اس معاملے میں عورت اور ماں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ کیونکہ گھر کی عورت صرف گھر نہیں سنبھالتی بلکہ وہ معاشرے کی حساسیت کو بھی زندہ رکھتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 3:34 PM IST | Dr. Sharmeen Ansari | Mumbai
اس معاملے میں عورت اور ماں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ کیونکہ گھر کی عورت صرف گھر نہیں سنبھالتی بلکہ وہ معاشرے کی حساسیت کو بھی زندہ رکھتی ہے۔
انسانی معاشرہ صرف قوانین سے نہیں، دلوں کے رشتوں سے قائم رہتا ہے۔ اور ان رشتوں کی سب سے مضبوط کڑی وہ احساس ہے جو ہمیں دوسروں کے درد سے جوڑ دیتا ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر صرف اُن آوازوں کو سنتے ہیں جو بلند ہوں، اور اُن دلوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو خاموشی میں ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے اردگرد ایسے بے شمار گھر ہیں جہاں ضرورت چیخ کر نہیں بولتی، بلکہ خاموشی میں سانس لیتی ہے۔ یہ وہ گھر ہیں جہاں چولہا جلتا تو ہے مگر کھانے کی مقدار کھانے والوں سے کم ہو تی ہے۔ جہاں ماں بچوں کے سامنے مسکرا دیتی ہے تاکہ ان کے حوصلے سلامت رہیں مگر رات کے سناٹے میں اپنی بے بسی آنسوؤں میں ڈھال دیتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسانیت ہم سے سوال کرتی ہے: کیا ہم صرف مانگنے والوں کے لئےصدقہ دیتے ہیں ہیں، یا اُن کے لئے بھی جو مانگ نہیں سکتے؟
یہ بھی پڑھئے: حافظ کو عالم بھی ہونا چاہئے تاکہ وہ قرآن کے احکامات، معانی و مطالب سمجھ سکے
اسی سوال کا جواب ہمیں سفید پوشی کے مفہوم میں ملتا ہے۔ سفید پوش ہونا محض لباس نہیں، ایک وقار ہے.... ایسا وقار جو انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا، مگر کبھی کبھی اسے اپنی ضرورت بیان کرنے سے بھی روک دیتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے میں باعزت نظر آتے ہیں، مگر اندر سے حالات کی تپش میں جھلستے رہتے ہیں۔ وہ اپنی کمی کو پردے میں رکھتے ہیں تاکہ بچوں کی امیدیں محفوظ رہیں۔ وہ ہاتھ نہیں پھیلاتے، مگر دل میں ایک خاموش دعا ضرور رکھتے ہیں۔ جب ہم صدقہ دیتے ہیں تو دراصل ہمیں اسی خاموش دعا تک پہنچنا ہوتا ہے۔
یہی حقیقت ہمیں محنت کش لوگوں کی طرف لے جاتی ہے۔ معاشرے کی بنیاد وہی ہاتھ ہیں جو پسینہ بہاتے ہیں۔ صبح کی تھکن، دن کی مشقت اور شام کی فکر.... یہ سب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ وہ کماتے ہیں مگر بچا نہیں پاتے، جیتے ہیں مگر سکھ کم دیکھتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی دولت خودداری ہوتی ہے، اور یہی خودداری انہیں مدد مانگنے سے روک دیتی ہے۔ اگر ہم واقعی خیرات کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُن ہاتھوں کو تھامنا ہوگا جو محنت سے کماتے ہیں مگر حالات کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے رخصت ہونے سے قبل خواتین اِن باتوں کا خیال رکھیں
یہاں ایک اہم کردار عورت اور ماں کا سامنے آتا ہے۔ گھر کی عورت صرف گھر نہیں سنبھالتی، وہ معاشرے کی حساسیت کو بھی زندہ رکھتی ہے۔ ماں کی نظر وہاں تک پہنچتی ہے جہاں الفاظ نہیں پہنچتے۔ وہ پڑوس کی خاموشی کو سمجھ سکتی ہے، کسی بچی کی جھکی ہوئی نگاہوں میں ضرورت کو پہچان سکتی ہے، کسی بوڑھی عورت کی تھکن میں بے بسی کو محسوس کرسکتی ہے۔ جب ماں اپنے بچوں کو یہ سکھاتی ہے کہ صدقہ دکھاوے کے لئے نہیں، دل جوڑنے کے لئے ہوتا ہے.... تو وہ آنے والی نسلوں کے مزاج میں رحم اور وقار دونوں پیدا کرتی ہے۔
مدد کا اصل حسن بھی اسی شعور میں پوشیدہ ہے۔ مدد وہ نہیں جو اعلان بن جائے، بلکہ وہ ہے جو سہارا بن جائے۔ جب مدد لینے والے کی عزت محفوظ رہے تو اس کے دل میں شرمندگی نہیں، شکرگزاری جاگتی ہے۔ کبھی کسی کے گھر کا راشن خاموشی سے پہنچا دینا، کبھی کسی بچے کی فیس ادا کر دینا، کبھی کسی بیمار کے علاج کا بندوبست کر دینا.... یہ وہ اعمال ہیں جو معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ ایسے لمحات میں دینے والا اور لینے والا دونوں ایک روحانی رشتے میں بندھ جاتے ہیں۔
اور پھر یہی عمل دعاؤں کی صورت میں واپس لوٹتا ہے۔ کچھ دعائیں زبان سے نہیں، دل کی گہرائی سے نکلتی ہیں۔ ایک سفید پوش ماں جب آسمان کی طرف دیکھ کر شکر ادا کرتی ہے تو اس کے الفاظ کم اور احساس زیادہ بولتے ہیں۔ یہی احساس برکت بن کر گھروں میں اترتا ہے، یہی خاموش دعائیں زندگی کے مشکل راستوں کو آسان کر دیتی ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس نے کچھ دیا ہے، مگر حقیقت میں وہ خود ایک ان دیکھی رحمت حاصل کر لیتا ہے۔
یہی سوچ ہمیں ایک بڑے عہد کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر معاشرہ بدلنا ہے تو آغاز گھر سے ہوگا۔ جب گھر کے بجٹ میں ایک حصہ خاموش مدد کے لئے مخصوص ہو جائے، جب بچے یہ سیکھ لیں کہ عزت بچا کر مدد کرنا سب سے بڑی نیکی ہے، جب خواتین اپنے گرد و پیش کی ضرورت کو محسوس کر کے خاموشی سے سہارا بن جائیں.... تو معاشرے میں رحم کی وہ روشنی پھیلتی ہے جو کسی قانون سے نہیں، صرف دل سے پیدا ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی اور روزہ: جسم میں پانی کی کمی سے کیسے بچیں؟
اسی لئے آج ضرورت ایک ایسے عہد کی ہے جو لفظوں سے نہیں، عمل سے زندہ ہو۔ ہم اُن دروازوں تک پہنچیں جہاں فریاد آواز نہیں بنتی۔ ہم اُن گھروں کے ساتھ کھڑے ہوں جہاں خودداری ضرورت پر غالب ہو تی ہے۔ ہم ایسی خیرات دیں جو ہاتھ نہیں پکڑتی، دل تھام لیتی ہے۔ ایسی مدد کریں جو نام نہیں پوچھتی، مگر امید جگا دیتی ہے۔ کیونکہ اصل صدقہ وہ ہے جو کسی کی عزت بچا لے، اصل خیرات وہ ہے جو کسی ماں کی آنکھ خشک کر دے، اور اصل انسانیت وہ ہے جو خاموش ضرورت کو پہچان لے: کرو مہربانی تم اہل زمین پر/ خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر!