موبائل فون کا خبط خاندانی نظام کی تنزلی کا سبب

Updated: July 20, 2022, 11:42 AM IST | Rehana Qari | Juhu Scheme Mumbai

بعض گھروں میں والدین زیادہ تر موبائل فون پر مصروف رہتے ہیں اور بچوں کو وقت نہیں دے پاتے۔ اسی طرح بچے بھی موبائل فون میں کالز اور میسیج کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ انہیں کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ وہ اپنے والدین، بھائی، بہن اور رشتے داروں کے ساتھ ہنسنے بولنے اور گپ شپ کرنے سے بھی دور ہوتے ہیں

Use the mobile phone wisely and keep an eye on its good aspects.Picture:INN
موبائل فون کا استعمال سمجھداری سے کریں اور اُس کے اچھے پہلوؤں پر نظر رکھیں۔ تصویر: آئی این این

دورِ جدید نئی ایجادات اور سائنسی ترقی کا دور ہے۔ سائنس نے زندگی کو بہت سہل بنا دیا ہے، ہر ایجاد اپنے اندر علم و تحقیق کا ایک گوہر چھپائے ہوئے ہے۔ مگر ہر ایجاد کے ساتھ ایک بحث ہمیشہ ہوتی ہے کہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں یا فوائد! کچھ ایسا ہی معاملہ موبائل فون کے ساتھ بھی ہے۔ موبائل فون نے جتنی تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے اور جس طرح یہ ہر کسی کے استعمال میں آیا ہے ایسا ریکارڈ کسی ایجاد کا نہیں ہے۔ موبائل فون کا استعمال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ بعض لوگ اس کے بغیر چند لمحے بھی گزار نہیں سکتے اور موبائل فون کے بغیر خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ نوجوان نسل تو شاید اپنے مشغلے بدل چکی ہے، راستوں پر، راہوں پہ آتے جاتے، گھروں میں بیٹھے بیٹھے، سواریوں میں، کالجز اور یونیورسٹیز کے احاطوں میں ٹہلتے ٹہلتے، کھانا کھاتے، پانی پیتے، لیٹے لیٹے، ہنستے بولتے انگوٹھے کی ایکسرسائز جاری رہتی ہے، پیغامات آ رہے ہیں جا رہے ہیں، خاص طور پر لوگ ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے، چوتھے اور پھر سیکڑوں تک فارورڈ کرنے کا رجحان تو کچھ زیادہ ہی زور پکڑ گیا ہے۔ لوگ گھر بیٹھے ایک چھوٹے سے ایس ایم ایس کے ذریعہ اپنے اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کرسکتے ہیں۔ بل جمع کروا سکتے ہیں، کاروباری حضراب اب صرف ایک میسیج بھیج کر اپنی اشیاء کی خرید و فروخت کرسکتے ہیں۔ خواتین گھر بیٹھے موبائل فون پر اچھی سے اچھی ریسیپی دیکھ کر پکوان بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ دوستوں اور رشتے داروں سے بھی کافی رابطہ رہتا ہے۔ کئی مواقع پر مثلاً عید کی مبارکباد یا کسی کی موت کی خبر غرضیکہ خوشی اور دکھ میں بھی موبائل فون کی مدد سے ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔ وہاٹس ایپ پر لوگ ایک دوسرے کو ویڈیو کال کرکے ایک دوسرے کو دیکھ بھی لیتے ہیں اور بات چیت بھی کر لیتے ہیں۔ جب تک بچے اسکول یا کالجز سے واپس نہ آئیں والدین خوف میں رہتے ہیں، پریشان رہتے ہیں اور انہیں سکون نہیں ملتا ہے ایسے ماحول میں موبائل فون رابطے کا ذریعہ بن کر والدین کے اطمینان کا ذریعہ بنتا ہے۔ دیر ہو جائے یا کوئی مسئلہ در پیش ہو تو ایک کال یا میسیج کے ذریعے گھر والوں کو مطلع کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ میسیج میں اقوال زریں، دل کو چھو لینے والی تحریر اور ویڈیو بھیجنے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کی مدد سے ہم اسپتال، دواخانہ اور ڈاکٹرس سے بھی رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ اگر ہم کسی مجبوری کے تحت دواخانہ نہیں جاسکیں تو وہاٹس ایپ پر ڈاکٹرس سے رابطہ قائم کرکے اپنی بیماری کو دور کرسکتے ہیں۔ موبائل فون کے کئی نقصانات بھی ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی ٹیکنالوجی کے مثبت کے بجائے منفی استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ دراصل کسی بھی چیز کے فوائد اور نقصانات کا انحصار ان ایجادات سے مستفید ہونے والوں پر ہوتا ہے کہ وہ اسے انسانیت کی خدمت اور سہولت کے لئے استعمال کر رہے ہیں یا وہ اُلٹا اس کے مصائب کا باعث بن رہی ہے۔ موبائل فون کے جہاں اتنے فوائد ہیں وہاں ان کا غلط استعمال معاشرے پر منفی اثرات بھی مرتب کر رہا ہے۔ بعض لوگ دوسرے لوگوں کو ڈرانے، دھمکانے والے میسیج کرکے پریشان اور خوف زدہ کرتے ہیں اور انہیں ہراساں کرکے ان کے ذہنی اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ بعض گھروں میں والدین زیادہ تر موبائل فون پر مصروف رہتے ہیں اور بچوں کو وقت نہیں دے پاتے۔ اسی طرح بچے بھی موبائل فون میں کالز اور میسیج کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ انہیں کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ وہ اپنے والدین، بھائی، بہن اور رشتے داروں کیساتھ ہنسنے بولنے اور گپ شپ کرنے سے بھی دور ہوتے ہیں۔ ان سے گفتگو کرنے سے بھی کتراتے ہیں غرضیکہ ہر کسی کے درمیان فاصلے اور دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ کہیں والدین اپنے بچوں سے ناراض ہیں تو کہیں بچے اپنے والدین سے ناراض رہتے ہیں اس طرح بالواسطہ طور پر موبائل فون کا خبط خاندانی نظام کی تنزلی کا سبب بھی بن رہا ہے۔ دیکھا جائے تو موبائل فون کا صحیح استعمال کرنے والے کم اور غلط استعمال کرنے والے زیادہ ہیں۔ اگرچہ سائنس کی اس نعمت سے انکار ممکن نہیں کہ اس کی بدولت ہم پوری دُنیا کو جیب میں لئے پھرتے ہیں۔ اس سہولت کے بامقصد اور مفید استعمال کیلئے ہمیں صحیح تربیت کی ضرورت ہے۔
 والدین کو چاہئے کہ بچوں کو موبائل فون فراہم کرتے وقت اُس کے مثبت استعمال کی بھی تلقین کریں اور سب سے بڑھ کرضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں نیکی اور بدی کا شعور اُجاگر کیا جائے کیونکہ جب انسان کو اچھائی اور برائی کی تمیز ہو تب ہی وہ کسی ایجاد یا تحقیق سے مستفید اور اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ موبائل فون کا استعمال سمجھداری سے کریں، اُس کے اچھے پہلوؤں پر نظر رکھیں اور مثبت مقاصد کے لئے استعمال کرکے اس کی اہمیت کو سمجھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK