ملک گیر لاک ڈاؤن میں بنتے بگڑتے گھریلورشتے

Updated: May 20, 2020, 6:30 AM IST | Inquilab Desk

لا ک ڈاؤن میں کچھ گھرو ں میں پہلے کی طرح سب کچھ معمول کے مطابق ہے بلکہ ان کے رشتہ مضبوط ہوئے ہیں ۔ کچھ گھروں میں ’لڑ کھڑاتے رشتے‘ سنبھل رہے ہیں ۔ کئی گھروں میں تناؤ کا ماحول ہے ، پورا گھر جہنم بنا ہوا ہے ، کوئی کسی سے کچھ کہہ نہیں رہا ہے ، اضطراب آمیزخاموشی کی دبیزچادر تنی ہوئی ہے ، اسے چاک کیجئے

Muslim Girl - Pic : INN
ملک گیر لا ک ڈاؤن میں بنتے بگڑتے گھریلورشتے ۔ تصویر : آئی این این

 لا ک ڈا ؤن نے گھر وں کی تصویر بدل دی ہے۔کہیں گھریلو رشتے سدھر رہے ہیں تو کہیں بگڑ رہے ہیں ۔کچھ گھروں میں پہلی کی طرح سب معمول پر ہے  ۔ کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے،  ہاں! سب پہلے  سے زیادہ مل جل کر رہ رہے ہیں۔ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن گھر وں سے ہنسنے مسکرانے کی بھی آوازیں آرہی ہیں ، بچوں کو دلار چمکار کرنے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ ان کی ننھی شرارتوں پر بڑے بوڑھوں کے قہقہے بھی گونج رہے ہیں۔  یہ سب کانو  کوبھلا لگتا ہے ۔ آپ کو  پڑھنے میں بھی اچھا لگتا ہوگا ۔ یہ لا ک ڈاؤن کا مثبت پہلو ہے۔ کچھ گھروں میں رشتے ٹوٹ پھوٹ کے شکار تھے ، اس کی بڑی وجہ ایک  دوسرے سے زیادہ  وقت تک دور رہنا اور وقت نہ دینا تھا ۔  اس لا ک ڈاؤن نےیہ شکایت دور کر دی ہے ،بلکہ کئی برس کی کمی پوری کردی ہے ۔   ان دنوں اس طرح کے گھروں میں ایک نئی صبح اور نئی شام ہورہی ہے۔ یہاں بہت کچھ بدل گیا ہے ۔گھر کے دروو دیوار بھی اچھے لگ رہےہیں ۔  ویسے بھی تلخی اور شکایت کے بعد صلح   کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے ۔ اس کے بعد رشتے کو ایک نیا رخ ملتا ہے۔  
    ان کے مقابلے میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے کچھ گھروں سے لڑنے جھگڑنے کی آوازیں بھی آرہی ہیں۔  ایسے جملے بھی سنائی دیتے ہیں: ’’جانے کب  لا ک ڈاؤن ختم ہوگا؟ کب آفس شروع  ہوگا.. جب دیکھو کچھ نہ کچھ لگا رہتا ہے ، یہ لا ؤ  .. وہ  لاؤ.. اچھا خاصا سکون غارت کر دیا ہے، پتہ نہیں آفس میں کیسے رہتے ہوں گے؟‘‘ اس کے جواب میں یہ بھی کہا جا تا  ہے : ’’ اتنے ہی دن میں دل بھر گیا ہے ، دنیا پیسے کی یار ہے ، جب تک پیسہ کماتا تھا ، اچھا لگتا تھا ، اب زہر لگتا ہوں ...۔‘‘ کبھی اسی سے بات بڑھتے  بڑھتے بہت بڑھ جاتی  ہے ۔ سمجھدار اور باشعور  افراد  موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اورکچھ ہی دیر کے بعد ان  میں میل ملا پ ہو جا تا ہے ، ان کے گلے شکو ے دور ہوجاتے ہیں ، پھر سے اسی طرح زندگی  گزرنے لگتی  ہے ۔
  کچھ گھروں میں اس شور شرابے کے بعد کوئی شور سنائی نہیں دیتا مگر وہاں طویل عرصے تک ایک  اضطراب آمیز خاموشی چھائی  رہتی ہے۔  یہ خاموشی بھی عجیب سی  ہوتی ہے ۔یہ گھر وں میں تنا ؤ کے ماحول کی علامت ہوتی  ہے ۔ اس سے گھر کا ہر فر د گھٹن اور اضطراب کا شکار ہوجاتا ہے ۔ وہاں رمضان کی مناسبت سے دستر خوان بھی سجتا ہے اور دسترخوان  پہلے کی طرح بھر ا پرا رہتا ہے ، لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر افطاربھی کر تےہیں ، غرض اس گھر میں  وہ سب ہوتا ہے جو پہلے رمضان میں ہوتا تھا ، اس کے باوجود  پورے گھر میں اداسی ڈیرہ ڈال دیتی ہے۔ ہر شخص منہ لٹکائے رہتا ہے ، سب چپ چپ رہتےہیں۔ کوئی کسی  سےبات نہیں کرتا ہے۔ کوئی کسی سے کچھ کہنے سے ڈر تا ہے ۔   یہ صورتحال  زیادہ دن تک رشتے کیلئے خطر نا ک ہے۔   عام طور پر یہ نوبت ضد اور انا کی وجہ سے آتی ہے۔ اگر آپ کے گھر میں ایسا ہورہا ہے تو سنبھل جایئے ، پہل کیجئے ، ضد اور انا کو چھوڑیئے  ، رمضا ن کے اس مہینے میں چپ کا روزہ توڑ یئے اور گھر کا ماحول خوشگوار بنانے کیلئے لا ک ڈاؤن کوغنیمت سمجھئے  ۔ 
       جن افراد کے گھروں کے رشتے سدھر رہے ہیں ،ان کیلئے یہ لا ک ڈاؤن نعمت ثابت ہو رہا ہے ، اس گھر کے لوگ ا پنے گھر سےباہرکچھ دیکھتے ہوں گے تو انہیں سکون ملتا ہو گا ، سب کچھ اچھا لگتا ہوگا لیکن جن افراد کے گھر وں میں تنا ؤ کا ماحول ہے ، ان کیلئے یہ لاک ڈاؤن زحمت ثابت ہورہا ہے ۔ وہ سوچتے ہوں گے کہ کسی طرح لا ک ڈاؤن ختم ہو اور ان کی زندگی میں سکون آئے ۔    ابھی بہت  زیادہ دیر نہیں ہوئی  ،سنبھالئے ان ٹوٹتے رشتوں کو 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK