سچائی پر نہ صرف یقین کریں بلکہ قائم بھی رہیں

Updated: October 21, 2020, 11:29 AM IST | Shaikh Saeeda Unsuri

بھلے ہی جھوٹ کے اس نقار خانے میں سچائی کی آواز کی طوطی کی حیثیت ہی کیوں نہ ہو۔ یہ طوطی کی آواز جھوٹ پر بھاری پڑ نے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے سچائی پر نہ صرف یقین کریں بلکہ ہر حال میں قائم رہیں یہ آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Muslim Girl
سچ ضرور بولیں مگر سامنے والے کو ٹھیس پہنچائے بغیر

جس طرح کرۂ ارض پر پانی کا وجود زندگی کی بقاء کے لئے اشد ضروری ہے۔ اسی طرح دنیاوی معاملات میں سچائی کا ہونا معاشرے کی بقاء کیلئے ضروری ہے۔ جس طرح پانی کے بغیر زندگی ناممکن ہے اسی طرح سچائی کے بغیر نظام عالم کا کاروبار بھی ناممکن ہے۔
 پھر بھی کیوں آج کے دنیاوی معاملات میں لوٹ کھسوٹ، دھوکے بازی، فریب دہی، انصاف کے منافی والے واقعات، تشدد، جھوٹ کی بھرمار والے واقعات اپنی انتہا پر ہیں۔ یہ گمان ہوتا جارہا ہے کہ کیا اب سچائی نہیں رہی؟ کیا انصاف نہیں رہا؟ کیا واقعی زمانہ بدل گیا ہے؟ جھوٹ کے اس اندھیرے میں سچائی پر سے یقین متزلزل ہو رہا ہے۔ دل و دماغ متاثر ہو رہے ہیں آخر کریں تو کیا کریں؟ بس ان حالات میں حوصلہ رکھیں، سچائی پر سے یقین متزلزل ہو نے نہ دیں۔ بھلے ہی اس جھوٹ کے نقارخانے میں سچائی کی آواز طوطی کی حیثیت ہی کیوں نہ رکھتی ہو۔ یہ طوطی کی آواز جھوٹ پر بھاری پڑ نے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے سچائی پر نہ صرف یقین کریں بلکہ ہر حال میں قائم رہیں یہ آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے۔
 سچائی کا زمانہ آج لئے بھی نہیں رہا کہ ہم سچائی کو اپنے معاملات کے بجائے دوسروں کے معاملات میں دوسروں کے قول و فعل میں تلاش کرتے ہیں تو سچائی کہاں سےملے گی؟
بقول اس شعر ؎
عمر بھر غالب یہی بھول کرتا رہا
ڈھول چہرے پر تھی آئینہ صاف کرتارہا
 آئینہ کو صاف کرنے کے بجائے خود کے چہرے کی دھول صاف کی ہوتی تو غالب کو یہ شکایت نہ ہوتی۔اور کہتے ہیں کہ دنیا میں کسی کو سنوارنا ہے یا سدھار نا ہے تو وہ خود کی ذات ہوتی ہے اسی لئے ہم اپنے معاملات میں سچائی اور انصاف کو اہمیت دیں۔ سچائی کو فوقیت دیں نہ کہ خود کو چھوڑ کر دوسروں میں عیب تلاش کریں۔
 ایک کہانی ایسی ہے کہ ایک بادشاہ رعایا کو حکم دیتا ہے کہ شاہی دن کے پیش نظر فلاں جگہ کے ایک 
 سوکھے تالاب کو رات میں پا نی سے بھر دیا جائے صبح کو بادشاہ اس دودھ سے غسل کرنے والا ہے۔ پھر صبح ہونے پر جب بادشاہ عسل کرنے کے لیے جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ تالاب دودھ کے بجائے پانی سے بھرا ہوا ہے وجہ دریافت کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ ہر فرد نے یہ سمجھا کے ہر کوئی دودھ ڈ ال رہا ہے میرے ایک کے پانی ڈالنے سے کیا فرق پڑنے والا ہے؟ یہ سوچ کر ہر فرد نے دودھ کے بجائے پانی سے بھر دیا۔
 ہماری بھی یہی سوچ ہے کہ سب سچائی پر ہیں۔ میرے ایک کے جھوٹ سے یا معاملات سچائی پر نہ ہونے پر کیا فرق پڑ نے والا ہے۔ اوپر سے شور کے سچائی نہیں رہی زمانہ بدل گیا ہے۔زمانے کو بدلنے دو خود سچائی پر قائم رہیں۔
 دوسروں سے توقع قائم کرنے کے بجائے خود توقع کریں۔ہر فرد آہنی استطاعت اور حالات کے مطابق اپنے معاملات میں سچائی کو فوقیت دے ۔
بقول اس شعر ؎
کچھ نہیں ہوگا اندھیرے کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا تو جلانا ہوگا
 جب ہر فرد سچائی کا دیاجلائے گا تو پورا ماحول روشن ہوجائے گا۔ جھوٹ کا اندھیرا اپنے آ پ چھٹ جائے گا۔آج بھی کسی کہانی کا انجام سچائی کی جیت پر ہوتا ہے تو ہمارے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے اور خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سچائی سے محروم نہیں ہوئے ہیں۔ آ ج بھی اس میں کشش محسوس ہوتی ہےتو اس پر قائم رہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک جسم کی قوت مدافعت کمزور نہیں ہوتی تب تک کوئی بیماری لاحق نہیں ہوتی ہےتو سچ کی قوت مدافعت کو کمزور ہونے نہ دیں یہ آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
 ’’سچ‘‘ کا مقصد اپنی خود نمائی، خود کو صداقت پسند ظاہر کرنے سے زیادہ کسی کی اصلاح ہے تو مناسب الفاظ شگفتہ لب و لہجہ ضروری ہے۔ جس کے سامنے سچ کہا جارہا ہے اسے بھی تکلیف نہ ہو اور وہ سچ کا قائل ہوجائے۔ یا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ غیر محسوس طریقہ سے سامنے والا اپنی اصلاح کرلے ۔
 سچ بولنے کی عادت بچپن سے ڈالی جاتی ہے... بچوں کو جھوٹ بولنے پر سزا دی جاتی ہے مگر اس حقیقت سے ہم کیسے انکار کرسکتے ہیں کہ بچے ابھی وہ بولنا بھی شروع نہیں کرتے..انہیں چلنا بھی نہیں آتا.... ابھی وہ کمسن ہوتے ہیں... اِن سے اتنا جھوٹ کہتے ہیں کہ بچے اس کے عادی ہوجاتے ہیں۔ ایک دور تھا جب نانی ماں، دادی ماں بچوں کو پریوں، جنوں کے قصے سنایا کرتی تھیں... ایک فرضی‘ خیالی دنیا میں پہنچا دیتی تھیں۔ بچوں کو ڈرانے کے لئے مائیں کبھی شیر کا کبھی کسی فرضی بوڑھے کا خوف دلایا کرتی تھیں... آج اسی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK