ایم پی ایس سی میں کامیابی حاصل کرنیوالے ناندیڑ کے فیاض شیخ سے خصوصی بات چیت

Updated: June 25, 2020, 12:12 PM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed

ایم پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کرکے سیکشن آفیسر کا عہدہ حاصل کرنیوالے ناندیڑ کے فیاض شیخ سےخصوصی بات چیت

Fayyaz Shaikh
قابل فخر کامیابی مبارک: فیاض شیخ (درمیان میں) اپنے والد اور بھائی کے ساتھ

 اس سیریز کی چوتھی قسط میں آپ کی ملاقات  ہم  شیخ  فیاض   سے کرواتے ہیں جو ناندیڑ ضلع کی تحصیل دیگلور کےرہنے والے ہیں۔انہوںنے ایم پی ایس سی امتحان ۲۰۱۹ء  میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے، اس بنیاد پر ان کا انتخاب سیکشن آفیسر کے باوقار عہدہ کیلئے ہوا ہے۔ فیاض شیخ ایک تعلیم یافتہ گھرانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والدمنیر شیخ ایک مراٹھی میڈیم اسکول میں ٹیچر ہیں۔فیاض کی پہلی تا ساتویں جماعت تک کی تعلیم انوجا بھوسلے مراٹھی میڈیم اسکول  ورنگل اور اسکے بعد آٹھویں سے دسویں تک سادھنا ہائی اسکول دیگلور سے ہوئی۔ انہوں نے دسویں کا امتحان ۷۹؍ فیصد مارکس سے کامیاب کیا۔اس کے بعد  دیگلور کالج سے بارہویں سائنس میں ۸۴؍ فیصد مارکس حاصل کئے۔  مہاراشٹر سی ای ٹی کی بنیاد پر بابا صاحب امبیڈکر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی رائے گڑھ میں بی ٹیک ان کمپیوٹر انجینئرنگ میں داخلہ ملا اور انہوں نے انجینئرنگ مکمل کی ۔ 
 بات چیت کے آغازمیں فیاض نے ایم پی ایس سی امتحان میں شرکت کی یہ وجہ بتائی کہ ’’ انجینئرنگ مکمل ہوتے ہی  بچپن کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کیا۔ہم کل تین بھائی اور ایک بہن ہیں۔ سب سے بڑے بھائی ریاض شیخ پونے رورل میں پولس سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔  ان سے چھوٹے بھائی ریاست تلنگانہ کے بودھن مقام پر پوسٹل محکمہ میں پوسٹ ماسٹر ہیں۔ایک بہن ہے جن کی شادی ہو چکی ہے وہ بھی الحمدللہ گریجویٹ ہیں۔ میں گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔  جب اسکولی تعلیم حاصل کر رہا تھا تبھی سے گھر میں مقابلہ جاتی امتحان کا ماحول بنا ہوا تھا۔ اسی سبب  میرے اندر کچھ بننے اور  ملک و قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ بڑے بھائی اپنے اسٹیٹ سروس امتحان کی تیاری کے دوران اکثر نئی نئی معلومات فراہم کرا تے، وہ جو کچھ نیا پڑھتے مجھے بھی بتاتے۔ یقیناً کچھ باتیں میری سمجھ میں نہ آتیں لیکن میں ان سے سیکھتا۔ اسکے دو فائدے ہوتے۔ ایک تو بھائی کا اعادہ ہو جاتا اور دوسرا میرے اندر مزید معلومات حاصل کرنے کی خواہش جاگتی ۔‘‘
 فیاض نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ’’  بچپن سے ہی مجھے کتابوں اور ادبی رسائل کے مطالعہ کی عادت اور روزانہ اخبارات پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ سماجی مسائل، ملک کے حالات کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی بچپن سے میری خواہش رہی۔ گریجویشن کے بعد گھر والوں کے مشورہ سے یوپی ایس سی کی تیاری کیلئے  پونے آیا اور ایک سال  يونیک اکیڈمی جوائن کی۔  میرا خیال ہے کہ ایک بار اگر آپ ایک اچھی کوچنگ کلاس جوائن کرلیں تو بقیہ پڑھائی گھر بیٹھ کر بھی کر سکتے ہیں۔ اور چار سال تو میں نے پونے میں رہ کر سیلف اسٹڈی کی۔ پونے میں رہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں سول سروسیز کی تیاری کیلئے بہت سے اسٹڈی سینٹر اور لائبریریاں ہیں جہاں بیٹھ کر پڑھائی کی جاسکتی ہے۔‘‘
 وہ کہتے ہیں کہ ’’ہر علاقے میں لائبریری کی بہت ضرورت ہے،  ہر تعلقہ میں ایک اسٹڈی روم یا لائبریری یا کمیونٹی سینٹر ہونا چاہئے تاکہ قوم کے بچے وہاں پڑھائی کر سکیں۔  ہم ایسے کمیونٹی سینٹرز  سے سرکاری ملازمتوں کیلئے رہنمائی پروگرام، کریئر گائیڈنس کے پروگرام، پروفیشنلز کے ذریعے بچوں کی باقاعدہ تربیتی تقریبات اور عوام تک حکومتی اسکیم کی تفصیل پہنچانے کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ کریئر کونسلرز کے ذریعے طلبہ کی کاؤنسلنگ اور گائیڈنس کا کام بھی ہوسکتا ہے اور  اہلیتی امتحانات کی تیاری بھی کروائی جاسکتی ہے۔ ماضی  میں ہماری مساجد اور عبادت گاہیں ہمارے کمیونٹی سینٹر تھے اب وہ صرف عبادت گاہ بن کر رہ گئے ہیں جہاں ہم صرف دس منٹ کیلئے نماز ادا کرنے   جاتے ہیں اور پھر تالا لگا دیا جاتا  ہے۔ میرا سوال ہے کہ کیا ہم وہاں تعلیمی و دیگر سماجی امور کی انجام دہی نہیں کر سکتے؟ اب اس ضمن میں سوچنے اور عملی اقدامات کا وقت آگیا ہے۔‘‘
 بقول فیاض شیخ ’’ کئی ملی ادارے سول سروسیز کی رہنمائی و تیاری کرواتے ہیں۔  وہاں اچھی تربیت ہوتی ہے۔انفراسٹرکچر بھی اچھا ہے لیکن میں نے وہاں اپلائی نہیں کیا۔ اللہ کا شکر ہے  ہم معاشی طور پر بہتر ہیں،  اس لئے میں نے سوچا کہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند طلبہ بھی ہوں گے جو مجھ سے زیادہ حقدار ہیں، میں تو پرائیویٹ کوچنگ جوائن کرلوں گا، لیکن دوسروں کا کیا۔ انجینئرنگ کی پڑھائی کے دوران بھی میں نے مائناریٹی اسکالرشپ کیلئے یہی سوچ کر اپلائی نہیں کیا تھا کہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند تک یہ پہنچ جائے تو بہتر ہے۔‘‘
 سول سروس اور اسٹیٹ سروس کے امتحان کی تیاری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں  فیاض  نے بتایا کہ  ’’پڑھائی کے دوران مجھے بھی کافی ذہنی دباؤ محسوس ہوا  لیکن میں نے اس کوخود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ اچھا خاصا وقت اور پیسہ خرچ کرنے کے بعد کامیابی کب حاصل ہوگی یہ سوال تو ذہن میں آتا ہی ہے۔ سول سروسیز کی کلاس جوائن کرنے کے بعد میں نے اپنے ذہن میں آنے والے ایسے خیالات کو جھٹک دیا، کبھی ’ڈے ڈریمنگ‘ میں نہیں رہا اسلئے خوف زدہ بھی نہیں تھا کہ کامیابی نہیں ملے گی تو کیا ہوگا؟ لیکن ہمیشہ خود کو جانچتا رہتا،  پلان  بی بھی ذہن میں رکھا۔ اسلئے چار سال میں متعدد امتحانات دیئے جیسے، بینکنگ، اسٹاف سلیکشن، آئی بی، سی اے پی ایف وغیرہ۔ ہر امتحان میں کامیابی بھی ملی اس کا یہ فائدہ ہوا کہ حوصلہ  بڑھا، خود کو جانچنے پرکھنے کا موقع ملا اور گھر کے افراد دوست احباب اور  رشتےداروں کی جانب سے حوصلہ افزائی  ہوئی ۔‘‘
 فیاض کا کہنا ہے کہ ’’ہماری قوم کو منفی رویہ سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ محنت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ مجھے کبھی نہیں لگا کہ کسی بھی قسم کا تعصب یا  ناانصافی میرے ساتھ ہوئی ہو۔ قابلیت اور صلاحیت اپنا لوہا منواتی ہے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں فیاض نے بتایا کہ ہم تینوں بھائیوں کا سرکاری ملازمتوں کے اعلیٰ عہدے پر پہنچنا اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے والدین نے ہماری تربیت میں بہت اہم رول انجام دیا۔  والد صاحب نے گھر میں نظم و ضبط کا ایک بہترین ماحول بناکر رکھا۔ انہوں نے اچھی سوچ، فکر، بہترین صلاحیتیں اور اعلیٰ اخلاقی اقدار ہمارے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی۔میں اللہ کا بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے میری محنتوںکا ہروقت صلہ دیا۔‘‘
 سول سروسیز امتحان کی تیاری کرنے والے طلباء کے نام پیغام میں فیاض نے کہنا ہے کہ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں سخت محنت درکار ہے، مستقل مزاجی کیساتھ لگاتار محنت ان امتحانات میں کامیابی کی ضامن ہے۔ طلبہ کو یادرکھنا چاہئے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں  ہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے وقت یہ ممکن نہیں کہ چار دن پڑھائی اور تین دن آرام ہو  بلکہ ساتوں دن منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ پڑھائی کی ضرورت ہے ۔ گہرائی سے مطالعہ کرنا حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھنا ، معروف و مستند رائٹرز کے آرٹیکل پڑھنا، ان کا تجزیہ کرنا یہ سارے مشاغل سول سروسیز کی کامیابی کی سیڑھی ہیں۔‘‘
 جاب پروفائل اور ذمہ داریوں کے حوالے سے استفسار پر انہوں نے کہا کہ’’ میرا انتخاب بطور سیکشن آفیسر گروپ بی کے لئے ہوا ہے۔منترالیہ میں الگ الگ منسٹری کو مختلف محکموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔  مَیں بطور سیکشن آفیسر منسٹری کے ذریعے جاری کاموں کی نگرانی اور انہیںبحسن خوبی  انجام دینے کی ذمہ داری نبھاؤں گا،اِن شاء اللہ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK