احساسِ محرومی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں

Updated: June 07, 2021, 4:22 PM IST | Rehana Khatib

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں اتنی نعمتوں سے نوازا ہے وہیں زندگی میں کسی نہ کسی چیز سے محروم بھی رکھا ہے۔ بہت زیادہ خوشحال اور کامیاب لوگ بھی کہیں نہ کہیں محرومی کا شکار ہیں۔ بس ہم انہیں سمجھ نہیں پاتے اور ہمارا دھیان صرف اپنی ہی محرومی میں لگا رہتا ہے اور ہم خود کو بدقسمت تصور کرتے ہیں

 Instead of being jealous of the achievements of others, test your strengths and use them.Picture:INN
دوسروں کی کامیابیوں سے حسدکرنے کے بجائے اپنی خوبیوں کو پرکھئے اور اس کا استعمال کیجئے۔تصویر :آئی این این

جب اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنائی تو اس میں مختلف مخلوقات پیدا کیں۔ ان ہی میں سے ایک کو یعنی انسان کو اشرف المخلوقات کا نام دیا۔ ہر انسان میں اللہ نے گونا گوں خوبیاں بھی دیں اور اپنی نعمتوں سے کسی کو بھی محروم نہ رکھا۔ کسی کو اچھی صورت دی، کسی کو اچھا دماغ دیا، کسی کو دولت سے نوازا اور کسی کو ذہانت عطا کی۔ کسی کے ہاتھ میں ہنر رکھے۔ تمام انسانوں کی ان خوبیوں سے دنیا کے کام چلتے ہیں اور دنیا میں توازن برقرار رہتا ہے۔ انسان کی فطرت عجیب و غریب ہے وہ اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کی قدر نہیں کرتا بلکہ اس چیز کے بارے میں سوچتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے۔ یہ سوچ اسے اداس کر دیتی ہے اور وہ احساسِ محرومی کا شکار ہوجاتا ہے۔ نہ صرف احساسِ محرومی بلکہ احساسِ کمتری کا بھی شکار ہوجاتا ہے۔ یہ چیزیں اگر حد میں رہیں تو ٹھیک لیکن اگر شدت اختیار کر جائیں انسان کا جینا حرام ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک معمولی شکل کی لڑکی کسی خوبصورت لڑکی کو دیکھتی ہے تو چاہتی ہے کہ وہ بھی خوبصورت بن جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں۔ بس وہ مایوسی کا شکار ہوجاتی ہے اور ان صلاحیتوں یا خوبیوں کا بھی ادراک اور استعمال نہیں کرتی جو اللہ نے اسےعطا کی ہے۔ صورت کے علاوہ مزاج اور عادات کی بھی اہمیت ہوتی ہے اگر کسی مرد کو خوبصورت اور پسند کی بیوی مل بھی جائے مگر دونوں کے مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہو یا دونوں کی عادات اور ذوق جدا جدا ہوں تو بھی مرد احساسِ محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہی حال عورتوں کو بھی ہوتا ہے۔ دولت بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ جب ہم اپنے سے زیادہ دولتمند انسان کو دیکھتے ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ کاش ہم بھی ایسے ہوتے۔ اپنے سے زیادہ کامیاب انسان بھی برداشت نہیں ہوتے پھر وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس نے محنت بھی بہت کی ہوگی۔ یا اسے اللہ نے ذہانت عطا کی ہوگی۔ ایسے میں سوچنا چاہئے کہ ہمارے پاس جو ہے ہم اس کا صحیح استعمال کریں اور دوسری طرح سے کامیابی حاصل کریں۔ مسئلہ کا مثبت حل نکالنے کی کوشش کریں۔ ان سب کے لئے نہایت صبر اور تحمل کی ضرورت ہے۔ اپنے حال میں خوش رہنا سیکھنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ احساسِ محرومی ہمارے اندر پلتا رہے گا اور پھر دوسری صورت میں ظاہر ہوگا۔ بعض دفعہ کسی کو دولتمند دیکھ کر لوگ ڈینگیں مارنا شروع کر دیتے ہیں خواہ مخواہ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد کا ایک کردار تھا مرزا ظاہر دار بیگ۔ وہ جب دوستوں سے ملتے تو خوب شیخی بگھارتے اور اپنے گھر میں بننے والے اعلیٰ ترین کھانوں کا اس طرح ذکر کرتے کہ لوگ مرعوب ہوجاتے۔ ایک دفعہ ان کے دوست کا ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ مرزا نے بھوکے دوست کو صرف بھونے ہوئے چنے کھانے کو دیئے اور سارا وقت چنوں کی افادیت کا ذکر کرتے رہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ ملکہ نورجہاں نے طرح طرح کے عطر بنائے مگر جانے کیوں اس کا خیال چنوں کی طرف کیوں نہ گیا ورنہ چنوں کی مہک سے بھی عطر نکالا جاتا جو سارے عطروں پر سبقت لے جاتا۔ یہ تو تھا ان کا احساسِ برتری۔ احساسِ برتری دراصل احساسِ کمتری کا نتیجہ ہے۔ احساسِ کمتری میں مبتلا شخص کو بیمار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایسے لوگ جب دوسروں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو ان میں عیوب ڈھونڈھنے اور اس کا چرچا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کام میں انہیں بڑی تسلی ملتی ہے۔ یہ لوگ دوسروں کی ناکامی کو خود کی کامیابی سمجھتے ہیں اور انہیں نیچا دکھانے کی ناکام اورمذموم کوشش کرتے ہیں۔ یہاں انہیں اپنی عزت اور وقار کا بھی خیال نہیں ہوتا ہے۔
 اولاد کے بارے میں انسان نہایت حساس ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اولاد زیادہ سے زیادہ ترقی کرے۔ یہ بات بہت اچھی ہے مگر اس کے برعکس ہوا تو وہ دوسروں کے بچوں سے حسد کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو اور ان کے بچوں کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں چوکتا۔ حاسد لوگ دوسرے کی کامیابیوں میں بھی رکاوٹ ڈالنے  کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی فطرت کیکڑوں کی طرح ہوتی ہے۔ مچھلی والا مری ہوئی مچھلیوں کو کپڑے سے ڈھانک کر رکھتا ہے مگر زندہ کیکڑوں کے ٹوکرے کو کھلا رکھتا ہے۔ کیکڑے ٹوکرے کی دیواروں پہ چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جیسے ہی ایک کیکڑا ذرا اوپر پہنچتا ہے تو نیچے سے دوسرا کیکڑا اس کو کھینچ کر نیچے اسے برابر گرا دیتا ہے۔ اس طرح کوئی کیکڑا فرار نہیں ہوتا اور مچھلی والا بے فکر رہتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں عورتیں احساسِ محرومی کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ دوسری عورتوں کو اپنے سے اچھا کپڑا یا زیور پہنتے دیکھتی ہیں تو اداس ہوجاتی ہیں اور ان سے حسد کرنے لگتی ہیں یا پھر شوہروں سے لڑائی ہوتی ہے اور گھر کاسکون برباد ہوتا ہے۔ اگر شوہر کسی دوسری عورت کی ذرا سی بھی تعریف کر دے تو بیوی کا موڈ خراب ہوجاتا ہے اور اس کا اثر زندگی پر پڑتا ہے۔ اکثر مرد بیوی کی اس فطرت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لئے خود کو اپنی نظروں سے پرکھئے۔
 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں اتنی نعمتوں سے نوازا ہے وہیں زندگی میں کسی نہ کسی چیز سے محروم بھی رکھا ہے۔ بہت زیادہ خوشحال اور کامیاب لوگ بھی کہیں نہ کہیں محرومی کا شکار ہیں۔ بس ہم انہیں سمجھ نہیں پاتے اور ہمارا دھیان صرف اپنی ہی محرومی میں لگا رہتا ہے اور ہم خود کو بدقسمت تصور کرتے ہیں۔ یہ احساسِ محرومی ہماری شخصیت پر حاوی ہوجاتا ہے اور پھر زندگی اجیرن ہوجاتی ہے اور پھر محرومی کا احساس بھی ختم ہوکر دوسری شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انسان چڑچڑا، جھگڑالو اور بیمار بھی ہوجاتا ہے۔ لوگ ایسے انسانوں سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ اللہ سب کو اس مہلک بیماری سے بچائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK