بچوں کو بڑے ہی ادب سکھائیں

Updated: February 06, 2020, 1:37 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

جیسے جیسے ہم ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں ویسے ویسے ہم اپنی اخلاقیات کے تقاضوں کو بھلاتے جا رہے ہیں ۔ کل تک بچے اپنے والدین کے سامنے ادب کی وجہ سے بولتے نہیں تھے مگر آج کی نسل میں والدین کا احترام بالکل ہی ناپید ہو چکا ہے۔ اگر ہم آج اپنے بچوں کو بڑوں کا ادب نہیں سکھائیں گے تو کل آنے والی نسل ہمارا حترام نہیں کرے گی۔

علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی
علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی

جیسے جیسے ہم ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں ویسے ویسے ہم اپنی اخلاقیات کے تقاضوں کو بھلاتے جا رہے ہیں ۔ کل تک بچے اپنے والدین کے سامنے ادب کی وجہ سے بولتے نہیں تھے مگر آج کی نسل میں والدین کا احترام بالکل ہی ناپید ہو چکا ہے۔ اگر ہم آج اپنے بچوں کو بڑوں کا ادب نہیں سکھائیں گے تو کل آنے والی نسل ہمارا حترام نہیں کرے گی۔ اس ضمن میں انقلاب نے چند خواتین سے بات کی جنہوں نے کہا کہ نئی نسل کو تھوڑا وقت دینا چاہئے اور ہمیں تھوڑا صبر سے کام لینا چاہئے، ہمیں اُمید ہے کہ یہ نسل بڑوں کا ادب ضرور کرے گی۔ 
بچہ وہی کرتا ہے جو بڑے کرتے ہیں: ڈاکٹر سیدہ رخشیدہ، ماہر نفسیات 
آج ہم کہتے ہیں بچے بڑوں کا ادب نہیں کرتے۔ یہ بات ہمارے والدین بھی کہتے تھے اور ہم بھی اپنے بچوں کے لئے یہی کہتے ہیں ۔ یہ ضرور کہوں گی کہ تبدیلی یقیناً آئی ہے مگر اس میں بچوں کی غلطی نہیں ہے۔ دراصل بڑوں کا رویہ بدل گیا ہے۔ ممبئی میں لوگوں کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے۔ ہمارے والدین ہمارے ساتھ کافی وقت گزارتے تھے مگر اب بچے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ بہت کم وقت گزارتے ہیں ۔ اس وجہ سے ’سیلف ریزنگ‘ ہو جاتے ہیں ۔ جب اصل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں وہ نہیں مل پاتی تو وہ خود سے یا آس پاس کے ماحول سے سیکھ لیتے ہیں ۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے طرزِ زندگی بدل گیا ہے۔ آج کل بچے بہت سوال کرنے لگے ہیں مگر جب بچہ اپنے بڑوں سے سوال کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ بچہ زبان درازی کرنے لگا ہے یا پلٹ کر جواب دے رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بچوں کو بول کر نہیں کرکے سکھایا جاتا ہے اور بچہ وہی کرتا ہے جو بڑے کرتے ہیں ۔
 مجھے اس بات کی امید ہے کہ مستقبل میں بچّوں کا بڑوں کے تئیں رویہ بہتر ہی ہوگا کیونکہ نئی نسل ہم سے آگے ہیں ۔ نئی نسل کو کچھ بھی معلوم کرنا ہوتا ہے تو وہ کسی کا انتظار نہیں کرتے ہیں بلکہ سیدھا انٹرنیٹ سے معلوم کرلیتے ہیں ۔ اگر وہ اچھا ’گڈ بیہویئر‘ سیکھنا چاہتے ہیں تو کسی کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ خود ہی اس بارے میں معلوم کرکے سیکھ جائیں گے۔مَیں بہت پُرامید ہوں کہ نئی نسل اپنی زندگی کو بہتر سمجھے گی اور بہتر انداز میں گزارے گی۔ آپ دیکھ لیجئے ہمارے آس پاس کئی کارکنان ہیں ۔ گریٹا تھنبرگ ہیں ، ان کے بارے میں نئی نسل سب جانتی ہے، ان سے تحریک حاصل کر رہی ہے۔ دیکھا جائے تو ہمارے آس پاس اچھی چیزیں ہی ہو رہی ہیں اور یہ سب نئی نسل ہی کر رہی ہے (جیسے حالیہ احتجاجی مظاہرے) تو یہ نسل کے لوگ جب والدین بنیں گے تو یقیناً اپنی اولاد کی بہتر پرورش کریں گے۔


بڑے چھوٹوں سے شفقت سے پیش آئیں گے تو وہ بڑوں کا ادب کریں گے: کیمیا انیل کدم، معلمہ
اب میری ریٹائرمنٹ کی عمر ہوگئی ہے۔ جب ہم ’ینگ‘ تھے تب گھر آنے اور جانے کا وقت متعین ہوتا تھا۔ شام ۷؍ بجے سے پہلے گھر آجاتے تھے کیونکہ ۷؍ بجے کے بعد کھانے کا وقت ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ بڑے طے کرتے تھے اور چھوٹے ان پر عمل کرتے تھے۔ اس وقت بڑوں کا ادب ایک الگ بات نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی میں شامل تھا۔ گھر سے نکلتے وقت بڑوں کو کہہ کر جاتے تھے، نکلتے وقت ان کا آشیرواد (دعا) لیتے تھے۔ شام کو بھی گھر آنے کے بعد والدین یا گھر کے بڑوں کے پاس بیٹھ جاتے تھے۔ یہی ہماری تہذیب تھی اور اسی کو ہم نے آگے بڑھایا۔ مزے کی بات ہے کہ ابھی میرے گھر میں ، میری بیٹی اور اس کی بیٹی، یعنی ایک ساتھ تین نسل ہیں ۔ میری بیٹی جیسے جیسے بڑی ہوئی تو مَیں نے محسوس کیا کہ اُس کو اپنی تہذیب اور مذہب میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ میری عزت نہیں کرتی لیکن مذہب کے تئیں جو ہمارا رجحان ہوتا تھا وہ اس میں نہیں ہے مگر تعجب کی بات ہے کہ میری پوتی ان دونوں معاملات میں کافی دلچسپی رکھتی ہے۔ وہ بڑوں کا ادب کرتی ہے۔ خاص کر مجھے دیکھتے ہوئے ہر مذہبی عمل کو دہراتی ہے۔ ہم اکثر نئی نسل کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں تو منفی بات ہی ذہن میں آتی ہے مگر مَیں جب اپنی پوتی کو دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ نہیں ہم غلط ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ بڑوں کا ادب جب تک ہم کرتے رہیں گے، ہماری نئی نسل تب تک اس پر عمل کرتی رہے گی۔

 اپنی ذاتی مثال دوں گی، مَیں نے اپنی بیٹی سے ایک دن سوال کیا کہ ’’تم کب میرے گلے لگی تھیں ؟‘‘ تو بیٹی نے سوچ کر جواب دیا نومبر ۲۰۱۹ء کو، جب آپ کی سالگرہ تھی۔ آپ خود ہی سوچئے کہ آج کل کے بچے اپنے بڑوں کے احساس سے کتنے دور ہیں ۔ آج کی نسل کیا اپنے بڑوں کے پاس بیٹھتی ہے؟ کیا انہیں گلے لگا کر شکریہ کہتی ہے؟ چند بچّے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں گے۔ آج کی نسل نے بہت کم کہا ہوگا کہ ’’ماں تمہارے ہاتھ کا کھانا بہت مزیدار ہے۔‘‘ یہ ساری چیزیں ادب میں ہی شامل ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ آج کی نسل بالکل بڑوں کا ادب نہیں کرتی، ہاں تھوڑا طریقہ ضرور بدل گیا ہے۔ ساتھ ہی بڑوں کو بھی چاہئے کہ وہ صبر کریں اور بڑے ایسا عمل کریں کہ بچے از خود آپ کو اپنا ’آئیڈیل‘ مانیں ۔ اگر یہ بات بڑے سمجھ لیں تو یقیناً مستقبل میں ہر گھر میں ’بڑوں کا ادب‘ باقی رہے گا۔


پرانی نسل، نئی نسل کو وقت دے تو بچّے یقیناً بڑوں کا ادب کریں گے: افسانہ غازی، معلمہ
مَیں آج بھی اپنے گھر کے بڑے بزرگ یا استاد کو دیکھ کر ادب سے کھڑی ہو جاتی ہوں ۔ انہوں نے ہمیں جو سکھایا ہے ہم اسی پر عمل کرتے ہیں ۔ ہمارے بڑوں نے ہمیں سکھایا کہ بڑوں کو ’آپ‘ سے مخاطب کرو ’تم‘ سے نہیں اور ایسا ہی ہم کرتے ہوئے آئے ہیں اور اس بات کی امید ہے کہ اگلی نسل کچھ حد تک بڑوں کا اَدب ضرور کرے گی کیونکہ انہیں سمجھانے کے لئے پچھلی نسل موجود ہے اور پرانی نسل بہتر جانتی ہے کہ بڑوں کا ادب کیا ہوتا ہے اور کیسے یہ بچوں کو سکھایا جاتا ہے۔ آج کے دور میں والدین مصروفیت کے سبب بچوں کو وقت بہت کم دے پاتے ہیں ، اگر وہ اپنا تھوڑا سا وقت بچوں کی بہتر تربیت کے لئے صرف کریں گے تو یقیناً آنے والی نسل بڑوں کا ادب کرنا ضرور سیکھے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK