ناکامی زندگی کا ایک ضروری جز ہے

Updated: October 13, 2021, 1:47 PM IST | Shaikh SaeedahUnsari | Mumbai

بچے کی ناکامی کو گلے لگائیں،جیسے اپنے بچے کو چوٹ لگنے پر آپ گلے لگاتے اور اسے دلاسہ دیتے ہیں۔ کسی چیز میں ناکامی بھی چوٹ کی طرح ہوتی ہے، اس پر مرہم رکھیں۔ ڈانٹ پھٹکار کے بجائے اسے پیار دیں۔ ناکام ہونا کوئی گناہ یا جرم نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مزید محنت اور کوشش درکار ہے

PictureLet children know that failure teaches us to overcome our shortcomings.Picture:INN
بچوں کو بتائیں کہ ناکامی، ہمیں خامیوں پر قابو پانا سکھاتی ہے۔ تصویر: آئی این این

کہتے ہیں زندگی نشیب و فراز کا دوسرا نام ہے۔ خوشی اور غم کا سنگم ہے۔ آنسو اور مسکان کا ملاپ ہے دھوپ اور چھاؤں ہے۔ روشنی اور اندھیرا ہے صحت اور بیماری ہے۔ کامیابی اور ناکامی کا گلدستہ ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے سورۂ الشرح کی ایک آیت میں فرمایا ہے: (ترجمہ) بلاشبہ ہر تنگی کیساتھ آسانی ہے۔
 اسی لئے تو جب تک غم نہ ہوں تو خوشی کی اہمیت نہیں ہوتی۔ جب تک آنسو نہ ہوں مسکان کی قدر نہیں ہوتی۔ جب تک دھوپ نہ ہوں چھاؤں کی ٹھنڈک کا احساس کس کو ہوتا ہے؟ جب تک ناکامی نہ ہو کامیابی کا حسن دوبالا کیسے ہوگا؟ کہنے کا مطلب یہی ہے کہ ہر چیز کا تضاد ہی اُس کی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے۔
 بقول ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ’’کامیابی کا لطف اٹھانے کے لئے انسان کو ناکامی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
 کہتے ہیں ناکامی، کامیابی کا پہلا زینہ ہے اور زندگی کا ایک ضروری جز ہے۔ ناکامی ایک آئینہ کی طرح ہمارے خد و خال میں پائے جانے والی یا ہماری کارکردگی کی کمی و بیشی کی نشان دہی کرتی ہے۔ یہ ہمیں کام کرنے سے نہیں روکتی بلکہ صحیح سمت میں رہنمائی کرتی ہے۔ خامیوں پر قابو پانا سکھاتی ہے۔ زندگی کے بہترین رہنمائے اصول صبر و تحمل اور قوت برداشت سے حالات کو نمٹنے کا سبق دیتی ہے۔
 ابھی کی جو نئی نسل ہے وہ ناکامی کو سنبھالنے اور برداشت کرنے کی بالکل اہل نہیں ہے۔ وہ ہر حال میں ہر قیمت پر کامیابی چاہتی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے تنازع پر معمولی معمولی ناکامیوں پر اور تھوڑے کم نمبرات آنے پر خودکشی تک کر لیتی ہے کیونکہ ان میں صبر و تحمل اور قوتِ برداشت کا فقدان ہوتا جا رہا ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ تو جواب ہے صرف اور صرف والدین پر ہے کیونکہ بچوں کو اس قابل ہی نہیں بنایا وہ زندگی میں ناکامی کی اہمیت کو سمجھیں۔ وہ کس چیز کا نام ہے اور اگر یہ سوال کیا جائے کسی نے بچوں کی ناکامی کے بارے میں سوچا ہے یا انہیں اس کی افادیت سمجھائی ہے تو جواب صرف اور صرف نفی ہی ہوگا۔
 بچوں کے تئیں خوب سے خوب تر کی توقعات قائم کر لینا صرف اور صرف کامیابی کے رتھ پر سوار کروانا اور صرف کامیابی کا تصور دلوانا والدین اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ جبکہ اس کے دوسرا پہلو کو فراموش کر دینا ایک المیہ ہے۔
 ہمت و حوصلے کے فقدان کی وجہ سے والدین ناکامی کی وجوہات جاننے کی سعی نہیں کرتے، بچوں کو یہ نہیں بتاتے کہ ناکامی اور کامیابی زندگی کا حصہ ہے۔ بچے کی ناکامی کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں سے ایک آپ کا رویہ یا مصروفیت بھی ہوسکتی ہے، لیکن پھر بھی سارا دبائو بچے پر ڈال دیا جاتاہے۔ آپ یہ جاننے کی کوشش کریںکہ بچہ کسی مضمون میں کمزور کیوں ہے، کہیں گھر کے خراب حالات، والدین کے لڑائی جھگڑے، خراب طرزِ زندگی، بچے کی دوستیاں وغیرہ تو اس کی ناکامی کا سبب نہیں بن رہیں۔ بچے کی ناکامی کو گلے لگائیں،جیسے اپنے بچے کو چوٹ لگنے پر آپ گلے لگاتے اور اسے دلاسہ دیتے ہیں۔ کسی چیز میں ناکامی بھی چوٹ کی طرح ہوتی ہے، اس پر مرہم رکھیں۔ ڈانٹ پھٹکار کے بجائے اسے پیار دیں۔ ناکام ہونا کوئی گناہ یا جرم نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مزید محنت اور کوشش درکار ہے۔ کامیابی کارکردگی کو فل اسٹاپ لگا دیتی ہے جبکہ ناکامی فل اسٹاپ کے حدود کو توڑ کر جدوجہد اور کوشش کو فروغ دیتی ہے۔
 مشہور سائنسداں ایڈسن نے ایک ہزار سے زیادہ بار ناکام ہو کر بجلی کا بلب بنانے میں کامیاب ہوئے تو جب ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا: ایک ہزار بار آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد آپ کامیاب ہوئے تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
 تو ایڈسن نے جواب دیا: مَیں ناکام نہیں ہوا بلکہ مَیں نے ایک ہزار ایسے طریقے سیکھے ہیں جن سے بجلی کا بلب نہیں بنتا ہے۔
 تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ناکامی اپنے اندر ایک پیغام چھپائے ہوتی ہے۔ ایک دانشمند انسان ہر ناکامی کو کسی نہ کسی طرح اپنی منزل حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
ز والدین کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے کہ وہ ناکامی کو زندگی کا ایک ضرور جز سمجھیں۔
ز ناکامی پر بچوں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں۔
ز حل کی طرف توجہ مرکوز کروائیں تاکہ اصلاح کی طرف قدم بڑھے۔
ز اپنی ناکامیوں اور جدوجہد کے بارے میں بتائیں تاکہ حوصلہ افزائی ہو۔
ز بڑی شخصیات کی جدوجہد اور ناکامیوں کے بارے میں بتائیں۔ یہ ذہن نشین کروائیں کہ ناکامی کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔
بقول اس شعر کے؎
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK