غیر اہم باتوں کو اپنے ذہن میں جگہ نہ دیں

Updated: September 15, 2021, 1:50 PM IST | Asiya Marium | Mumbai

اکثر خواتین چھوٹی چھوٹی باتوں کا اثر جلدی قبول کرلیتی ہیں اور ہر وقت اس بارے میں سوچتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں دوسروں کے لئے غبار بھر جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ غیر اہم باتوں کو نظر انداز کیا جائے کیونکہ یہ آپ کی شخصیت اور صحت دونوں کو متاثر کرتی ہیں

Everyone has some or the other virtue. If you have any deficiencies Be sure to try to meet.Picture:INN
ہر کسی میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔ اگر آپ میں کوئی کمی ہے تو اسے پورا کرنے کی کوشش ضرور کریں مگر سامنے والے کے ساتھ مقابلہ نہ کریں۔ تصویر: آئی این این

عائشہ گھر کی سب سے چھوٹی بہو ہے۔ گھر کے بڑوں کا رویہ اس کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔ ہر کوئی اسے طعنے دیتا رہتا ہے۔ بڑوں کو جواب دینے کی ہمت اس میں نہیں ہے۔ اگر جواب دیتی بھی ہے تو بدتمیز کہلائے گی، اس لئے خاموش رہتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات کا اثر اپنے ذہن پر سوار کرنے لگی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہر وقت اداس رہنے لگتی ہے۔ اپنے آپ کو باقی سب سے کمتر محسوس کرنے لگتی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ صورتحال مزید بگڑتی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہے۔ اکثر خواتین چھوٹی چھوٹی باتوں کا اثر جلدی قبول کرلیتی ہیں اور ہر وقت اس بارے میں سوچتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں دوسروں کے لئے غبار بھر جاتا ہے۔ بعض دفعہ ہم کسی کے رویے سے بہت کچھ سمجھ لیتے ہیں اور مسلسل وہی باتیں ہمارے ذہن میں چلتی رہتی ہیں۔ کبھی کبھی تو ذہن میں پوری کہانی تیار ہو جاتی ہے کہ فلاں رشتہ دار میرے بارے میں دوسروں سے بہت کچھ کہتا رہتاہے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا لیکن ایک چھوٹی سی بات کی وجہ سے ہمارے ذہن میں کئی قسم کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان سب سے خود کو باہر نکالنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہی ساری باتیں مستقبل میں ایک سنگین بیماری کا رُخ اختیار کر لیتی ہیں۔
اپنی بات کا اظہار کریں
 اگر کوئی رشتہ دار بار بار آپ کو طعنہ دے رہا ہے اور آپ کی خامیاں بتا رہا ہے تو اس سے بات کریں۔ اتنا سمجھ لیں کہ بات کرنی ہے جھگڑا نہیں۔ نرم لہجے میں بات کریں کہ آخر اسے مسئلہ کیا ہے؟ اسے آپ سے کیا شکایت ہے؟ اُس کی پوری بات سنیں، اس کے بعد آپ اپنی بات کہیں کہ اس کے طعنے سے آپ کو کتنی تکلیف پہنچتی ہے؟ اس طرح وہ آپ کی بات کو سمجھیں گے۔
ڈائری میں لکھیں
 اگر آپ سامنے والے سے بات نہیں کرنا چاہتی ہیں تو ڈائری میں اپنے دل کی بات لکھ لیا کریں۔ جیسے آپ کو کسی نے کیا کہا؟ اور آپ نے کیسا محسوس کیا؟ سبھی بات لکھ لیجئے۔ اپنے دل کی بات لکھ دینے سے آپ کو ذہنی طور پر سکون ملے گا۔ بار بار ذہن میں چلنے والی باتوں سے نجات حاصل ہوگی۔
بدگمانی نہ رکھیں
 بعض دفعہ چند خواتین آپ سے کہتی ہوں گی: فلاں نے آپ کے بارے میں فضول باتیں کہی ہیں، آپ کو بھی اس کے راز عام کرنے چاہئیں، یہی صحیح طریقہ ہے ایسے لوگوں کو سبق سکھانے کا۔
 اس قسم کی باتوں پر بالکل یقین نہ کریں کیونکہ ایسی خواتین ہر کسی سے اس قسم کی باتیں کہتی ہیں تاکہ آپس میں غلط فہمیاں پیدا ہوں۔ لہٰذا کسی کے تعلق سے بدگمانی نہ رکھیں۔ بعض دفعہ ایسی خواتین بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ اس شخص سے براہِ راست بات کرلیں۔ سارا معاملہ ہی سلجھ جائے گا۔
مقابلہ نہ کریں
 بیشتر خواتین غیر اہم باتوں کو اتنی اہمیت دے دیتی ہیں کہ ہر وقت دوسروں سے اپنا مقابلہ کرنے لگتی ہیں۔اگر کوئی کہتا ہے کہ تمہیں تو کھانا بنانا آتا ہی نہیں ہے، مسز انور سے کچھ سیکھو، وہ کتنے مزیدار پکوان تیار کرتی ہیں۔
 ہر کسی میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔ اگر آپ میں کوئی کمی ہے تو اسے پورا کرنے کی کوشش ضرور کریں مگر سامنے والے کے ساتھ مقابلہ نہ کریں۔ اس سے آپ کا سکون ختم ہوسکتا ہے۔
اصلاح بھی ضروری ہے
 اگر کوئی آپ میں خامیاں تلاش کر رہا ہے اور آپ بھی محسوس کر رہی ہیں کہ یہ خامی مجھ میں ہے تو اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن اس بات کو اپنے ذہن پر طاری نہ کریں بلکہ مثبت سوچ کے ساتھ اس کمی کو قبول کرکے اس کی اصلاح کی جانب غور کریں۔
دوری اختیار کر لیں
 کچھ لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ بار بار تنقید کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے سامنے والے کا سکھ چین برباد ہو جاتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں سے دوری اختیار کر لیں۔ کیونکہ ایسے لوگ کسی نہ کسی معاملے میں نقص تلاش ہی کر لیں گے۔ اس لئے ان سےدوری ہی بہتر ہے۔
اپنے آپ کو مطمئن رکھیں
 کسی کی تلخ بات سے بے چین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے آپ کو مطمئن رکھنے کی کوشش کریں۔ غیر اہم باتوں پر زیادہ توجہ دینا صرف وقت کی بربادی ہے جس سے آپ کی صحت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ 
مصروف رکھیں
 اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں۔ غیر اہم باتوں سے دوری اختیار کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ مصروفیت کے سبب آپ غیر اہم باتوں کی جانب توجہ ہی نہیں دے سکیں گی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK