کھانے کے بعد خاص طور پر کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا کی وجہ سے بلڈ شوگر کی سطح اکثر بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ یہ عمل نارمل ہے۔ لیکن گلوکوز کی سطح میں بار بار اضافہ کا جسم پر منفی اثر پڑتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2025, 1:35 PM IST | Hafsah Thim | Mumbai
کھانے کے بعد خاص طور پر کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا کی وجہ سے بلڈ شوگر کی سطح اکثر بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ یہ عمل نارمل ہے۔ لیکن گلوکوز کی سطح میں بار بار اضافہ کا جسم پر منفی اثر پڑتا ہے۔
کھانے کے بعد خاص طور پر کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا کی وجہ سے بلڈ شوگر کی سطح اکثر بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ یہ عمل نارمل ہے۔ لیکن گلوکوز کی سطح میں بار بار اضافہ کا جسم پر منفی اثر پڑتا ہے۔ جس سے تھکاوٹ میں اضافہ ہوتا ہے اور میٹابولک نظام متاثر ہوتا ہے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، آپ چند معمولی تبدیلیوں سے گلوکوز لیول کو متعدل رکھنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ آج اس کالم میں گلوکوز لیول کو متعدل رکھنے کے ۳؍ طریقے بتائے جا رہے ہیں:
(۱)کھانے کے بعد ۱۰؍ منٹ چہل قدمی کریں
کھانے کے فوراً بعد لیٹنے یا بیٹھنے کے بجائے چہل قدمی کریں۔ ریسرچ کے مطابق، کھانے کے بعد ۱۰؍ منٹ چلنے سے خون میں گلوکوز کو جذب ہونے میں مدد ملتی ہے جس سے آپ توانا محسوس کرتی ہیں۔ اس دوران تیز تیز چلنے سے گریز کریں، آہستہ قدموں سے اپنے گھر کا چکر لگائیں یا دفتر میں ہیں تو اپنی جگہ سے اُٹھ کر کچھ دوری تک جائیں۔ ہر کھانے (ناشتہ، ظہرانہ اور عشائیہ) کے بعد چہل قدمی کریں۔ اس سے گلوکوز لیول ہمیشہ معتدل رہ سکتا ہے۔
(۲)اجوائن اور زیرہ کا پانی
کھانا ہضم کرنے کے لئے صدیوں سے اجوائن اور زیرہ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں میٹابولک کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ کھانے کے بعد اجوائن اور زیرہ کا نیم گرم پانی پئیں۔ اس سے ہاضمہ درست رہتا ہے، پیٹ میں گیس نہیں بنتی اور یہ کاربوہائیڈریٹس کو جذب کرتے ہوئے انسولین کو معتدل رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس تیار ہوتے ہیں جن سے معدے اور میٹابولک کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ایک کپ پانی میں آدھا چھوٹا چمچہ اجوائن اور آدھا چھوٹا چمچہ زیرہ اُبالیں۔ پھر چھان کر نیم گرم ہونے پر کھانے کے بعد پی لیں۔
(۳)سانس لینے اور چھوڑنے کی مشقیں
اگر آپ ذہنی دباؤ میں ہیں تو کھانے کے بعد گلوکوز کی سطح بڑھ سکتی ہے جس سے کارٹیسول اور ایڈرینالین ہارمون میں اضافہ ہوسکتا ہے جو انسولین کو متاثر کرتے ہیں۔ اسلئے کھانے کے بعد سانس لینے اور چھوڑنے کی مشقیں کریں۔ اس سے ذہن کو سکون ملتا ہے اور گلوکوز متوازن رہتا ہے۔ اس کیلئے ۴-۷-۸؍ کا اصول اپنائیں، یعنی ۴؍ کی گنتی تک سانس اندر لیں جسے ۷؍ کی گنتی تک روکے رکھیں اور ۸؍ کی گنتی تک باہر خارج کریں۔ معمولی باڈی اسٹریچنگ بھی کارگر ثابت ہوسکتی ہے، جیسے بیٹھ کر جسم کو آگے کی جانب جھکائیں یا کھڑے ہو کر باڈی کو دائیں بائیں جھکائیں۔ اس سے کھانے کے بعد سستی بھی طاری نہیں ہوتی۔
خلاصہ: مذکورہ بالا تینوں طریقے کھانے کے بعد گلوکوز کو معتدل رکھتے ہیں، ہاضمہ بہتر کرتے ہیں اور مجموعی صحت کیلئے بھی فائدہ مند ہیں۔