نمائش نہ کریں، دوسروں کا بھی خیال کریں

Updated: July 19, 2021, 3:23 PM IST | Rehana Khatib

’پردہ‘ کا مقصد اور معنی ہیں کسی چیز کو چھپانا۔ اس طرح پردے کے بہت وسیع معنی ہوتے ہیں۔ انسانوں کو بھی پردہ کا بے حد خیال رکھنا چاہئے۔ ایسی کئی چیزیں ہماری زندگی میں آتی ہیں جن کا چھپانا ضروری ہے۔ بعض دفعہ بے جا نمائش کی وجہ سے دوسروں کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے لہٰذا اس سے بچیں

 The display of wealth is not a good thing.Picture:INN
دولت و ثروت کی نمائش اچھی بات نہیں ہے۔تصویر :آئی این این

’پردہ‘ لفظ سنتے ہی ایک پرانے طرز کے برقعے میں لپٹی ہوئی مظلوم مسلم عورت کی شبیہ سامنے آجاتی ہے۔ یہ اسلئے کہ پردہ کو صرف مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اخبارات وغیرہ میں جہاں کہیں مسلمانوں کے مسائل کا ذکر ہوتا ہے اس کی علامتی تصویر یہی برقعہ پوش مسلمان عورت ہوتی ہے۔ علامتی تصویر کی اپنی اہمیت ہوتی ہے کہ اسے دیکھتے ہی قاری بہت کچھ سمجھ جاتا ہے اور مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ سراسر غلط ہے کہ پردہ صرف مسلمانوں میں ہے۔ دوسرے مذاہب کی عورتیں بھی قدیم زمانے سے پردہ کرتی آرہی ہیں۔ بس اسٹائل الگ الگ ہیں۔ کہیں یہ چادر کی صورت میں ہے تو کہیں گھونگھٹ کی شکل میں۔ پردہ کا مقصد اور معنی ہیں کسی چیز کو چھپانا۔ اس طرح پردے کے بہت وسیع معنی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو پردہ بے حد پسند ہے۔ انسانوں کو بھی پردہ کا بے حد خیال رکھنا چاہئے۔ ایسی کئی چیزیں ہماری زندگی میں آتی ہیں جن کا چھپانا ضروری ہے۔ مثلاً کسی کو اللہ تعالیٰ نے دولت و ثروت سے نوازا ہے اسے چاہئے کہ غریبوں کے سامنے اس کی نمائش نہ کرے تاکہ اسے اپنی غریبی کا احساس نہ ہو۔ خاص طور پر خواتین میں یہ عادت ہوتی ہے کہ اپنے قیمتی کپڑوں اور زیورات کی نمائش کرتی ہیں اور دوسروں پر اپنی امارت کا رعب جھاڑتی ہیں۔ اس کے کئی برے اثرات پڑتے ہیں۔ غریب خواتین کو اپنی محرومی اور کمتری کا احساس ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے ضد کریں نتیجے میں ان میں لڑائی ہوسکتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیوی کی خواہشات پوری کرنے کے لئے شوہر ناجائز ذریعے سے روپیہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور دنیا اور آخرت میں سزا کا مستحق ٹھہرے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟
 اگر بہت مال، دولت اور زیورات ہیں تو انہیں پردے میں رکھئے۔ کبھی کبھی الٹا بھی ہوجاتا ہے۔ ایک خاتون نے ایک خوبصورت اور بڑا سا نقلی ہار خریدا روز اس طرح پہنتی کہ سب کو دکھائی دے ایک دن اچانک ایک موٹر سائیکل سوار آیا اور کھینچ کر لے گیا۔ نقلی تھا اس لئے خاتون کو زیادہ افسوس نہیں ہوا حالانکہ کافی قیمتی تھا۔ دو چار دن بعد وہ خاتون راستے سے جا رہی تھی کہ وہی موٹر سائیکل سوار آیا۔ گاڑی روک کر اس نے خاتون کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا اور ’’نقلی پہن کر دھوکا دیتی ہے۔‘‘ کہہ کر یہ جا وہ جا.... اس کے علاوہ بھی پردے کی کئی قسمیں ہیں۔ کسی یتیم کے سامنے اپنے بچے سے زیادہ پیار و محبّت نہ جتایئے۔ کسی بیوہ یا بڑی عمر کی غیر شادی شدہ عورت کے سامنے اپنے شوہر کی محبّت یا ناز و نخرے اٹھانے کا ذکر نہ کیجئے تاکہ اس کے دل میں اتنی عظیم نعمت کے نہ ہونے کا احساس جاگے اور وہ خدا سے شکوہ کر بیٹھے۔
 آپؐ نے تاکید کی کہ اگر گھر میں کوئی پھل لائیں تو اپنے پڑوسی کو ضرور دیں ورنہ ان کے چھلکے اور بیج ایسی جگہ پھینکے جہاں ان کی نظر نہ پڑے۔ اس پردہ میں پڑوسی کے حقوق بھی آتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنی امارت، دولت اور کاروں وغیرہ کے بارے میں بڑی بڑی ڈینگیں ہانکتے ہیں تو خدارا اپنے سے کم حیثیت کے لوگوں کے سامنے اس طرح نہ کریں۔ یہ بھی پردہ کی ایک قسم ہے۔
 عیدالاضحی قریب ہے جانوروں کی خرید و فروخت جاری ہے۔ ان دنوں اکثر اخباروں میں بڑے بڑے قیمتی بکروں کی تصاویر شائع کی جاتی ہیں اور ان کے خریدنے والوں کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی اپنی امارت کو ظاہر کرنے کا طریقہ ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ بکرا ایک لاکھ کا ہو یا دس ہزار کا یا بڑے جانور میں ساتواں حصہ، قربانی ایک ہی تصور کی جائے گی اور اس کا ثواب بھی اتنا ہی ہوگا۔ ایک لاکھ کا بکرا لینے کے بجائے دس دس ہزار کے دس بکرے قربان کئے جائیں تو زیادہ لوگوں تک قربانی کا گوشت پہنچے گا جو کہ قربانی کا عین مقصد بھی ہے۔ پردے کے جتنے فوائد ہیں بے پردگی کے اتنے نقصانات ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا کی توسط سے بے پردگی عام ہے۔ لوگ اپنی خانگی باتیں بھی ’شیئر‘ کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ کیا یہ بے پردگی نہیں ہے؟ دوسرے کی کمزوریوں کو چھپانا یا ان کے عیبوں پر پردہ ڈالنا شاید پردے کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ چند خواتین میں یہ عیب ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں اور پھر اس کا تذکرہ سب طرف کرتی ہیں۔ اکثر خواتین تو یہ تک جانتی ہیں کہ پڑوسن کی ہانڈی میں کون سی دال گل رہی ہے۔ کسی کے بارے میں سب کچھ جاننے کی کوشش کرنا اور اپنے بارے میں سب کچھ بتانا، دونوں ہی بدترین عادتیں ہیں۔ اور پھر ان کی تشہیر کرنا تو بہت ہی زیادہ خراب بات ہے۔
 پردہ جہاں چھپانے کا کام کرتا ہے وہیں کشش بڑھانے کا کام بھی کرتا ہے۔ اگر گھونگھٹ نہ ہو تو کوئی دیکھے گا بھی نہیں۔ پردہ مجرموں کی بھی عزت بچاتا ہے اسی لئے پولیس مجرم کے منہ پر اوڑھنی ڈال کر لے جاتی ہے تاکہ اس کی عزت اور شناخت محفوظ رہ سکے۔ پھانسی کے مجرم کے منہ پر بھی پھانسی کے وقت کالا کپڑا پہنا دیا جاتا ہے۔ زندہ انسان کا چہرہ کھلا رہتا ہے مگر مردہ کا نہیں۔ انسان کے مرنے کے بعد ڈاکٹر پہلے اس کا چہرہ ڈھانپتا ہے پھر ا س کی موت کا اعلان کرتا ہے۔
 یوں زندگی سے موت تک ہر انسان کا پردے سے تعلق رہتا ہے۔ آخر کہاں تک اس کی اہمیت سے انکار کیا جاسکتا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK