Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا آپ اپنے بچے کو لوری گاکر سلاتی ہیں؟

Updated: June 16, 2020, 11:23 AM IST | Inquilab Desk

ایک تحقیق کے مطابق، موسیقی کا بچوں پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اس سے بچوں میں درد اور فکر کم ہو جاتی ہے۔ گریٹ آرمنڈ اسٹریٹ اسپتال میں کی گئی حالیہ ریسرچ کے مطابق اس بات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ لوری کا بچوں پر کیا اور کیسا اثر پڑتا ہے۔ جانیں کہ کیا کیا فوائد ہیں

Baby with Mother - Pic : INN
لوری سنانے سے بچے کی ذہنی نشوونما اچھی ہوتی ہے ۔ تصویر : آئی این این

ایک عورت کے لئے ماں بننے کے احساس سے بڑا کوئی دوسرا سکھ نہیں ہوسکتا۔ بچہ اپنی ماں کے سب سے قریب ہوتا ہے اس لئے وہ بغیر بولے بھی اپنی بات کو سب سے پہلے اپنی ماں کے دل تک پہنچا سکتا ہے۔ ماں اپنے بچے کو بغیر کہے اس کے دل کی بات سمجھ جاتی ہے۔
 للا للا لوری.... دودھ کی کٹوری... دودھ میں بتاشا... منی کرے تماشا، ننھی پری سونے چلی... ہوا دھیرے آنا.... نیند بھرے پنکھ لئے جھولا جھلانا... چاند کے رنگ سی گڑیا، ننھی پری سونے چلی.... ہوا دھیرے آنا... نیند بھرے پنکھ لئے جھولا جھلانا... چاند کے رنگ سی گڑیا.... اور بھی نہ جانے کتنے طریقے سے ایک ماں اپنے بچے کو اپنا پیار برساتی ہے، اسے لورتی گا کے سلاتی ہے۔ جی ہاں! ماں اور بچے کا رشتہ ہوتا ہی ایسا ہے جس میں لفظوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ ماں کی لوری ایک جادو کی طرح کام کرتی ہے۔ ماں کے ذریعے گائی گئی لوری بچے کو ماں کے اور قریب لاتی ہے۔ کبھی آپ بھی غور کیا ہوگا کہ بچہ سب سے پہلے آواز اپنی ماں کی پہچانتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ لوری کی شکل میں جو آواز وہ مسلسل سنتا ہے دھیرے دھیرے بچہ اس سے مانوس ہوتا جاتا ہے اور ان کے درمیان کا رشتہ اور بھی زیاہ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی لوری کا بچے پر کیا اثر پڑتا ہے کہ وہ سو جاتے ہیں یا رونا بند کر دیتے ہیں؟ تو ماہرین نے اس کے پیچھے کی صحیح وجہ معلوم کر لی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، موسیقی کا بچوں پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اس سے بچوں میں درد اور فکر کم ہو جاتی ہے۔ گریٹ آرمنڈ اسٹریٹ اسپتال میں کی گئی  حالیہ ریسرچ کے مطابق اس بات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ لوری کا بچوں پر کیا اور کیسا اثر پڑتا ہے۔ تو چلئے جانتے ہیں، بچے کو لوری سننانے کے ڈھیروں فائدوں کے بارے میں:
بچے کی ذہنی نشوونما
 لوری گا کر بچوں کو سلانے کا طریقہ صدیوں پرانا ہے۔ بچوں پر لوری کا مثبت اثر پڑتا ہے۔ یہ نہ صرف ماں اور بچے کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے میں مدد کرتا ہے بلکہ بچے کی ذہنی نشوونما کے لئے بھی بہترین ہوتا ہے۔ جب ایک بچہ اپنی ماں کی آواز سنتا ہے تو وہ الگ الگ آوازوں کے درمیان فرق کرنا بھی سیکھ جاتا ہے۔ دراصل ماں کی لوری بچے کے دماغ کے کئی حصوں کو ایک ساتھ مشتعل کرتی ہے جس سے بچے کا دماغ نشوونما پاتا ہے۔ اسے ڈاکٹری زبان میں ’میوزیکل لرننگ‘ بھی کہتے ہیں۔ لوری سننے سے دماغی نسوں کو بھی آرام ملتا ہے اور بچے کو نیند بھی گہری آتی ہے۔
لوری سن کر سونے سے بچے کا چڑچڑاپن دور ہوتا ہے اور اعتماد بڑھتا ہے
 کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ بچہ بہت زیادہ چڑچڑا ہو جاتا ہے یا ڈرا ہوا ہوتا ہے اور بہت زیادہ روتا ہے۔ وہ گھر میں کھلونے سے نہیں کھیلتا وہ باہر جا کر بھی رونا بند نہیں کرتا مگر وہ ماں کی گود میں جاتے ہی پُرسکون محسوس کرتا ہے اور جب ماں اسے پیار سے تھپکی دے کر اور لوری گا کر سناتی ہے تو اسے لگتا ہے کہ وہ اپنی ماں کے لئے دنیا کا ایک واحد شخص ہے اور وہ چین کی نیند سو جاتا ہے۔ یہ ایک ماں ہی جانتی ہے کہ اس کی آواز میں گایا ہوا گانا اس کے بچے کو کتنا سکون پہنچاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ماں سے لوری سن کر بچے کے اندر ڈر اور کسی بھی طرح کے خطرے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اس سے بچے کی ذہنی اور جذباتی نشوونما بھی ہوتی ہے۔ لوری سننے پر بچے کو ماں کے ساتھ ہونے کا احساس ہوتا ہے اور یہی احساس اسے بہادر بناتا ہے اور وہ دھیرے دھیرے خطروں کا سامنا کرنا سیکھنے لگتا ہے۔ اس طرح لوری بچے میں اعتماد مضبوط کرتا ہے۔
ماں اور بچے کے درمیان رشتہ
 رشتے مستحکم کرنے کے لئے نیروسائنس اور آکسی ٹوسن کے نام سے معروف ہارمون اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ یہ ہارمون لوری کے وقت بھی خارج ہوتا ہے جس سے ماں اور بچے کے مابین ایک خاص رشتہ استوار ہوتا ہے۔ جب ماں گاتی ہے تو آکسی ٹوسن ہارمونز بنتے رہتے ہیں۔ آکسی ٹوسن کو محبت ہارمون اور کڈل ہارمون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تعلقات میں مضبوط رشتہ قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ وہیں اگر لوری پورے دل سے نہیں گائی گئی تو آکسی ٹوسن ہارمون کم بنتے ہے لوری جب بھی گائیں دل سے گائیں۔
لوری بچے کے اندر زبان سمجھنے
 کی صلاحیت پختہ کرتی ہے
 جب ایک ماں اپنے بچے کو لوری گا کر سلاتی ہے تو لوری کے ان لفظوں میں ماں کا پیار اور خواہشات شامل ہوتی ہیں۔ بھلے ہی بچوں کو شروعاتی دور میں زبان سمجھ میں نہیں آتی ہے، لیکن ان کے دماغ میں ان لفظوں کا تصور آتا رہتا ہے، ان کی تصور کرنے طاقت تیز ہوتی جاتی ہے اور دھیرے دھیرے بچے کی زبان سیکھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی جاتی ہے۔ لوری میں استعمال کئے گئے لفظ بچے کو دھیرے دھیرے یاد ہونے لگتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK