نوزائیدہ رات بھر پُرسکون نیند کیسے سوئے؟

Updated: January 13, 2021, 12:38 PM IST | Rupa Singh

اکثر دیکھا گیا ہے کہ دن بھر کی تھکان کے بعد جب ماں رات کو آرام کرنے جاتی ہے تب اپنے بچے کی معمولی رونے کی آواز بھی سن کر وہ فوراً جاگ جاتی ہے۔ ایسے میں اسے اپنے آرام کیلئے وقت نہیں مل پاتا۔ اس مضمون میں جانیں کہ کس طرح آپ کا بچہ رات کو ایک اچھی اور پُرسکون نیند لے سکتا ہے

New Born Baby - PIC : INN
نو زائید بچے ۔ تصویر : آئی این این

ماں بنتے ہی ایک خاتون کے اوپر کئی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔ بچے کو کھلانا، پلانا، نہلانا، سلانے وغیرہ جیسے کئی کام اس کے معمولات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک خاتون کا پورا دن کیسے گزر جاتا ہے اسے پتہ ہی نہیں چلتا۔ حالانکہ یہ سب دیکھنے میں جتنا آسان لگتا ہے حقیقت میں اتنا ہوتا نہیں ہے۔ بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی پرورش میں ایک خاتون کو کئی ساری مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 اکثر دیکھا گیا ہے کہ دن بھر کی تھکان کے بعد جب ماں رات کو آرام کرنے جاتی ہے تب اپنے بچے کی معمولی رونے کی آواز بھی سن کر وہ فوراً جاگ جاتی ہے۔ ایسے میں اسے اپنے آرام کے لئے وقت نہیں مل پاتا۔ حالانکہ وہ اس بات کی کبھی شکایت نہیں کرتی کیونکہ ایک ماں کے لئے اس کا بچہ اس کے دل کا ٹکڑا ہوتا ہے۔
 یہ سلسلہ ہر رات چلتا رہتا ہے جب تک کہ بچہ ۲؍ سے ۳؍ سال کا نہ ہو جائے۔ آج اس مضمون میں بچوں کی نیند کے بارے میں بات کریں گے، ساتھ ہی آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح آپ کا بچہ رات کو ایک اچھی اور پُرسکون نیند لے سکتا ہے جس سے ماں کو بھی اپنے آرام کے لئے بھی مناسب وقت مل جائے۔ تو آیئے جانتے ہیں کیسے آپ اپنے بچے اور خود کو اچھی نیند دے سکتی ہیں:
پُرسکون ماحول
 سب سے پہلے اس بات کا دھیان رکھیں کہ بچوں کو سلانے کے لئے بالکل پُرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ رات کو جب بھی آپ کا ننھا جاگ جائے تو اسے دوبارہ سلانے میں آپ کو پریشانی نہ ہو۔ دودھ پینے کے بعد وہ واپس آرام سے سو جائے۔
 بچے کو دوبارہ سلاتے وقت اس کے سونے کی جگہ نہ تبدیل کریں، ساتھ ہی بار بار بتی جلانے بجھانے سے بھی اس کی نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ ایسی کئی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دھیان میں رکھ کر آپ اپنے بچے کو مناسب نیند لینے میں مدد کرسکتی ہیں۔
بچوں کو نیند 
سے نہ جگائیں
 رات کو بچے کو نیند سے جگا کر دودھ نہ پلائیں ایسے میں اس کی نیند خراب ہو سکتی ہے اور اسے مناسب نیند بھی نہیں مل پاتی۔ بہتر ہوگا آپ خود اس کے جاگنے کا انتظار کریں۔
جلدی سلانے کی عادت
 شام کو ۶؍ بجے کے بعد بچے کو زیادہ سے زیادہ آرام کرنے دیں۔ دیر رات تک جاگ کر اسے کھلانے کی عادت آپ پر ہی بھاری پڑ سکتی ہے۔ بچے کو اس بات کا احسا دلائیں کہ رات کا وقت کھیلنے کا نہیں بلکہ سونے اور آرام کرنے کا ہوتا ہے۔ وقت پر سونے اور مناسب نیند لینے سے اس کی صحت بھی اچھی رہے گی۔
ڈائپر ضرور جانچ لیں
 رات کو سوتے وقت بچے کا ڈائپر بار بار بدلنے سے بھی اس کی نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ آج کل بازاروں میں ایسے ڈائپر دستیاب ہیں جو خاص طور پر بچے کو رات میں گیلا پن کا احساس نہیں ہونے دیتے اور وہ پُرسکون سوتے ہیں۔ اگر آپ اپنے بچے کے لئے ایسے ہی ڈائپر کا استعمال کر رہی ہیں تو آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
 آپ دن میں کوئی سا بھی ڈائپر استعمال کرسکتی ہیں لیکن رات کو اچھے ڈائپر کا ہی استعمال کریں تاکہ آپ اور آپ کا بچہ دونوں بہتر نیند لے سکیں۔
ڈکار ضرور دلائیں
 دودھ پلانے کے بعد بچے کو ڈکار ضرور دلوائیں۔ کئی بار بچے کے پیٹ میں جمع گیس بے اطمینانی کا سبب بن جاتی ہے۔ کبھی کبھی بچے کو فوراً ڈکار آجاتی ہے اور کبھی کبھی اس میں تھوڑا وقت بھی لگ جاتا ہے۔ بہتر ہوگا آپ گھبرائیں نہیں۔ ڈکار دلانے کے لئے بچے کو اپنے کندھے پر پیٹ کے بل لیٹا لیں اور ہلکے ہاتھوں سے دھیرے دھیرے اس کی پیٹھ کو سہلائیں۔
 اگر پھر بھی بچے کو ڈکار نہ آئے تو واپس اسے اس کی جگہ پر سلا دیں۔ شاید آپ کے بچے کو گیس کی پریشانی نہیں ہو رہی ہے اور وہ آرام سے سونے چاہتا ہے۔
ماں کا لمس
 بچے کے ساتھ ساتھ ماں کو بھی اچھی نیند کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی صحت پر بھی کوئی برا اثر نہ پڑے۔ دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد اور بچے کو مسلسل دودھ پلانے سے کئی مرتبہ ماں کو بھی کمزوری ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کا بچہ جلدی نہیں سوتا تو اپنا ہاتھ ہلکے سے اس پر رکھ دیں۔ ایسے میں کئی مرتبہ ماں کے احساس ہی سے بچے کو نیند آجاتی ہے۔ ساتھ ہی اپنی ماں کے لمس سے بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے اور اسے راحت ملتی ہے۔
 ویسے تو بچوں کے لئے ان کی ماں کی موجودگی اور لمس ہی نیند آنے کے لئے کافی ہوتا ہے لیکن پھر بھی اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر غور کریں گی تو آپ اپنے بچے کو نہیں بلکہ خود کی بھی بھرپور اور اچھی نیند لینے میں مدد کرسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK