Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملئے ۱۹؍سالہ امریکی نوجوان سے جو اپنی تیسری کمپنی قائم کرچکا ہے

Updated: June 17, 2026, 3:32 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

زیک یڈیگاری پہلی کمپنی کو کامیاب پروڈکٹ بناکر اسے ایک لاکھ ڈالردوسری کمپنی کو ۴؍کروڑ ڈالر فروخت کرنے میں کامیاب رہے،اب تیسرے ’اسٹارٹ اپ ‘ میں قسمت آزمائی کررہے ہیں۔

Zack Yedigari.Photo;iNN
زیک یڈیگاری-تصویر:آئی این این
محض ۱۹؍سال کی عمر میں امریکی نوجوان زیک یڈیگاری وہ کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں جن کیلئے لوگوں کی عمریں لگ جاتی ہیں۔زیک نے ۲؍ اسٹارٹ اپس فروخت کیے ہیں، جن میں ایک گیمنگ پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی کیلوری ٹریکنگ ایپ Cal AIشامل ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کے ایک کروڑ صارفین ہیں اور یہ لاکھوں ڈالر کی آمدنی پیدا کر چکی ہے۔ اب یہ نوجوان کاروباری’فلو‘کے نام سے ایک نئی کمپنی شروع کر رہا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو سوشل میڈیا پر بے مقصد اسکرولنگ کی عادت سے نجات دلانا ہے۔
زیک نے ۷؍ سال کی عمر میں کوڈنگ شروع کی تھی۔ بچپن کا یہ شوق جلد ہی کاروباری منصوبوں میں تبدیل ہو گیا اور وہ ان نوجوان فاؤنڈرز کی صف میں شامل ہو گئے جو کامیابی کے روایتی تصورات کو چیلنج کر رہے ہیں۔۲۰؍ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی وہ دو کامیاب کمپنیاں قائم کرکے ،انہیں فروخت کر چکے ہیں، جن میں ایک کی قیمت ایک لاکھ ڈالر اور دوسری کی قیمت کروڑوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اب وہ اپنی تیسری کمپنی ’فلو‘ پر کام کر رہے ہیں، جو صحت اور پیداواری صلاحیت (پروڈکٹی ویٹی)  پر مرکوز ہے۔
۱۶؍ سال کی عمر میں پہلی کمپنی فروخت
زیک کا کاروباری سفر’ٹوٹلی سائنس‘ نامی ایک ویب سائٹ سے شروع ہوا، جو طلبہ کو بغیر ڈاؤن لوڈ یا رجسٹریشن کے آن لائن گیمز کھیلنے کی سہولت دیتی تھی۔ انہوں نے یہ پلیٹ فارم نوعمری میں بنایا تھا اور یہ جلد ہی طلبہ میں مقبول ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق، زیک نے۱۶؍ سال کی عمر میں یہ ویب سائٹ ایک لاکھ ڈالر میں فروخت کر دی۔ یہ ان کی پہلی بڑی کاروباری کامیابی تھی۔ جہاں زیادہ تر نوجوان اپنی ہائی اسکول کی زندگی امتحانات اور غیر نصابی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں، وہیں زیک اس دوران ایک ٹیکنالوجی کمپنی بنانا، اسے بڑھانا اور فروخت کرنا سیکھ رہے تھے۔
 کروڑوں صارفین والی اے آئی  ایپ
زیک کی دوسری کمپنی’Cal AI‘بالکل مختلف پیمانے پر کام کرتی تھی۔یہ اے آئی پر مبنی کیلوری ٹریکنگ ایپ بہت تیزی سے مقبول ہوئی اور دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ صارفین تک پہنچ گئی۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی کی سالانہ آمدنی تقریباً۳؍ کروڑ ڈالر تھی، جبکہ مارچ۲۰۲۶ء تک اس کے۴؍کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی تھی۔
اس کامیابی نے صحت اور فٹنس کے شعبے کی بڑی کمپنیوں کی توجہ حاصل کی، اور گزشتہ سال’MyFitnessPal‘ نے Cal AI کو خرید لیا۔ تاہم، اس معاہدے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ یہ زیک کی کاروباری زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل تھا، جو انہوں نے بیس سال کی عمر سے پہلے ہی حاصل کر لیا۔
تیسرا منصوبہ: ڈُومس اسکرولنگ کے خلاف جنگ
Cal AI فروخت کرنے کے بعد زیک نے اپنی توجہ ایک نئے مسئلے کی طرف مبذول کی: لوگوں کی روزمرہ عادات کو بہتر بنانا۔ ان کی نئی کمپنی فلو  پیداواری صلاحیت، صحت اور ہارڈویئر ٹیکنالوجی کو یکجا کرتی ہے۔ اس کا پہلا پروڈکٹ’فلوالارم کلاک‘ ہے، جو لوگوں کو صبح جاگتے ہی موبائل پر غیر ضروری اسکرولنگ سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ روایتی الارم کے برعکس، اس ڈیوائس کو بند کرنے کے لیے صارف کو بستر سے اٹھ کر ایک مخصوص’Dock‘کو چھونا پڑتا ہے۔ جب تک یہ عمل مکمل نہ ہو، فون کی منتخب ایپس بند رہتی ہیں۔ اس خیال کے بارے میں زیک نے’بزنس انسائیڈر‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’کبھی کبھی میں صبح اٹھتا ہوں اور آدھے گھنٹے تک فون پر اسکرول کرتا رہتا ہوں۔‘‘ یہ ڈیوائس نیند کے معیار اور آوازوں کو بھی ریکارڈ کرتی ہے، اور اس طرح ہارڈویئر اور رویے سے متعلق سافٹ ویئر کو یکجا کرکے لوگوں کی صبح کی عادات اور مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔
ٹاپ یونیورسٹیوں نے زیک کو داخلے سے منع کردیا تھا
کاروباری کامیابی کے باوجود زیک کی تعلیمی زندگی ایک غیر متوقع موڑ سے گزری۔۴ء۰؍ جی پی اے اور شاندار امتحانی نتائج کے باوجود انہوں نے ہارورڈاورایم آئی ٹی سمیت کئی ممتاز یونیورسٹیوں میں داخلے کیلئے درخواست دی، لیکن انہیں متعدد اعلیٰ اداروں سے مسترد کر دیا گیا۔ بعد میں انہوں نے یونیورسٹی آف میامی میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کی وجہ یونیورسٹی کا سماجی ماحول اور کاروباری ثقافت تھی، نہ کہ اس کا نام یا شہرت۔ ابتدا میں انہوں نے بزنس کی تعلیم حاصل کی، لیکن بعد میں فلسفہ میں منتقل ہو گئے، جبکہ کاروبار سے متعلق اپنی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔یونیورسٹیوں سے مسترد ہونے کے بعد زیک نے ایک کھلا خط بھی شائع کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کالجوں کو داخلے کے عمل میں قابلیت کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
زیک یڈیگاری کی کہانی ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں نوجوان کاروباری افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کامیابی کیلئے صرف ممتاز ڈگریاں ہی ضروری ہیں؟بہت سے نوجوان اب تعلیمی اسناد کے بجائے عملی مہارت، کام کو انجام دینے کی صلاحیت اور حقیقی مسائل کے حل کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ زیک کیلئے کامیابی گریجویشن سے بہت پہلے آ چکی تھی۔ دو کامیاب اسٹارٹ اپ فروخت کرنے اور تیسرے منصوبے پر کام کرنے والے اس نوجوان کی کہانی یہ ظاہر کرتی ہے کہ آج کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت میں اختراع(انوویشن)  اور مؤثر عمل درآمد(ایگزیکیوشن) بعض اوقات ڈگری پر درج یونیورسٹی کے نام سے بھی زیادہ اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK