ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ زندگی میں کامیاب ہو لیکن ہر بچے کو کامیاب نہیں ملتی۔ ماں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچے کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس کی دلچسپی کے مطابق اسے آگے بڑھنے کا موقع دے۔ تعلیم کے ساتھ دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے اسے آمادہ کرے۔
مائیں روزانہ بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزاریں۔ تصویر : آئی این این
ہر ماں باپ بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں کامیاب بنانے کے چکر میں اکثر وہ کئی غلطیاں کر جاتے ہیں۔ والدین کی، خاص طور پر ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی دلچسپی کو جانیں اور ان کی صلاحیت کو نکھارتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے میں مدد کریں۔
مخفی صلاحیتوں کو پہچانیں
ہمارے ہاں زیادہ تر والدین بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر یا اکاؤٹینٹ بنانے کے خواب دیکھتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ان شعبوں کے ذریعے وہ اچھا کما کر مالی مسائل سے آزاد ہو جائیں گے، مگر اس کے برعکس ان کے بچے آرٹس، فلکیات، گرافکس یا کمپیوٹر وغیرہ جیسے شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ چھوٹی عمر ہی میں بچوں کو ایسے کاموں کی جانب اکسائیں یا کرنے کی اجازت دیں جن سے ان کی مخفی صلاحیتیں کھل کر سامنے آسکیں اور مستقبل میں پروفیشن کے انتخاب کرنے میں آسانی ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے اپنی پسند کے مضامین میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لئے ماؤں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بچے کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ ان کی دلچسپی کس مضمون میں ہے، جانیں اور انہیں اس میں مزید بہتری کے لئے تعاون کریں۔
شخصیت کے مطابق ڈھلنے دیں
اکثر ماؤں کو پریشانی ہوتی ہیں کہ بچہ باہر جا کر نہ جانے کس طرح کی صحبت میں بیٹھے گا، اس لئے ان کو باہر بھیجنے سے ڈرتی ہیں اور اس وجہ سے بچوں کا زیادہ تر وقت آن اسکرین گزرتا ہے جو نہ صرف ان کیلئے نقصاندہ ہے بلکہ اس سے ان کی خود اعتمادی پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ ماؤں کو چاہئے کہ وہ آؤٹ ڈور کھیلوں میں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر وہ پڑھائی میں کم نمبر لاتے ہیں تو ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے اس کی اصل وجہ تلاش کریں۔ اگر وہ ناکام ہوتے ہیں تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ کم از کم انہوں نے کوشش ضرور کی تھی۔ یاد رکھئے، ناکامیاں ہی انسان کو گر کر از خود اٹھنا اور اپنی اصلاح کرکے آگے بڑھنا سکھاتی ہیں۔ آئن اسٹائن سے اسٹیفن ہاکنگ تک کوئی نامور ذہین شخصیت ایسی نہیں گزری جسے ابتدا ہی سے ناکامیوں کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ اگر آپ کا بچہ کسی طرح کی جسمانی کمی یا دماغی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہے تو مناسب اور بر وقت علاج کے علاوہ اسے از خود ایسے کاموں پر مائل کیجئے جنہیں عام طور پر وہ کرنے سے کتراتا یا ڈرتا ہے تاکہ اس کے اندر خوف کم ہو اور خود اعتمادی بحال ہو جائے۔
بچوں کے رویے
آج کل زیادہ تر والدین کو اپنے بچوں سے یہی شکایت رہتی ہے بچے ان کی بات نہیں مانتے اور اپنی من مانی کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا کہتے ہوئے وہ ان عوامل کو یکسر نظر انداز کر دیتے جن کی وجہ سے بچے ضدی اور خود سر بننے ہیں۔ بچے عموماً رویوں میں ماں باپ یا گھر کے دیگر افراد کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر آپ میں خود اعتمادی بڑھانے کے بجائے انہیں اپنی پسند نا پسند پر چلانا چاہیں گے تو لازمی وہ رویوں میں خود سر ہوجائیں گے۔ بچوں میں لچک پیدا کرنے کے لئے والدین کو اپنے رویے کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ کوئی کام سر انجام دینے میں بار بار ناکام ہوتے ہیں تو انہیں روکنے کے بجائے انہیں اپنی غلطی تلاش کرنے کا موقع دیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ والدین بچوں کو اسکول میں خراب کارکردگی دیکھ کر کوچنگ سینٹر یا ٹیوشن لگوا دیتے ہیں جس سے پڑھائی میں دلچسپی بڑھنے کے بجائے اور کم ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کے پاس کھیل کود کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ مائیں روزانہ چند گھنٹے بچوں کے ساتھ بیٹھیں۔ ان کی پڑھائی میں مدد کریں۔ ان کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیں۔ ان کی باتوں کو غور سے سنیں۔ ان کی ترجیحات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپ کی توجہ اور وقت ان کیلئے بہتر ثابت ہوگا۔
تجربہ کرنے دیں
ہمارا تعلیمی نظام کچھ ایسا ہے جو بچوں میں تلاش، جستجو یا کھوج یا جذبہ پیدا کرنے کے بجائے انہیں محض کتابیں رٹنے پر اکساتا ہے اور والدین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہر سال ایک مخصوص کلاس کا نصاب رٹ کر پاس کرلینا ہی تعلیم ہے۔ اس سوچ و فکر کی نفی کرتے ہوئے اپنے بچوں کو تجربات کے ذریعے سیکھنے پر مائل کیجئے۔ اگر وہ کسی سائنسی موضوع کو سمجھ نہیں پا رہے تو اس کا تجربہ کروائیے تاکہ وہ اس قانون کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ اسی طرح ریاضی میں اگر بچہ کمزور ہے تو اسے روز مرہ کی مثالوں کے ذریعے سادہ اصول سمجھا کر پھر بتدریج پیچیدہ اصول سمجھائے جائیں تو بچے ریاضی بھی شوق سے پڑھنے لگتے ہیں، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اسکول یا اساتذہ پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے مائیں خود بچوں کو مناسب وقت دیں۔ ان کے کھل کر بات چیت کریں۔ انہیں مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے دیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابی کو اہمیت دیتے ہوئے ان کا حوصلہ بڑھائیں۔