کم عمر میں بچّے موٹاپے کا شکار، توجہ دینے کی ضرورت

Updated: January 06, 2022, 1:34 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

’’چائلڈ ہُڈ اوبیسٹی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، ۵؍ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے چین کے ۶ء۱۹؍ کروڑ اور ہندوستان کے ۲ء۷۵؍ کروڑ بچّے اس کی زد میں ہیں۔ وہیں این سی ڈی ریسک فیکٹر کولیبریشن کے مطابق، پچھلے ۱۰؍ سال کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بچّوں میں موٹاپا بڑھتا جا رہا ہے

Mothers should not only focus on their child`s overweight but also on their healthy development.Picture:INN
مائیں صرف بچے کے زیادہ وزن پر ہی توجہ نہ دیں بلکہ اُن کی صحتمند نشوونما پر بھی توجہ دیں ۔ تصویر: آئی این این

کورونا بحران کے سبب بچّے گھر بیٹھے بیٹھے موٹاپے کا شکار ہوگئے ہیں۔ ’’چائلڈ ہُڈ اوبیسٹی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، ۵؍ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے چین کے ۶ء۱۹؍ کروڑ اور ہندوستان کے ۲ء۷۵؍ کروڑ بچّے اس کی زد میں ہیں۔ وہیں این سی ڈی ریسک فیکٹر کولیبریشن کے مطابق، پچھلے ۱۰؍ سال کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بچّوں میں موٹاپا بڑھتا جا رہا ہے۔ ۲۰۳۰ء تک موٹاپے کا شکار بچّوں کی تعداد ۴۰؍ کروڑ پہنچ جائے گی۔ اس صورتحال میں بچوں کا موٹاپا کنٹرول کرنا بے حد ضروری ہے۔
کم عمر کے بچّوں میں موٹاپا بڑھا
 نیشنل فیملی ہیلتھ سروے -۵ (این ایف ایچ ایس-۵) کی رپورٹ کے مطابق، ۵؍ سال کی عمر کے بچّوں میں موٹاپا بڑھا ہے۔ این ایف ایچ ایس میں ۲ء۱؍ کے مقابلے موٹاپے کے شکار بچّوں کی تعداد بڑھ کر این ایف ایس-۵؍ میں ۳ء۴؍ ہوگئی ہے۔ اس تبدیلی کو ایک تشویشناک مرحلہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جسمانی سرگرمی میں کمی اور جنک فوڈ کو موٹاپے میں اضافے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
راجستھان کی صورتحال بہتر
 این ایف ایچ ایس-۵؍ کے مطابق، مہاراشٹر، گجرات، میزورم، تری پورہ، لکش دیپ، جموں کشمیر اور لداخ میں موٹاپے کا مسئلہ بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ صرف گوا، دادرا اور نگر حویلی کے علاوہ دمن اور دیو میں موٹاپے کا شکار ۵؍ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ لداخ میں سب سے زیادہ تقریباً ۱۳ء۴؍ فیصد بچّے موٹاپے کا شکار پائے گئے۔ لکش دیپ میں ۱۰ء۵؍ فیصد میزورم میں ۱۰؍ فیصد جبکہ جموں کشمیر اور سکم میں ۹ء۶؍ فیصد بچّوں میں موٹاپا دیکھا گیا ہے۔
کھانے پینے کی عادت
 واضح ہو کہ ملک میں تقریباً ۱ء۴۴؍ کروڑ بچّے موٹاپے کا شکار ہیں۔ موٹاپا کئی بیماریوں کی اہم وجہ ہے۔ دنیا بھر تقریباً ۲؍ ارب بچّے اور بالغ موٹاپے میں مبتلا ہیں۔ یونیورسٹی آف کولمبیا کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق، ایف ٹی او جین بچوں کے کھانے پینے کو کافی متاثر کرتا ہے۔ اسی ’جین‘ کے سبب وہ زیادہ کیلوری کا استعمال کرنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے مستقبل میں ان کے وزن بڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
کم وزن سے زیادہ وزن
 کورونا بحران میں بچّوں کی جسمانی سرگرمیاں کم ہونے کی وجہ سے وہ گھنٹوں موبائل گیم اور ویڈیو گیم کھیلتے رہتے ہیں۔ اس دوران وہ کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں جو بچوں میں بڑھتے وزن کی اہم وجہ ہے۔ آج کل بچّوں میں کم عمر ہی سے جوڑوں کا درد، کمر درد، قبض سمیت کئی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بچپن میں موٹاپے کا شکار ہونے پر بچّوں کا قد بڑھنا بھی رک جاتا ہے۔ علاوہ ازیں چلنے پھیرنے میں بھی پریشانی ہوتی ہے۔ ان کی جسمانی نشوونما صحیح انداز میں نہیں ہو پاتی۔
صحتمند نشوونما کی جانب توجہ دیں
 اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ موٹے بچے بدمزاج ہوتے ہیں۔ ہر چیز میں نخرے کرتے ہیں۔ لہٰذا والدین کو چاہئے کہ صرف بچے کے زیادہ وزن پر ہی توجہ نہ دیں بلکہ اپنے بچے کی صحت مند نشوونما پر توجہ دیں اور بچے کے مسائل کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے رہیں، تاکہ ان میں یہ احساس پیدا ہو کہ ان کے مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جسم اور ذہن کی نشوونما کے لئے پھل، سبزیاں اور دودھ بہت ضروری ہے۔ مچھلی، مرغی اورگوشت آئرن کی کمی کودور کرتے ہیں۔ 
کھانے سے رغبت پیدا کریں
 بچوں کو غذائی اشیاء بدل بدل کردیں، تاکہ ان کو ہر طرح کے وٹامن میسر ہو۔ کوشش کریںکہ بچوں کو بچپن سے ہی ہر چیز کھانے کی عادت ڈالیں اور بدل بدل کر کھانے کی چیزیں دیں، تاکہ وہ سب چیزیں کھاسکیں اور یہ نہ کہیں کہ فلاں چیز انہیں اچھی نہیں لگتی۔ بچوں کو کھانے میں رغبت کے لئے ان کو خوبصورت پلیٹوں اور برتنوں میں غذائی اشیاء پیش کریں۔ اس طرح سے بچوں میں کھانے کی رغبت بڑھ سکتی ہے۔ 
صحت بخش غذائیں
 بچوں کو دالیں، دلیہ اور انڈا کھانے دیں، اس خوراک سے بچوں کو آئرن، وٹامنز، پروٹین اور پوٹاشیم کا معمول ممکن ہو سکے گا اور جسم و ذہن کی نشوونما بھی یقینی ہوگی۔ پھلیاں، پالک اور دیگر سبزیوں کی مختلف ڈشز بچوں کو کھلائی جاسکتی ہیں۔ ان میں وٹامنز اور فولاد کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ بچوں کو دودھ، دہی اور اس کی بنی اشیاء لازمی کھلائیں، کیونکہ اس میں کیلشیم بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو بچوں کی ہڈیوں کی صحت کے لئے ضروری ہے۔ بچوں کو ناشتہ کرنے کا عادی بنائیں۔ جو بچے ناشتہ نہیں کرتے ان میں وٹامن بی کی کمی پائی جاتی ہے، اس لئے ناشتے میں سبزیاں دیں۔ سلاد کے ساتھ پھل بھی دیں۔ ساتھ ہی بچّوں کو جنک فوڈز سے دور رکھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK