کتابیں ہماری بہترین اور وفادار ساتھی ہوتی ہیں

Updated: November 11, 2021, 10:25 AM IST | Rehana Qadri | Juhu Scheme, Mumbai

خواتین معاشرے میں بہتری لانے میں نمایاں رول ادا کرتی ہیں۔ لوگوں کو مطالعے سے جوڑنے کے لئے وہ اپنے گھر سے شروعات کر سکتی ہیں۔ خواتین صرف کہہ کر نہیں بلکہ اپنے عمل کے ذریعے اپنے گھر والوں کو اس جانب راغب کرنے کی کوشش کریں تو یہ عمل زیادہ مؤثر ثابت ہوگا

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

زندگی میں یوں تو انسان کے بہترین اور مختلف قسم کے مشاغل ہوتے ہیں جن سے انسان اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہے اور دوسری دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا ہے۔ وہ اپنی مصروفیات کی دُنیا میں کھویا رہتا ہے، مثلاً ایک کھلاڑی اپنا پسندیدہ کھیل، کھیل کر اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہے اور اسے اپنا ساتھی بنا لیتا ہے تو کوئی مصنف ہوتا ہے جو اپنی تخلیق کی دُنیا میں مگن رہتا ہے، تو کوئی شاعر ہوتا ہے جو اپنی شاعری کے دامن کو پکڑے رہتا ہے تو کوئی مصور ہوتا ہے جو اپنے شاہکار اور فن کو اپنی متاعِ حیات سمجھ کر گلے سے لگا لیتا ہے۔ اسی طرح ہر شخص کسی نہ کسی کام میں اپنے آپ کو مصروف رکھ کر زندگی گزارتا ہے۔ ان تمام مشاغل کو مدنظر رکھتے ہوئے مَیں کتاب کو ترجیح دوں گی اور اُسے اپنا بہترین اور وفا دار ساتھی تسلیم کروں گی کیونکہ کتاب ہی ایسا جام ہے جسے اگر انسان تاعمر بھی پیتا رہے تب بھی اس کی پیاس بجھ نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ لب تشنہ ہی رہے گا۔ غم میں، خوشی میں، دکھ، سکھ میں کتاب ہی انسان کے دکھوں کا مداوا بن سکتی ہے۔ اگر کسی کے دل کو کسی سے دکھ پہنچے یا اس کے دل کو ٹھیس لگے تو وہ کتابیں پڑھ کر اپنا غم غلط کرسکتا ہے۔ دنیا سے بے خبر ہوسکتا ہے۔ اگر انسان کتاب کو ہاتھ میں لے لے تو اُسے ایسا محسوس نہیں ہوگا کہ کچھ دیر پہلے اُسے کون سا غم تھا، کیا دُکھ تھا وہ تو کتابوں میں ہی اپنے مسئلوں اور دکھوں کا حل ڈھونڈتا ہوا ملے گا۔
 کتابیں پڑھنے سے انسان کے دل و دماغ کو ایک تازگی، خوشی اور تسکین ملتی ہے۔ روح کی بالیدگی ہوتی ہے، روح کو سکون ملتا ہے، ضمیر مطمئن ہو جاتا ہے، ذخیرۂ معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، انسان زندگی کے مقاصد کو جان پہچان سکتا ہے اور اس کے زندگی کے تمام پہلوؤں سے اپنے آپ کو اُجاگر کرسکتا ہے، روشناس کرسکتا ہے۔ کچھ کتابیں ادبی ہوتی ہیں، کچھ کتابیں تفریحات اور طنز و مزاح سے لبریز ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر انسان خوش ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ مختلف مضامین کی کتابیں اور رسالے پڑھ کر انسان اکتاہٹ اور تنہائی کی دُنیا سے کوسوں دور چلا جاتا ہے اور اس خود غرض دنیا سے کنارہ کشی کر لیتا ہے۔ کتابیں ہر مضامین اور ہر موضوع پر مبنی ہوتی ہیں۔ مثلاً سائنس، تاریخ، جغرافیہ، فلسفہ، ادب وغیرہ۔ جنہیں پڑھ کر ہم کافی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ یوٹیوب، گوگل سے بھی ہم بہت ساری معلومات اخذ کر کے استفادہ کرسکتے ہیں لیکن کتابوں کی کچھ اور ہی بات ہے۔ کتابیں ہماری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔ ذخیرۂ الفاظ اور ذخیرۂ معلومات کا قیمتی خزانہ ہوتی ہیں اور آگے ہماری نسلوں کے لئے بھی نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ بچے بھی اپنی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔ کتابیں بچوں کی زندگی میں نہایت ہی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کتابیں ہر زبان میں لکھی جاتی ہیں۔ ہمیں کتابیں ضرور پڑھتے رہنا چاہئے۔ ہماری ذاتی زندگی اور معلومات کے لئے بھی یہ بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ کتابیں ہماری زندگی کی کامیابی کے لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ہمارے دوست ہمارا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں لیکن کتابیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں، ہم سے سدا دوستی نبھاتی ہیں۔ یہ ہماری سچی دوست اور ہماری صحیح رہنما ثابت ہوتی ہیں۔ ہمارے برے وقت میں ہمارا ساتھ دیتی ہیں، کبھی ہم اُداس ہوں، دکھ میں مبتلا ہوں تو یہ ہم پر اپنا جادوئی اثر دکھا کر ہمیں پُرسکون کر دیتی ہیں۔ ہماری حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ہمیں ہمت دیتی ہیں اور ہمیں ہمارے نصب العین تک پہنچانے میں ہماری بھرپور مدد کرتی ہیں۔ اس لئے ہمیں ہمیشہ کتابوں کا مطالعہ ضرور کرتے رہنا چاہئے اور اُن کی قدر و قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی بخوبی حفاظت کرنی چاہئے کیونکہ کتابیں انسان کی بہترین اور وفا دار ساتھی ہوتی ہیں۔ یقیناً مطالعے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر اسے یقینی بنانے کے لئے خواتین کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ خواتین معاشرے میں بہتری لانے میں نمایاں رول ادا کرتی ہیں۔ لوگوں کو مطالعے سے جوڑنے کے لئے وہ اپنے گھر سے شروعات کر سکتی ہیں۔ خواتین صرف کہہ کر نہیں بلکہ اپنے عمل کے ذریعے اپنے گھر والوں کو اس جانب راغب کرنے کی کوشش کریں۔ خود بھی کتابیں پڑھنے کا سلسلہ شروع کریں اور گھر والوں کو بھی دلچسپ کتابیں دے کر انہیں پڑھنے کیلئے آمادہ کریں۔ انہیں کتابیں پڑھنے کے فوائد کے بارے میں بتائیں۔ خاص طور پر اپنے بچّوں میں یہ اچھی عادت پیوست کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ بچّے پڑھائی کی جانب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انہیں چیزیں یاد کرنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے۔ ایسے میں آپ ان کی کتابوں سےد وستی کروا کر ان کی یادداشت مضبوط کرنے میں مدد کرسکتی ہیں۔ بچّوں کو مزیدار کہانیوں کی کتابیں لا کر دیں تاکہ ان میں مطالعے کا شوق پیدا ہو۔ کوشش کریں کہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کتابیں پڑھیں۔ چھوٹی چھوٹی کوشش کریں کامیابی ضرور ملے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK