وائرس اور اینٹی باڈیز کی شناخت کا نیا طریقہ وضع

Updated: October 15, 2020, 1:27 PM IST | Agency

نیویارک یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ہولوگرافک تصویر سازی کا بالکل نیا طریقہ وضع کیا ہے جو وائرس اور اینٹی باڈیز کو شناخت کرکے طبی آزمائش میں مدد دیتا ہے

Anti Bodies - Pic : INN
اینٹی باڈیز ۔ تصویر : آئی این این

نیویارک یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ہولوگرافک تصویر سازی کا بالکل نیا طریقہ وضع کیا ہے جو وائرس اور اینٹی باڈیز کو شناخت کرکے طبی آزمائش میں مدد دیتا ہے۔ یہ تحقیق کووڈ۱۹؍ کے پس منظر میں کی گئی ہے ۔ اس کے روح رواں پروفیسر ڈیوڈ گرائیر کہتے ہیں کہ فزکس کو پہلے اس طرح کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا جس میں ہم نے حقیقی طور پر وائرس اور اینٹی باڈیز کو خاص دانوں پر چپکے ہوئے دیکھا ہے۔یہ تحقیق سافٹ میٹر نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔  یکساں طور پر یہ وائرس (انفیکشن) یا پھر اینٹی باڈیز ( امیونٹی) کو دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس تکنیک کو ہولوگرافک ویڈیو مائیکرو اسکوپی  یا ہولوگرافک تشخیص کا نام دیا ہے۔اس میں سب سے اہم کردار انتہائی باریک موتیوں کا ہے جو  حیاتی کیمیائی عمل سے وائرس اور اینٹی باڈیز کو چپکالیتا ہےاور موتی ایک میٹر کے اربویں حصے تک تھوڑی پھیل جاتی ہیں۔ پھر ان تبدیلیوں کو ہولوگرام کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔ یہ نظام مکمل طور پر قابل اعتماد اور انتہائی کم خرچ ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس تحقیق میں خاص آلہ ’ایکس سائٹ‘ استعمال ہوا ہے جسے خود ڈیوڈ نے ایجاد کیا ہے۔ اس نظام کو آسانی سے استعمال کرکے مختلف موتیوں کو خاص بصری طریقوں سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے ہولوگرام کاڑھے جاتے ہیں۔ ماہرین کو توقع  ہے کہ یہ انقلابی ٹیکنالوجی وائرس کی تشخیص اور علاج میں اہم کردار ادا کرسکے گی۔

tech news Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK