عیدالاضحی کے موقع پر اپنی صحت کو نظرانداز نہ کریں

Updated: July 15, 2021, 3:00 PM IST | Dr.Sharmeen Ansari

عید قربان کے موقع پر کافی دنوں تک کھانے پینے کا دور دورہ رہتا ہے اور کھانے کے شوق کے پیچھے اکثر افراد اپنی صحت کو پوری طرح نظر انداز کر دیتے ہیں اور بے حساب کھا پی کر اپنے آپ کو بیمار کرلیتے ہیں، ایسے میں خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے کھانے پینے کا خیال رکھیں

 To enjoy the joy of Eid, it is important to eat in moderati.Picture:INN
عید کی خوشی سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اعتدال میں کھائیں۔تصویر :آئی این این

عیدالاضحیٰ کا تہوار مسلمانوں کے لئے بہت خاص ہوتا ہے۔ اسلئے اسے نہایت جوش و ولولے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ تین دنوں تک مسلمان اﷲکی راہ میں قربانی دیتے ہیں اور یقیناً قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت کھانا ہمارے لئے سعادت کی بات ہے۔ اس عید پر کافی دنوں تک کھانے پینے کا دور دورہ رہتا ہے اور کھانے کے شوق کے پیچھے اکثر افراد اپنی صحت کو پوری طرح نظر انداز کر دیتے ہیں اور بے حساب کھا پی کر اپنے آپ کو بیمار کرلیتے ہیں، ایسے میں خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے کھانے پینے کا خیال رکھیں۔ قربانی کے دنوں میں اپنے گھر والوں کو بے شک من بھر کے کھلائے مگر چند ہدایتوں کے ساتھ، تاکہ ان کی صحت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔ 
 صحتمند ناشتہ
 عیدالاضحی ہمارے لئے مقدس تہوار ہے اس لئے اس کی شروعات ہمیں ایک صحتمند ناشتے سے کرنی چاہئے، جس میں ہمیں بہت سارے پھل اور ضروری غذائی اجزاء کی آمیزش والا ناشتہ کرنا چاہئے، جوہلکاپھلکا ہو، تاکہ پورا دن ہم متحرک رہ سکیں اور عید کی خوشیوں کا مزہ لے سکیں اور اگر بعد میں ہم بھاری کھانا بھی کھائیں تو ہم صحت کے مسائل سے دوچار نہ ہوں۔
تلی ہوئی غذا
 تلا ہوا گوشت یا کوئی بھی غذا عام طور پر فائدے مند نہیں ہوتی اس لئے اسے کم سے کم کھانا چاہئے کیونکہ تیل میں غذا تلنے سے ضرورت سے زیادہ فیٹ (چربی)  جسم میں داخل ہوجاتی ہے جو صحت کے لئے بہت زیادہ مضر ہوتی ہے، اس لئے خواتین کو چاہئے کہ تلنے کے بجائے گوشت کو روسٹ کرکے گھروالوں کو دیاجائے۔
   کھانے پر کنٹرول
 سامنے اگر ذائقہ دار اور خوشبودار گوشت کے نت نئے پکوان رکھے ہوں تو خود پر کنٹرول رکھنا کافی مشکل ہوتا ہے، لیکن اگر آپ خود پر کنٹرول نہیں رکھیں گے تو کچھ وقت کا ذائقہ آپ کی صحت پر کافی اثرانداز ہوسکتا ہے، اور ویسے بھی ہمارا جسم بہت زیادہ کھانا ایک وقت میں ہضم نہیں کرسکتا اور ہم ہاضمے کے مسائل سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ’’اسلئے کھائیں بے شک مگر احتیاط کیساتھ۔‘‘
لگاتار کھانے سے بچیں
 لگاتار گوشت کا استعمال بھی آپ کو بیمار کرسکتا ہے، اس لئے خواتین کو چاہئے کہ وہ ٹائم ٹیبل کے مطابق گوشت کھانے کو دیں اور دو کھانے کے درمیان تقریباً ۴؍ گھنٹے کا وقفہ ضرور رکھیں۔ اور اگر گھروالوں کو رات کے کھانے میں گوشت دینا ہے تو تقریباً سونے سے۴؍ گھنٹہ قبل دیناچاہئے تاکہ سوتے وقت وہ ہضم ہوسکے۔ 
گوشت کے ساتھ پھل اور سبزیاں کھائیں
 سبزیاں آسانی سے ہضم ہوجاتی ہیں اور گوشت کے ساتھ اگر زیادہ سبزیاں، سلاد کے طور پر کھائی جائیں تو زیادہ گوشت کھانے کی حاجت نہیں ہوتی اور صحت بہتر رہتی ہے، اس کے علاوہ پھلوں کا استعمال بھی ہاضمے کے مسائل کو حل کرنے میں کارآمد ہوتا ہے۔
کولڈڈرنک سے پرہیز
 اکثرلوگ کھانے کے بعد کھانے کو ہضم کرنے کے لئے کولڈڈرنک کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ تحقیق بتاتی ہے کہ کھانے کے بعد کولڈڈرنک کا استعمال بہت خطرناک ہوسکتا ہے، اور اس سے پیٹ کے بہت سارے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں، اس لئے کھانا کھانے کے فوراً بعد کولڈڈرنک کااستعمال نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔
چہل قدمی کریں
 چہل قدمی کرنایا پیدل چلنا ایک بہت اچھی ورزش ہے اس سے کھانا بہت جلد ہضم ہوجاتا ہے اور بھاری پن اور تیزابیت کے مسائل نہیں ہوتے اس لئے کھانے کے بعد ٹہلنابہت ضروری ہے۔ خاص طور پر رات کے وقت، کیونکہ گوشت، ایک دیر سے ہضم ہونے والی غذا ہے اس لئے رات کے وقت کھانے کے بعد چہل قدمی ہمیں اپنے معمولات میں شامل کرنی چاہئے۔ 
گرین ٹی یا لیموں کا جوس پئیں
 گرین ٹی یا لیموں کاجوس جسم میں میٹا بولیزم کی سطح کو  بڑھا دیتا ہے اور کھانے کو ہضم ہونے میں مددملتی ہے، اسلئے خواتین کو چاہئے کہ گوشت کھانے کے بعد گھر والوں کو گرین ٹی یا لیموں کا جوس دیں۔
ذخیرہ نہ کریں
 اکثراوقات جن کے یہاں قربانی ہوتی ہے، وہ گوشت کی ذخیرہ اندوزی کرکے رکھ لیتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ یہ تہوار ایثار اور قربانی کاہے۔ ہمیں اس تہوار میں کوشش یہ کرنی چاہئے کہ جولوگ عام دنوں میں گوشت نہیں خرید سکتے ان کے یہاں ہماری قربانی کا گوشت پہنچ جائے۔ 
 عیدالاضحی ایک مقدس تہوار ہے اور صحت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت، اس لئے اس کا ہمیں ہر حال میں خیال رکھنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK