہ کہانی نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے،وہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو اس شعبہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہئے

Azizuddin Khan
عزیز الدین خان

 ہم آپ کی ملاقات ایک ایسے سائیکولوجسٹ سے کروارہے ہیں جنہوں نے ڈسلیکسیا کی تشخیص اور اس نمٹنے کا موثر حل ڈھونڈ نکالا ہے۔ علاوہ ازیں وہ کئی تحقیقی و اختراعی پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچاچکے ہیں۔  سائیکولوجسٹ عزیز الدین خان  کا تعلق اترپردیش کے ضلع بہرائچ کے قصبہ مہین پُروا سے ہے۔ انہوں نے مشکل ا ور خشک سمجھے جانے والے مضمون علم نفسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے  نہ صرف اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کی بلکہ اس شعبے میں کئی تحقیقی و اختراعی کاموں کا ان کا سلسلہ دراز ہے ۔ اس وقت  وہ ملک کے مایہ ناز ادارہ  آئی آئی ٹی بامبے میں  اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں۔   انقلاب سے خصوصی بات چیت کے اہم اقتباسات آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ 
 عزیز الدین صاحب آپ کے تعلیمی سفر کی روداد بیان کریں؟
عزیز الدین:  میں نے ضلع بہرائچ کے قصبہ مہین پُروا کی سرودیہ انٹر کالج  ہندی میڈیم  سے ۱۹۸۸ء  میں دسویں جماعت کا امتحان ۵۶؍ فی صد مارکس سے کامیاب کیا۔ بعد ازیں والدین کی خواہش پر فزکس، کیمسٹری اور بایولوجی مضامین کے ساتھ سائنس اسٹریم میں ۶۴؍ فیصد مارکس سے ۱۹۹۰ء میں بارہویں بورڈ کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ سائنس بیک گراونڈ کے باوجود میرا رجحان  سائیکالوجی کی جانب بڑھا،  بڑے بھائی چونکہ انجینئر تھے انہوں نے شدید مخالفت کی اور اس بات پر غصہ بھی ہوئے کہ میں سائیکالوجی کے شعبہ میں کیوں جا رہا ہوں؟  انہوں نے کہا تھا کہ  اچھے مارکس کی بنیاد پر تمہارا داخلہ   کسی انجینئرنگ یا میڈیکل کالج میں   ہو جائے گا۔ والد صاحب نے بھی یہی بات دہرائی کہ تم آرٹس فیکلٹی میں جا کر کیا کرو گے؟ لیکن ان سب کے باوجود میں اپنا ذہن بنا چکا تھا اور یہی بات کا تہیہ بھی کر چکا تھا کہ آگے کی مزید تعلیم اپنی دلچسپی اور پسند سے ہی کروں گا۔ یوں میں نے بی اے سائیکالوجی اسٹریم میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنا داخلہ لیا۔ بچپن سے پڑھائی کا شوق اور تعلیم سے رغبت نے میرے اندر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق و جذبہ پیدا کیا۔   میں نے ۱۹۹۳ء میں ۶۶؍ فیصد نمبرات سے گریجویشن مکمل کیا۔  پی جی داخلہ امتحان  میں مجھے اور میرے ایک دوست ابولبرکات کو ماسٹرز کیلئے  اسکالرشپ منظور ہوئی۔ اسی طرح۱۹۹۵ء  میں ایم اے سائیکالوجی  میں نے ۶۹ء۵؍فی صد سے کامیاب کیا۔ نفسیات میں مزید دلچسپی بڑھتی گئی۔پھر  میں نے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا اور  آئی  آئی ٹی کانپور میں Cognitive Psychology عنوان پر ۲۰۰۴ء میں داخلہ لیا۔ دورانِ پی ایچ ڈی  سیناپسس جمع کرنے سے قبل میں ایک سال کے لئے فن لینڈ گیا ۔ ۲۰۰۵ء میں   اپنا تھیسیس مکمل کیا اور ۲۰۰۶ء میں مجھے منی پال انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کرناٹک میں بطورِ اسسٹنٹ پروفیسر ملازمت مل گئی ۔
 آپ نے کون سے تحقیقاتی کام کئے ، کتنے ممالک میں تعلیمی اسفار کا موقع ملا؟
عزیزالدین : میں نے اب تک تقریباً ۱۰۰؍ سے زائد بین الاقوامی تعلیمی سفر کئے۔ یہ اسفار سائنسی تحقیقات، کانفرنس، ٹریننگ، ورکشاپ اور دیگر نفسیاتی پروجیکٹ میں شرکت کی غرض سے کئے گئے ۔ سائنس اور نفسیات کے عنوان پر اب تک میں نے قومی اور بین الاقوامی سطح کے تقریباً ۲۰؍پروجیکٹ مکمل کئے ہیں۔ ساتھ ہی  ۴۶؍ سے زائد تحقیقاتی مقالے پیش کئے۔ ہندوستان کا پہلا سائیکوفیز یالوجی لیب آئی آئی ٹی پوائی ممبئی میں ڈیولپ کرنے میں اہم کردار کیا۔
 آئی آئی ٹی  ممبئی میں تقرر کب اور کیسے ہوا؟
عزیز الدین : آئی آئی ٹی کانپور میں پی ایچ ڈی  اور بعد ازیں منی پال یونیورسٹی میں تقرری کے دوران مجھے فن لینڈ، سوئزرلینڈ، جاپان، جرمنی اور پرتگال کے علاوہ دیگر ممالک میں مختلف تعلیمی کانفرنس اور تربیتی ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا جہاں میں نے ریسرچ پیپرز پڑھے ان تمام سے مجھے بہت اچھا ایکسپوزر ملا۔ ایک اشتہار کے ذریعے مجھے آئی آئی ٹی ممبئی میں لیکچرشپ کی پوسٹ کا علم ہوا میں نے امتحان اور انٹرویو دیا یوں الحمدللہ۲۰۰۷ء میں بطورِ سینئر لیکچرر کے میرا تقرر ہوااوراس کے بعد فوراًبیرون ملک چلا گیا اور واپسی پر دوبارہ ایک انٹرویو کے بعد بطورِ اسسٹنٹ پروفیسر میری ترقی ہوئی۔
 آپ کے کچھ قابل ذکر تحقیقی کاموں کے متعلق مختصراً بتائیے۔
عزیز الدین : (۱) تارے زمین پر فلم کا نام آپ نے سنا ہوگا اس میں درشیل نامی طالبِ علم کے کردار کے ذریعے ڈسلیکسیا نامی بیماری کے کانسیپٹ کو میں نے  حقیقی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ 
(۲) دنیا میں جتنی زبان بولی جاتی ہے اس میں سے بیشتر زبانوں کو اسکرپٹ کی صورت میں لکھنا چاہیں تو وہ تمام زبانیں بائیں سے دائیں جانب لکھی جاتی ہے۔ لیکن اردو کے علاوہ دو تین ایسی زبانیں ہے جو متن کی صورتِ میں دائیں سے بائیں لکھی اور پڑھی جاتی ہے تاہم ہندسہ (نمبر) بائیں سے دائیں پڑھا اور لکھا جاتا ہے، لہٰذا اردو قارئین دو طرفہ پڑھنے والے ہیں۔ لہٰذا میں یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ دو طرفہ پڑھنے والے کا دماغ کس طرح بلا روک ٹوک یہ کام انجام دیتا ہے۔ آپ اس بات کو جملے کی صورت میں یوں سمجھیں کہ ’’میرے پاس ۱۰۲۵؍ کتابیں ہیں۔‘‘آپ نے اردو متن کو دائیں سے بائیں پڑھا جبکہ اعداد کے لئے آپ کی آنکھیں اور دماغ  بائیں سے دائیں کو سمت بدل رہا ہے۔ میری تحقیق کا موضوع یہی  ہے۔
(۳) ڈیسلیکسیا (نقصِ تحصیلِ علم) نامی بیماری سے تعلق رکھنے والے طلباء جب کچھ بولتے ہیں تو ان کے چند حروف کا تلفظ درست نہیں نکلتا۔ جب ہم کچھ پڑھتے ہیں تو ہمارے پاس بینائی اور آواز  یہ دو حواس درکار ہیں۔ جو بچے ڈسلیکسیا نامی بیماری کا شکار ہوتے ہیں ان کو چند حروف کی ادائیگی میں دشواری پیش آتی ہے۔ اور اس وجہ سے ان کے تلفظ کی ادائیگی درست طریقے سے نہیں ہوپاتی۔ چونکہ ان کے دماغ کے کسی ایک حصے میں نیورولوجیکل پرابلم ہوتا ہے جسے درست نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ ایک پیدائشی نقص ہے۔ میں نے ایک  ایسا مخصوص بیلٹ بنایا ہے جس میں بہت مہین حرکت کرنے والے آلے نصب کئے گئے ہیں جو مخصوص قسم کی حرکت کی مدد سے بچے کے دماغ کو اشارہ پہنچاتا ہے کہ اس الفاظ کی آواز یوں ہے۔ مثلاً اگر ہم بچہ کے سامنے ’ایپل Apple‘یہ لفظ پیش کرتے ہیں اور اسے ’ P‘ حرف کی ادائیگی میں دشواری ہے تو بیلٹ کا میکانیکل سسٹم بچہ کو مخصوص حصہ پر حرکت کے ذریعے واضح اشارہ دے گا اور خود بہ خود ویسی  ہی آواز پیدا ہوگی۔ یہ تجربہ کامیاب رہا ہے لیکن میں اس میں مزید تحقیق کے بعد سر میں پہننے والے بیلٹ کی بجائے اسے بریسلٹ کی صورت میں تبدیل کر رہا ہوں۔ یہ آلہ جلدی ہی بازار میں بچوں کے لئے  اردو، مراٹھی، عربی، انگریزی اور ہندی زبانوں میں دستیاب ہوگا۔
(۴) ڈسلیکسیا کی تشخیص کیلئے  برینو Brainu نامی اسکرین ایپ تیار کیا  ہے جس کے ذریعے کھیل کھیل میں گھر بیٹھے ہی اس  بات کا پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ  بچہ ڈسلیکسیا   کا شکار ہے یا نہیں  یہ ایپ جلد ہی گوگل ایپ پر دستیاب ہوگی۔
(۵) موجودہ حالات کے پیشِ نظر تناؤ کے شکار افراد کے لئے ایک ایسا موبائل ایپ تیار کیا گیا ہے جو تناؤ کی کیفیت سے گزرنے والے افراد کو ان کی  ذہنی تناؤ کی موجودہ کیفیت کا اندازہ ایک گراف شکل میں دے گا۔ جس سے انہیں تناؤ پر قابو پانے میں مدد ملےگی۔ 
 آپ نے انٹارکٹیکا کا سفر کیو ں کیا تھا؟
عزیز الدین خان:   حکومتِ ہند کی جانب سے ایک تحقیقاتی کام کے لئے انٹارکٹیکا گیا تھا۔ حکومتِ ہند ہر سال سائنس، جغرافیہ، سماجی سائنس، جیولوجی، علم ماحولیات، نفسیات اور دیگر مضامین میں تحقیقی کام میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو اپنے خرچ پر انٹارکٹیکا بھیجتی ہے۔  میری تحقیق کا موضوع ’’انٹارکٹک ایکسپیڈیشن گروپ کے درمیان نیورو سائیکولوجی کارکردگی اور جذباتی ضابطہ: الیکٹروفیزولوجیکل بیہویئر پر مبنی ثبوت‘‘ تھا۔دوسرا مطالعہ ’’انٹارکٹیکا کے پینگوئن میں خود کی پہچان‘‘تھا۔ جو افراد انٹارکٹیکا جا کر تحقیقی کام کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے ہر سال یہ موقع مفت میں فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ تحقیقاتی سفر کم از کم پانچ سے چھ ماہ پر مشتمل ہوتا ہے ۔ وہاں حکومتِ ہند کی جانب سے دو رہائشی اور تحقیقاتی تجربہ گاہیں موجود ہیں۔۲۰؍  روزہ یک طرفہ ہوائی اور سمندی جہاز پر مشتمل طویل سفر ہوتا ہے۔جو افراد وہاں جا کر کسی قسم کی تحقیقی خدمت انجام دینا چاہتے ہیں انھیں جون/جولائی کے مہینے میں اپنا پروجیکٹ سبمٹ کرنا ہوتا ہے۔ اگست میں انٹرویو ہوتا ہے۔ انٹرویو میں کامیابی کے بعد۲؍ ہفتے اترا کھنڈ میں ٹریننگ دی جاتی ہے بعد ازیں۵؍ دن کا میڈیکل چیک اپ اور ایک ٹریننگ سے گزرنے کے بعد آپکو انٹارکٹیکا جانے کی اجازت دی جاتی ہی۔ منتخب امیدواروں کو یومیہ بھتا کے طور پر اچھی خاصی رقم منظور کی جاتی ہے جو سفر کے اختتام کے دورانیہ پر خطیر رقم ہی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK