اپنے کام کو بحسن و خوبی کس طرح انجام دیں

Updated: March 24, 2021, 12:57 PM IST | Maryam Shaikh

خواتین بیک وقت کئی کام انجام دیتی ہیں۔ لیکن دن بھر مصروف رہنے کے باوجود شام کو کوئی نہ کوئی کام ادھورا رہ جانے کی پریشانی میں مبتلا رہتی ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا آج خواتین میں بیک وقت کئی کام انجام دینے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے؟یا وہ اب بیک وقت صحیح طریقے سے کئی کام نہیں کرپاتیں؟

Working Women - Pic : INN
ورکنگ خواتین ۔ تصویر : آئی این این

بیک وقت کئی کام انجام دینے والی خاتون ان دنوں کاموں کے تعلق سے کافی الجھی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کی وجہ خود بلائی گئی مشکلات بھی ہیں۔ چند باتوں کا خیال رکھتے ہوئے اس صورتحال سے نمٹا جاسکتا ہے۔
 خواتین بیک وقت کئی کام انجام دینے میں ماہر ہوتی ہیں۔ کام بھی سارے کے سارے اہم ہوتے ہیں، جیسے باورچی خانے کے کام، دیگر امور خانہ داری، گھر کی آرائش و زیبائش، بچوں کی پڑھائی، انہیں تخلیقی سرگرمیوں سے جوڑنا، گھر کے سبھی افراد کی ضرورت کا خیال رکھنا۔ خواتین یہ کام ساتھ ساتھ کرتی رہتی ہیں۔ لیکن اب دن بھر مصروف رہنے کے باوجود شام کو کوئی نہ کوئی کام ادھورا رہ جانے کی پریشانی میں مبتلا رہتی ہیں۔  ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا آج خواتین میں بیک وقت کئی کام انجام دینے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے؟یا وہ اب بیک وقت صحیح طریقے سے کئی کام نہیں کرپاتیں؟
غیر ضروری رکاوٹ
 ماہرین کہتے ہیں کہ برسوں کا اثاثہ یوں ہی ضائع نہیں ہوتا۔ خواتین اب بھی ملٹی ٹاسکنگ کی ماہر ہیں۔ آج کا بنیادی مسئلہ غیرضروری رکاوٹ ہے۔ جدید آلات نے جہاں خواتین کا کام آسان بنایا ہے، وہیں موبائل فون جیسے چند برقی آلات نے ان کے وقت کا بڑا حصہ خاموشی سے چھین لیا ہے اور ساتھ ہی انہیں ذہنی یکسوئی سے محروم کر دیا ہے۔
توجہ مرکوز کریں
 ہم جن چیزوں میں بری طرح الجھ چکے ہیں ان سے دوری اختیار کرنا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں۔ بس آپ کو چند باتوں کا دھیان رکھنا ہوگا۔
کام پر دھیان دیں
 ہم اپنی سہولت کے لئے جدید آلات کا استعمال کرنے کے بجائے ان کا بے جا استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اپنے ہر کام کی تشہیر اور واہ واہی بٹورنے کی ہماری خواہش کو سوشل میڈیا فلیٹ فارم نے ہوا دی ہے۔ مختلف سرگرمیوں کا لطف اٹھانے کے بجائے ہم دوسروں پر اپنی اچھی شبیہ چھوڑنے کیلئے زیادہ دھیان دے رہے ہیں۔ اس لئے تکنالوجی کا استعمال ذرا سمجھداری سے کریں۔ اہم کام کا دھیان رکھیں۔ اگر کال کرنے کے لئے فون اٹھایا ہے چیٹنگ یا میسیجنگ میں نہ لگ جائیں۔
آپ جہاں ہیں وہیں رہیں
 ’لوکنگ آؤٹ فار نمبر ون‘‘ نامی کتاب کے مصنف رابرٹ رینگر کہتے ہیں ’’جب آپ گھر میں رہیں تو گھریلو کاموں پر توجہ دیں اور جب دفتر میں ہوں تو وہاں ذاتی کام کے بارے میں سوچنے کے بجائے اپنی دفتری ذمہ داریوں پر دھیان دیں۔ ہاتھ کے کام کو ختم کرنے کے بعد ہی کچھ اور سوچیں۔ اس سے توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی اور وقت کی بھی بچت ہوگی۔ چاہے گھر ہو یا دفتر، کام کے درمیان سوشل میڈیا اسکرالنگ اور بلا وجہ سرفنگ سے پوری طرح دوری اختیار کریں۔
سوچ کو محدود رکھیں
 بار بار موبائل فون کی آواز یا کمپیوٹر پر پیغامات دھیان ہٹاتے ہیں۔ دوبارہ کام پر توجہ دینے میں وقت لگ سکتا ہے۔ لہٰذا نوٹیفکیشن بند یا محدود کر دیں۔ گھر ہو یا دفتر، دن میں ۲؍ یا ۳؍ بار ہی موبائل فون دیکھیں اور ضروری ہونے پر میسیج/ ای میل کے جواب دیں۔ کام کاج کے درمیان سہیلیوں یا رشتہ داروں کو فون لگانے سے پرہیز کریں۔ دفتر کی گپ شپ سے بھی دوری اختیار کریں اور بات چیت میں شامل ہوں تو لنچ یا خالی وقت میں۔
کام کی باتیں
’’ٹو منٹ رول‘‘: اگر آپ کے ہاتھ میں اچانک کوئی ایسا کام آجاتا ہے، جسے کرنے میں صرف ۲؍ منٹ لگیں گے اور یہ ضروری بھی ہے تو اسے بعد کے لئے نہ ٹالیں، جلدی جلدی کر دیں۔ اس سے کاموں کا بوجھ بھی کم ہوگا اور دماغی بوجھ بھی۔
جگہ کو ترتیب دیں: باورچی خانہ ہو یا دفتر، اگر کام کرنے کی جگہ بے ترتیب ہے تو کام میں زیادہ وقت لگتا ہے اور معیار بھی کم ہوگا۔ لہٰذا اپنے گھریلو اور دفتری جگہ کو صاف اور ترتیب سے رکھیں۔
نئے طریقے: جلدی جلدی کام انجام دینے کے لئے جدید آلات کی مدد لیں۔ نئے طریقے سیکھیں۔ دوسروں سے معلوم کریں اور اپنے طریقے بھی دوسروں کو بتائیں۔
وقت پر کام انجام دیں: گھریلو یا دفتر، جو کام ہاتھ میں لیں اسے وقت پر پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اکثر سستی کے سبب خواتین کام کو ٹالتی رہتی ہیں۔ ایسا ہرگز نہ کریں۔ اگر کام کرتے وقت تھکان محسوس ہورہی ہے تو کچھ دیر کے لئے وقفہ لیں اور ۵؍ سے ۱۰؍ منٹ آنکھ بند کرکے آرام کریں۔ اس سے آپ کو بہتر محسوس ہوگا۔
کمی وبیشی: یقیناً کوئی بھی کام صد فیصد انجام دینا ممکن نہیں ہے۔ کہیں نہ کہیں کمی و بیشی رہ ہی جاتی ہے۔ اس جانب توجہ نہ دیں۔ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے کام کو بحسن و خوبی انجام دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK