گھر میں دینی ماحول کے ذریعے بچوں میں دینی تعلیم کا شوق پیدا کیجئے

Updated: July 28, 2022, 2:16 PM IST | Saima Shaikh | Mumbai

بچّوں کی تربیت میں ماؤں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بچوں کا روشناس ہونا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے اور اس کیلئے گھر میں دینی ماحول ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں چند خواتین نے اپنی آراء پیش کیں: ترتیب و پیشکش: صائمہ شیخ

Children learn what they see, so parents try to raise the awareness of religious education in children by their actions..Picture:INN
بچے جو دیکھتے ہیں وہی سیکھتے ہیں، لہٰذا مائیں اپنے عمل سے بچّوں میں دینی تعلیم کا شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں۔ تصویر: آئی این این

مائیں بچوں کو صحیح سمت عطا کریں
آج کا مسلمان بچہ دین سے دور کیوں ہے؟ وجہ والدین کی لاپروائی ہے۔ والدین اگر خود دین سے جڑے ہوں تو اولاد کی اچھی تربیت کرسکیں گے۔ پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتا ہے۔ لہٰذا ماؤں کو چاہئے کہ بچوں کو سنتوں کی اہمیت بتائی جائے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات مبارکہ کو بطور نمونہ رکھا جائے۔ موجودہ دور کی مائیں چاہتی ہیں کہ ان کا بچہ دنیا میں کچھ کرکے دکھائے، ان کا نام روشن کرے لیکن وہ یہ بھول رہی ہیں کہ دنیا ہمیشہ رہنے والی جگہ نہیں ہے۔ ماؤں کو چاہئے کہ وہ اپنی سوچوں کو صحیح سمت عطا کریں۔ دنیاوی تعلیم ضرورت ہے جبکہ دینی تعلیم اشد ضروری۔ بچوں کو اسکول سے آکر جس طرح گھر میں سبق یاد کروایا جاتا ہے اس سے پہلے اللہ کے دین کیلئے وقت نکالنا ضروری ہے۔ بچوں کو پاس بٹھا کر ان کی تربیت کی جائے۔ بچے شعور آنے پر خود بخود پھر اس لائق ہوجاتے ہیں کہ دین اور دنیا میں بیلنس کر سکیں۔
فاطمہ یوسف (ممبئی)
اپنے عمل سے اظہار کریں
اپنے بچوں کو دین کی طرف مائل کرنے کے لئے ماؤں کو چاہئے کہ پہلے وہ خود دیندار بنیں کیونکہ ماں دیندار ہوگی تب ہی وہ اپنے بچوں کو دین کی تعلیم دے سکے گی۔ ماؤں کو چاہئے کہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے وقت مختص کریں اور اس دوران دینی کتابیں پڑھیں اور اپنے بچوں کو بھی چھوٹی چھوٹی دینی معلومات سے واقف کروائیں۔ آج کے جدید دور میں کچھ بھی سیکھنا بے حد آسان ہوگیا ہے۔ موبائل فون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ مستند ایپس کے ذریعے اپنے بچوں کی دینی معلومات میں اضافہ کرواسکتی ہیں۔ شروع شروع میں بچوں کو چھوٹی چھوٹی دینی معلومات کے بارے میں بتائیں۔ دھیرے دھیرے بچہ خود دلچسپی لینے لگے گا۔ دینی تعلیم دیتے وقت سختی کے بجائے نرم رویہ اختیار کیجئے اور سب سے اہم مائیں اپنے عمل سے بچوں کو دینی تعلیم سے متعارف کروائیں۔
سیّد فرحانہ نبی احمد (چاندیولی نہار، ممبئی)
اسلاف کی کہانیاں سنائیں
مشہور سماجی کارکن میلکولم ایکس کہتے ہیں ’’ایک بچے کی پہلی استاد اس کی ماں ہے۔ جو پیغام وہ اپنے بچوں کو دیتی ہے پھر وہی پیغام بچہ ساری دنیا کو دیتا ہے۔‘‘ بچوں کی تربیت میں ماؤں کا رول سب سے اہم ہے۔ خصوصی طور پر اپنے بچوں کو دینی تعلیمات سے آراستہ کرنا ماؤں کی ذمہ داری ہے۔ پہلے کے بالمقابل اب ذہنی خلفشار پیدا کرنے والی چیزوں میں خاصا اضافہ ہوچکا ہے، نتیجتاً ہماری نئی نسل دین و شریعت سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ مائیں روزانہ کے معمول میں چند چھوٹی تبدیلیاں کر کے اس خلا کو کافی حد تک پُر کرسکتی ہیں۔ مائیں جس قدر بچوں کے ظاہری حلیے پہ زیادہ دھیان دیتی ہیں اسی طرح ان کے کردار پر بھی دھیان دیں۔ اپنے بچوں کو ان کی سچائی، ایمانداری اور بہادری پر سراہا کریں۔ انہیں بناوٹی کہانیاں سنانے کے بجائے اسلاف کی کہانیاں سنائیں۔ مائیں اولاد کیلئے متقی و نیک ہونے کی دعائیں کریں۔
مرجان علیگ(دہلی)
گھر میں دینی ماحول فراہم کریں
موجودہ دور میں بچوں میں دین کی کمی ماؤ ں کیلئے ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ کہتے ہیں ماں کی گود بچوں کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے مگر افسوس جیسے جیسے ہم نے ترقی کے منازل طے کرتے گئے ویسے ویسے اپنی اسلامی تعلیمات، دینی معلومات ،اور اخلاقی اقدار سے کوسوں دور ہوگئے۔ اس کا اثر سیدھا ہمارے بچوں پر پڑا۔ اور اس کے نتائج یہ ہیں کہ آ ج کے بچّے دین اور دینی معلومات سے دور ہوگئے۔ ماؤں کو چاہئے کہ بچوں کا اسکول میں داخلے کے وقت اسکول میں دینی تعلیم کی سہولت میسر ہے یا نہیں اس بات کا ضرور خیال رکھیں تا کہ بچپن سے ہی ان میں دین کو سیکھنے وسمجھنے کی دلچسپی و جذبہ پیدا ہو۔ مائیں گھروں میں دینی ماحول فراہم کریں۔ خود بھی احادیث کا مطالعہ کریں اور وقتاً فوقتاً بچوں کو چھوٹی چھوٹی حدیث و سنت بتائیں و سمجھائیں۔ ابتدائی و ثانوی دینی تعلیمات سیکھنے کے لئے بچوں کو مدرسے میں داخل کروائیں۔
صبیحہ عامر خان (دیوان شاہ، بھیونڈی)
دلچسپ انداز میں بتائیں
موجودہ دور کے بچّوں سے سوال کیا جائے کہ ’’بیٹا! ذرا بتاؤ کہ اس وقت کون سا اسلامی مہینہ چل رہا ہے؟‘‘ تو بچّے سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ اس پر مائیں بہانے بنانے لگتی ہیں کہ ابھی تو بہت چھوٹا ہے یا اسکول ٹیوشن کی وجہ سے وہ اس جانب توجہ نہیں دے پاتا۔ کبھی کبھی یہ بھی سننے کو ملے گا کہ جنوری فروری.... یاد ہے۔ اسکول میں پاس ہونے کے لئے اس بارے میں ہی جاننا ضروری ہے۔ بچّے دینی تعلیمی سے دور ہیں، اس کے قصور وار ہم ہی ہیں۔ ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو کم عمری ہی سے دین سے متعلق چھوٹی چھوٹی مگر اہم معلومات بتائیں۔ ہمارے نبیوں اور صحابیوں کی زندگی کے بارے میں بتائیں۔ آپ انہیں دینی معلومات تھوڑے دلچسپ انداز میں بتائیں تاکہ ان میں تجسس پیدا ہو۔ دھیرے دھیرے بچّے خود آپ سے دینی باتیں سننے کے لئے بے چین رہیں گے۔
سلمیٰ ریاض انصاری (ملاڈ، ممبئی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK