Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریلوے کی دعوؤں کے برعکس جون تک ٹرینیں فل

Updated: April 04, 2026, 12:58 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

بار بار مسافروں کی سہولت اور آمدنی میں زبردست اضافے کا تذکرہ کیا جاتا ہے مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ یوپی اور بہار جانے والے مسافروں کا حال برا۔ ویٹنگ ٹکٹ بھی نہیں ۔

Passengers in North India face severe problems in booking tickets for long-distance trains. Photo: INN
طویل مسافتی ٹرینوں کےٹکٹ کیلئے شمالی ہند کے مسافروں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تصویر: آئی این این

ریلوے کے تمام دعوؤں کے باوجود جون تک ٹرینوں کے ٹکٹ فل ہے۔ یوپی، بہار اور مغربی بنگال جانے والوں کا اور برا حال ہے، ویٹنگ ٹکٹ بھی نہیں ہے۔ دوسری جانب ریلوے کی طرف سے کمائی کا حوالہ دے کر ٹھوس منصوبہ بندی کے سبب شاندار کامیابی کا دعویٰ کیا جارہا ہے مگر مسافروں کے اتنے اہم مسئلے پر توجہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یوپی، بہار اور مغربی بنگال جانے والے ہزاروں مسافروں کےلئے ہرسال موسم گرما کی تعطیلات ہوں ، ہولی یادیوالی ہو، کنفرم ٹکٹ حاصل کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ کئی ٹرینیں تو ایسی ہیں جو محض ۳۰؍ سیکنڈ میں ہی فل ہوجاتی ہیں، اس کے باوجود مسافروں کی راحت رسانی کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ہے، البتہ دعوؤں کی جھڑی ضرور لگائی جاتی ہے۔ 
پریشانی مسافروں کی زبانی 
بہار سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمٰن خان نے بتایا کہ ابھی گرمی کی چھٹیاں شروع نہیں ہوئی ہے مگر ایجنٹ بتارہا ہے کہ جون تک ٹکٹ فل ہے، نہ وطن جانے کا ملے گا اورنہ ہی واپسی کا۔ سوال یہ ہے کہ ٹکٹ جاتا کہاں ہے جبکہ ریلوے کہتی ہے کہ بہت سی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں، مسافر آسانی سے اپنی منزل تک پہنچیں گے مگر جب ٹکٹ ہی نہیں ملے گا تو منزل تک کس طرح پہنچ سکیں گے۔ اس مسئلے پر تو بہار کے ایم پی پپو یادو نے پارلیمنٹ میں بھی سوال کیا تھا کہ ٹکٹ نہ ملنے پر مجبوراً بیت الخلاء میں بیٹھ کر جاتے ہیں، اس کا حل ڈھونڈا جائے منتری مہودے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈرائیونگ ٹیسٹ نظام میں بڑی اصلاحات کا اعلان، ٹیسٹ کوٹہ میں اضافہ

بنارس سے تعلق رکھنے والے رام جی کنوجیا نے بتایا کہ ابھی سے جون تک کا ٹکٹ فل ہوگیا ہے، نہ کھڑکی پر ملا اور نہ ایجنٹ نے کوئی جواب دیا۔ ویسے بھی ایجنٹ ٹکٹ کی اصل قیمت سے کافی زیادہ رقم مانگتا ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ گرمی کی چھٹیوں میں بچوں کے ساتھ کیسے گاؤں جائیں گے اور شادی بیاہ میں کس طرح شرکت کریں گے۔ اس کا کوئی حل نہیں نکالا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب تو ریلوے نے ٹکٹ واپسی کا نیا ضابطہ نافذ کیا ہے اور ویٹنگ ٹکٹ پر بھی پابندی لگادی ہے۔ اس کے لئے تو اب مسلسل اعلان کیا جارہا ہے کہ ویٹنگ لسٹ ٹکٹ والے مسافر ریزرو ڈبے میں نہ چڑھیں ورنہ ان کو اگلے اسٹیشن پر اتار دیا جائے گا اور کارروائی بھی کی جائے گی۔ آخر کسے شوق ہے کہ پیسے بھی دے اور جگہ بھی نہ ملے، زمین پر یا کسی اور کے سہارے سفر کرے۔ 
’’بہت سنگین مسئلہ ہے اور اس کی کئی وجہ ہے‘‘
گلف ٹور اینڈ ٹراویلس کے ذمہ دار محمد شبلی مسرور اختر نے ۱۵؍ سے ۲۰؍ ٹرینوں جن میں ممبئی گورکھپور ایکسپریس، ممبئی آسنسول ایکسپریس، گیتانجلی ایکسپریس، گودان ایکسپریس، کشی نگر ایکسپریس، ہاؤڑہ میل، راج گیر ایکسپریس، مہانگری ایکسپریس اور گورکھپور اسپیشل وغیرہ شامل ہیں، کی تفصیل بتائی جو یوپی اور اور مغربی بنگال کیلئے چلائی جاتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر ٹرینوں میں ویٹنگ بھی نہیں ہے بلکہ ٹرین رگریٹ ہے یعنی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ریزرو ڈبے اور سلیپر سیٹوں کی تعداد کم کردی گئی ہے۔ اسی طرح جو اسپیشل ٹرینیں چلائی جاتی ہیں، اس کا اعلان بالکل آخر میں کیا جاتا ہے جبکہ بچوں کے ساتھ سفر کرنے والے پہلے سے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ کسی بھی صورت ٹکٹ ملنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ ویسے بھی یوپی اور بہار وغیرہ کیلئے اسپیشل ٹرینیں کم ہوتی ہیں ، دوسرے روٹ پر زیادہ چلائی جاتی ہیں۔ اس کیلئے ڈیمانڈ اور سپلائی کا بنیادی فرق ہے، اسی وجہ سے یہ مسئلہ برقرار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویسے بھی عام مسافر سے زیادہ تفصیل تو خود حکومت اور ریلوے کے پاس ہوتی ہے لیکن اس جانب توجہ ہی نہیں دی جارہی ہے۔ اسی لئے مسئلہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ شبلی کے بقول اس وقت کے حالات اور گیس سلنڈر کی کمی کے سبب بڑی تعداد میں شہری اپنےآبائی وطن بھاگ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ٹرینوں میں گنجائش نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عملے کی قلت سے’ ایس آئی آر‘ کا کام سست روی کا شکار

’’کیا مغربی بنگال الیکشن کیلئے اسپیشل ٹرینیں چلائی جائیں گی؟‘‘
خاص طور پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی جانب سے مغربی بنگال الیکشن کے تناظر میں یہ پوچھا جارہا ہے کہ کیا جس طرح بہار اسمبلی الیکشن میں رائے دہندگان کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے ملک کے الگ الگ حصوں سے اسپیشل ٹرینیں چلائی گئی تھیں ، اسی طرح کا نظم مغربی بنگال الیکشن کیلئے بھی کیا جائے گا؟ اگر خصوصی نظم کردیا جائے تو کافی سہولت ہوگی۔ 
ریلوے کی پوری طرح تیاری کا جواب 
ویسٹرن ریلوے ہو یا سینٹرل ریلوے، دونوں جگہ افسران نے ان مسائل پر لمبی چوڑی تیاری کا حوالہ دیا کہ ہزاروں کی تعداد میں اسپیشل ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ پیشگی تیاری کی جاچکی ہے۔ ان افسران سے یہ پوچھنے پر کہ جب زبردست تیاری کی جاچکی ہے پھر آخر ٹکٹ کیوں نہیں مل رہا ہے، ریزرویشن کرانے کے باوجود سیٹیں خالی رہنی چاہئیں تو ان کے پاس رٹے رٹائے دفتری جواب کے اطمینان بخش جواب نہیں ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK