اگر آپ چاہتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھیں اور کامیابی کے ساتھ مالی منفعت بھی حاصل کریں تو درج ذیل ۱۱؍عادتوں کو ضرور اپنائیے۔
EPAPER
Updated: December 13, 2019, 9:33 PM IST
|
MA Ahmed
اگر آپ چاہتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھیں اور کامیابی کے ساتھ مالی منفعت بھی حاصل کریں تو درج ذیل ۱۱؍عادتوں کو ضرور اپنائیے۔
ہر انسان کی چاہت ہوتی ہے کہ وہ ترقی کرے، دولت مند بنے، لیکن ہرکسی کی یہ تمنا حقیقت ہو جائےیہ بھی ممکن نہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس حوالے سے یہ تلخ حقیقت ہے کہ آپ کو اپنے ارد گرد جتنے غریب، بے روزگار اور ناکام افراد دکھائی دیتے ہیں، ان میں سے بیشتر قسمت کے مارے نہیں ہوتے بلکہ اپنی سوچ، عادات و اطوار اور مزاج کے سہارے اس جگہ پہنچتے ہیں۔ فرانسیسی شاعر اور ناول نگار وکٹر ہیوگو کا خیال ہے کہ’’سب اپنے اعمال کی پیداوار ہیں، یہی اعمال بناتے بھی ہیں اور بگاڑتے بھی ہیں۔‘‘ یعنی کہ کامیاب زندگی کا آغاز دراصل مثبت سوچ سے ہوتا ہے۔ آپ کی سوچ اظہار کا روپ لیتی ہے۔ الفاظ اعمال کی صورت لیتے ہیں۔ اعمال بتدریج عادات و اطوار کے قالب میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ عادات و اطوار سے کردار متشکل ہوتا ہے اور شخصیت کا سانچہ ترتیب پاتا ہے۔ اب اگر یہ شخصیت کامیاب افراد کے مثل ہو گی تو آپ ترقی و خوشحالی اور کامیابی و کامرانی کے زینے طے کرتے چلے جائیں گے ۔ امریکی مصنف نپولین ہِل نے ’’تھنک اینڈ گرو رِچ‘‘ نامی کتاب لکھی، جو سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب قرار پائی۔ اس کیلئے نپولین ہِل نے ۵۰۰؍ ایسے سیلف میڈ افراد کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جو غربت زدہ معاشرے سے اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ اس نے اپنی کتاب میں سیلف میڈ افراد کی خصوصیات جمع کیں تو معلوم ہوا کہ ان سب میں ’مثبت سوچ‘ مشترک ہے۔ چند برس قبل ایک اور محقق تھامس کورلے نے غریب سے امیر ہونیوالے ۱۷۷؍ افراد کی زندگی کا مطالعہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر انہیں کون سے ایسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ سونا بن جاتی ہے۔ کئی برس کی عرق ریزی کے بعد کورلے نے پایا کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان۱۱؍ عادات اہم ہوتی ہیں۔ ۔ دوسری عادت کا تعلق صحت سے ہے۔ کورلے کے مطابق تحقیق کے دوران اسے معلوم ہوا کہ ۷۶؍ فیصد کامیاب افراد ورزش ضرور کرتے ہیں۔ اس پر وہ خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ ۔ کامیاب افراد کی شخصیت میں تیسری اہم ترین عادت مطالعہ کی ہے۔ ہمارے ہاں تو تعلیم یافتہ افراد مطالعہ سے جان چھڑاتے ہیں اور نوجوان نسل تو بالکل بیزار دکھائی دیتی ہے مگر کورلے کے مطابق کامیابی کے حصول کیلئے مطالعہ کو حرزِ جاں بنانا از حد ضروری ہے۔ اس نے جتنے بھی کامیاب افراد کے معمولاتِ زندگی ملاحظہ کئے ان میں تفریحی ناول، رومانوی کہانیوں، شاعری یا فکشن کے بجائے ایسی کتابوں کی ورق گردانی کو جزو لازم کی حیثیت حاصل تھی جن سے کچھ سیکھنے کو ملے۔ ۔ کامیاب افراد کی چوتھی خصوصیت ہے مثبت سوچ۔ جو لوگ دوسروں کی کامیابی پر جلتے کڑھتے رہتے ہیں، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے برعکس کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جو مثبت اور تعمیری سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ مثلاً گوگل کے سی ای او سندرپچائی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ صبح جلدی اٹھتے ہیں، اخبار پڑھتے ہیں اور کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ نیز اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ساتھیوں کی بھی ترقی کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ ۔ پانچویں عادت ہے بھیڑ چال سے گریز۔ بالعموم لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ آج کل کس چیز کا رجحان ہے، لوگ کس طرف جا رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں اور پھر بغیر سوچے سمجھے اس طرف دوڑ لگا دی جاتی ہے۔مثلاً ہمارے ہاں ایک مرتبہ کمپیوٹر کی تعلیم شروع ہوئی تو دھڑا دھڑ کمپیوٹر ایجوکیشن کے مراکز کھلنے لگے اور داخلہ لینے والوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ لیکن کامیاب افراد اس بھیڑ چال سے متاثر نہیں ہوتے، وہ اپنی سمت خود متعین کرتے ہیں۔ ۔ چھٹی خوبی ہے اپنے مقاصد کا تعاقب۔ کامیاب افراد اپنا ہدف طے کرتے ہیں اور پھر پوری تندہی کے ساتھ اس کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔ مشکلات سے گھبرا کر ہمت نہیں ہارتے بلکہ ثابت قدمی سے ڈٹے رہتے ہیں۔ ۔ ساتویں عادت، جو تمام کامیاب افراد میں پائی جاتی ہے، آمدنی کے ایک سے زائد ذرائع رکھنا ہے۔ کامیاب افراد کبھی اپنے تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھتے یعنی وہ محض ایک ہی آپشن پر نہیں سوچتے، صرف ایک ہی ذریعہ آمدنی پر انحصار نہیں کرتے بلکہ ان کے پاس ایک سے زائد آپشنز ہوتے ہیں۔ ۔ آٹھویں بات، جو کامیاب افراد کو ممتاز و منفرد کرتی ہے، لوگوں سے رائے لینا اور مشورہ کرنا ہے۔ بیشتر ناکام افراد خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور کسی سے مشاورت کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ اگر مشورہ کر بھی لیں تو اسے خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کے برعکس کامیاب چھوٹا ہو یا بڑا، اس سے صلاح لینے میں بھی تامل نہیں کرتے۔ ۔ کامیاب افرادکی نویں مشترکہ عادت ہے اچھے آداب۔ آپ نے یہ جملہ ضرور پڑھا یا سنا ہو گا’’باادب بانصیب، بے ادب بدنصیب‘‘اس سادہ سے جملے میں کامیاب زندگی کا فلسفہ موجود ہے۔ ۔ کامیاب افراد کی دسویں خاصیت یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لئے ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں آگے بڑھنے والے افراد کی ٹانگیں کھینچنا معمول کی بات ہے لیکن دوسروں کی ٹانگیں کھینچے والے اس تگ و دو میں خود بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی کو آگے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جائے تو انسان خود بھی ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔ ۔ کامیاب افراد کی گیارہویں عادت ہے اچھے لوگوں کی صحبت۔ کچھ لوگ مِثل غذا ہوتے ہیں، جن کی آشنائی لازم ہے بعض افراد مِثل دوا ہوتے ہیں جو تریاق کا کام کرتے ہیں اور ان کی حاجت رہتی ہے مگر چند دوست مثلِ وبا ہوتے ہیں، جن سے بچنا لازم ہے۔ آپ نے ہمہ یاراں دوزخ اور ہمہ یاراں جنت والا محاورہ تو سنا ہو گا۔ اگر آپ شکست خوردہ، ہارے ہوئے، مایوس، ناامید اور منفی سوچ کے حامل لوگوں میں بیٹھتے ہیں تو انہی کی طرح ناکام ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس آپ کا اٹھنا بیٹھنا مثبت اور تعمیری سوچ کے حامل، مہم جو، پُرعزم افراد میں ہے تو بہت جلد آپ بھی ان کی صف میں شمار ہونے لگیں گے۔ لہٰذا ان ۱۱؍ عادتوں کو اپنائیے اور زندگی میں آگے بڑھئے۔
۔ سب سے پہلی عادت کا تعلق جلدی اٹھنے سے ہے۔ جلدی اٹھنے سے مُراد سحر خیزی نہیں بلکہ آپ کو کہیں کسی کام پر جانا ہو تو مطلوبہ وقت سے ۳؍ گھنٹے پہلے بیدار ہوں تاکہ متوقع رکاوٹیں حائل نہ ہو سکیں۔ عین ممکن ہے آپ نہانے کے لئے واش روم جائیں تو پانی نہ ہو، کپڑے استری کرنا ہوں اور بجلی نہ ہو، راستے میں کسی وجہ سے ٹریفک جام ہو یا پھر گاڑی خراب ہو جائے، ان تمام الجھنوں سے نمٹنے کے لئے ۳؍ گھنٹے پہلے اٹھیں تاکہ کام پر بروقت پہنچ سکیں۔