ایک عورت کو زندگی بھر دو گھروں کے درمیان کھڑا رکھنا اور دونوں جگہ اسے یہ احساس دلانا کہ ’’تم یہاں کی مکمل نہیں ہو‘‘ درحقیقت ایک خاموش سماجی ناانصافی ہے۔ گھر وہ ہے جہاں واپسی ممکن ہو اس کا مطلب، اب ہمیں گھر کی تعریف بدلنی چاہئے۔ گھر صرف وہ مکان نہیں جس کے کاغذات پر کسی کا نام لکھا ہو۔ گھر وہ جگہ بھی ہے جہاں انسان کی عزت محفوظ ہو۔
بیٹی کو رخصت کرتے وقت یہ یقین دلائیں کہ میکہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، اس کے ساتھ ہی مالی تحفظ سے بہتر مستقبل کی امید پیدا کریں۔ تصویر: آئی این این
عجیب بات ہے کہ ایک لڑکی جب دنیا میں آنکھ کھولتی ہے تو سب سے پہلے جس گھر کی چھت کو دیکھتی ہے، جس آنگن میں چلنا سیکھتی ہے، جس ماں کی گود میں سوتی اور جس باپ کی انگلی پکڑ کر دنیا پہچانتی ہے، آہستہ آہستہ اسی گھر کے بارے میں اسے سمجھا دیا جاتا ہے کہ یہ تمہارا اصل گھر نہیں ہے، ایک دن تمہیں اپنے گھر جانا ہے۔ پھر ایک دن وہ واقعی چلی جاتی ہے۔ ایک چوکھٹ سے دوسری چوکھٹ تک۔ ایک نام سے دوسرے نام تک۔ ایک خاندان سے دوسرے خاندان تک۔ اپنی گڑیا، اپنی کتابیں، اپنے بچپن کی دیواریں، اپنے کمرے کی کھڑکی اور ماں کی آواز پیچھے چھوڑ کر وہ ایک نئی دنیا میں داخل ہوتی ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ اب یہی تمہارا گھر ہے۔ وہ کوشش کرتی ہے کہ اس نئے گھر کی دیواروں میں اپنی سانس شامل کر دے۔ اجنبی چہروں کو اپنا بنائے، نئی عادتوں کو قبول کرے، اپنی پسند کو تھوڑا سا پیچھے رکھے، اپنی خواہشوں کو رشتوں کی ضرورت کے مطابق ڈھالے اور پھر ایک دن اس گھر کے ہر کونے سے محبت کرنے لگے۔ لیکن زندگی کے کسی تلخ لمحے میں اگر اسے یہ سننا پڑ جائے، یہ تمہارا گھر نہیں، تم تو بیاہ کر آئی ہو۔ تو اس کے اندر برسوں سے آباد ایک دنیا لرز جاتی ہے۔ تب سوال پیدا ہوتا ہے اگر باپ کا گھر اس کا نہیں، اور شوہر کا گھر بھی اس کا نہیں، تو آخر بیٹی کا گھر کہاں ہے؟ یہ سوال صرف ایک عورت کا نہیں۔ یہ ہمارے معاشرہ کی سوچ، ہماری روایتوں، ہمارے خاندانی نظام اور ہمارے انصاف کے تصور کا سوال ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوعمر بچوں میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان لمحۂ فکریہ
بیٹی! گھر کی خوشی، مگر گھر کی مالک نہیں؟ ہماری زبانوں اور روایتوں میں بیٹی کے لئے محبت بھرے الفاظ بہت ہیں: وہ رحمت ہے، وہ گھر کی رونق ہے، وہ باپ کی لاڈلی ہے، وہ ماں کی سہیلی ہے.... لیکن محبت کے ان خوبصورت جملوں کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی چلتی رہی ہے، بیٹی کو اکثر گھر کا فرد تو سمجھا گیا، مگر گھر کے مستقبل اور تحفظ میں برابر کا شریک کم سمجھا گیا۔ اس کے لئے بہترین لباس خریدا گیا، شادی پر بڑی رقم خرچ کی گئی، زیور دیا گیا، فرنیچر دیا گیا، رسموں اور دعوتوں میں خاندان کی حیثیت کے مطابق خرچ کیا گیا لیکن بہت کم خاندانوں نے یہ سوچا کہ اس بیٹی کے مستقبل کی اپنی بنیاد کیا ہے؟ اگر زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہ رہی تو؟ اگر حالات بدل گئے تو؟ اگر رشتہ خوشگوار ثابت نہ ہوا تو؟ اگر شوہر کی آمدنی ختم ہوگئی تو؟ اگر بیٹی کو کبھی تنہا زندگی کا سامنا کرنا پڑا تو؟ محبت صرف رخصتی کے دن آنسو بہانے کا نام نہیں۔ محبت یہ بھی ہے کہ والدین اپنی بیٹی کو اس قابل بنائیں کہ زندگی کے کسی موڑ پر اسے بے بسی سے یہ نہ کہنا پڑے، میرے پاس جانے کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام نے بیٹی کو بے گھر نہیں کیا۔ یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام نے عورت کو نہ بے حیثیت بنایا، نہ بے اختیار اور نہ بے گھر۔ اسلامی تصورِ خاندان میں عورت ایک باعزت انسان ہے۔ اسے مہر کا حق دیا گیا، وراثت میں حصہ دیا گیا، اس کی ذاتی ملکیت کو تسلیم کیا گیا اور اس کے مال پر اس کی ملکیت کو برقرار رکھا گیا۔ مہر محض ایک رسمی رقم یا نکاح کے کاغذ پر لکھا جانے والا عدد نہیں، اس کے پیچھے عورت کے مالی حق اور عزت کا تصور موجود ہے۔ اسی طرح وراثت میں عورت کا حق کسی کی مہربانی نہیں بلکہ ایک مقرر حق ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مسکراہٹ: خواتین کے لئے ایک انمول تحفہ
گھر صرف چار دیواری نہیں، تحفظ کا نام ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر والد اپنی بیٹی کے نام ایک محل خریدے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار خاندان محدود آمدنی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کرائے کے مکان، مہنگی تعلیم، علاج، روزمرہ اخراجات اور معاشی عدم استحکام کے درمیان ہر خاندان کیلئے الگ مکان خریدنا ممکن نہیں۔ لیکن مسئلے کا حل صرف بڑا مکان نہیں۔ تحفظ کی منصوبہ بندی بھی ایک گھر کی بنیاد ہوسکتی ہے۔ اگر ایک خاندان شادی پر غیر ضروری رسموں اور نمائش پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے اس رقم کا کچھ حصہ بیٹی کی تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت، بچت یا کسی محفوظ سرمایہ کاری کیلئے مختص کرے تو یہ اس کے مستقبل کیلئے زیادہ پائیدار تحفہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جدید مراکش طرز کا لباس آؤٹنگ کیلئے پرفیکٹ
بیٹی ایک انسان ہے، اس کی شخصیت ہے، اس کے حقوق ہیں، اس کی یادیں ہیں، اس کی شناخت ہے اور سب سے بڑھ کر اس کی عزت اور تحفظ کا حق ہے۔ شادی کے بعد بھی بیٹی اپنے والدین کی بیٹی رہتی ہے۔ اس کا والدین کے گھر سے جذباتی اور انسانی تعلق ختم نہیں ہو جاتا، اسی طرح شوہر کے گھر میں بھی اسے محض ایک آنے والی فرد نہیں بلکہ عزت، محبت اور شراکت کے ساتھ خاندان کا حصہ سمجھا جانا چاہئے۔ شادی محبت کا رشتہ ہے مگر زندگی بسر کرنے کیلئے وسائل بھی ضروری ہیں جس کیلئے حکمت، ذمہ داری اور تحفظ بھی ضروری ہے۔ تب شاید ہماری بیٹیاں صرف ایک گھر سے دوسرے گھر رخصت نہیں ہوں گی بلکہ زندگی کے سفر میں زیادہ اعتماد اور تحفظ کے ساتھ قدم رکھیں گی اور شاید کسی دن کسی چھوٹے سے دروازے کی معمولی سی تختی پر یا کسی محفوظ مالی اثاثے کے کاغذ پر اس کا نام لکھا ہو۔ وہ نام صرف ملکیت کی علامت نہیں ہوگا وہ معاشرے کی ایک نئی سوچ کا اعلان ہوگا۔