آن لائن پڑھائی کو کس طرح آسان بنایا جائے؟

Updated: June 18, 2020, 12:51 PM IST | Dr Sharmeen Ansari

کلاس میں بیٹھ کر پڑھنا اور آن لائن پڑھائی کرنا، دونوں میں بہت فرق ہے۔ آج کے زمانے میں دونوں میں سے صرف ایک میڈیم کی طرفداری کرنا کسی بھی طرح عقلمندی نہیں ہے۔ ایک طریقہ کی کمی کو اصل میں دوسرا طریقہ پورا کر دیتا ہے۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو آن لائن لرننگ کے فوائد سے انکار نہیں ہے

Online Education - PIC : INN
آن لائن تعلیم ۔ تصویر : آئی این این

لاک ڈاؤن کے دوران ہندوستان میں آن لائن ایجوکیشن کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ سبھی اسکول کالجوں میں آن لائن پڑھائی ہو رہی ہے، ایسے میں والدین کو فکر ہوتی ہے کہ چھوٹے بچوں کو آن لائن پڑھائی کیسے کروائیں؟ یقیناً آن لائن پڑھائی آسان نہیں ہے۔ کلاس میں بیٹھ کر پڑھنا اور آن لائن پڑھائی کرنا، دونوں میں بہت فرق ہے۔ آج کے زمانے میں دونوں میں سے صرف ایک میڈیم کی طرفداری کرنا کسی بھی طرح عقلمندی نہیں ہے۔ ایک طریقہ کی کمی کو اصل میں دوسرا طریقہ پورا کر دیتا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ کئی ٹیچرس، والدین اور بچے کے ذہن میں آن لائن لرننگ سے ملنے والے فائد کے تعلق سے شبہ ہے۔ پھر بھی بہت سے طلبہ کیلئے تعلیم کا یہ نیا طریقہ رحمت ثابت ہوا ہے۔ اس نے پوری دنیا میں ہر ایک اس انسان کیلئے سیکھنے کے کافی مواقع فراہم کر دیئے ہیں جو کچھ سیکھنا چاہتے ہیں.... تو آیئے  اس مضمون میں ہم آن لائن لرننگ سے ملنے والے کچھ اہم فائدے کے بارے میں بات کرتے ہیں: 
کہیں بھی کبھی بھی 
 آج ہمارے بہت سارے بچے اپنے رہائشی مقامات سے دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں۔ آن لائن پڑھائی کے ذریعے ہم ہرجگہ سے اپنے بچوں کو ایک مقام پر مختلف ایپ کے ذریعے جوڑسکتے ہیں اور بچے کسی بھی وقت اپنی سہولت کے مطابق آن لائن پڑھائی کرسکتے ہیں۔ 
 صلاحیت کے مطابق 
  روایتی کلاس روم کے ۳۵؍ منٹ کے لیکچرمیں بچے بمشکل ۵؍ منٹ اپنی توجہ لیکچرپرمرکوز کرپاتے ہیں اور باقی لیکچرمیں بہت ساری چیزیں ان کے سمجھ میں نہیں آتیں ، اور ایک مرتبہ لیکچر ختم ہونے کے بعد اسے دوبارہ سننے کے مواقع بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ لیکن آن لائن لیکچر کی ویڈیو بچے کئی مرتبہ دیکھ کر اپنی صلاحیت کے مطابق سمجھ سکتے ہیں۔ 
نظم وضبط 
 روایتی کلاس روم میں استاد بچوں کو نظم و ضبط کا پابندکرکے لیکچر دیتا ہے۔ مگر آن لائن پڑھائی کے وقت بچہ خودکو نظم و ضبط کاپابند بنتاہے، جس کی وجہ سے نہ صرف بچہ بہتر انداز میں سمجھتااورسیکھتاہے بلکہ وہ نظم و ضبط کی اہمیت بھی سمجھتاہے اورزندگی میں نظم وضبط کا پابند بھی ہوجاتاہے۔  
خوداعتمادی 
 تحقیق کے مطابق ۷۴؍ بچے کلاس میں بولنے میں یا سوال پوچھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ، لیکن آن لائن پڑھائی کرتے وقت چونکہ بچے اپنے گھر میں ہوتے ہیں اس لئے زیادہ پُراعتماد ہوتے ہیں اورآگے بڑھتے اور سوال پوچھتے ہیں ، اورایسے بچے بھی آگے آتے ہیں جواکثر پیچھے کی بنچ پر چھپ جاتے ہیں۔ 
 اجتماعی کام
 چونکہ آن لائن پڑھائی کرتے وقت بچے بہت سارے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھائی کرتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ گھلنے ملنے اور تبادلۂ خیال کرنے کے انہیں مواقع ملتے ہیں اور بچے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ 
 اس طرح آن لائن کے مثبت پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر ہم آگے بڑھیں تو ہم آن لائن پڑھائی کو اور زیادہ مؤثر اور اثرانداز بناسکتے ہیں ، آئیے دیکھیں کس طرح:
والدین کا تعاون 
 آن لائن پڑھائی اسی وقت کارگراور مؤثر ہوسکتی ہے جب ہمیں والدین کا بھرپور تعاون حاصل ہو۔ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو آن لائن پڑھائی کے ذرائع مثلاً اسمارٹ فون یا کمپیوٹر مہیا کروائیں ، اور اس میں انٹرنیٹ کی سہولت کروادیں تاکہ بچے یکسوئی کے ساتھ پڑھائی کرسکیں۔ اس کے علاوہ والدین کو چاہئے کہ وہ گھرکا ماحول بھی بچوں کی پڑھائی کے لئے سازگار بنائیں اور اگر بچے چھوٹے ہوں تو آن لائن پڑھائی کو سمجھ کر انھیں سمجھاسکیں۔ 
 مقصدکاتعین 
 ہرچیز اس وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب اس کاکوئی نہ کوئی مقصد ہو۔ اس لئے استاد کو چاہئے کہ آن لائن پڑھائی سے قبل مقصدمتعین کرے اور استاد کا مقصد محض بچوں تک مواد پہنچانا نہیں ہونا چاہئے بلکہ وہ مواد بچوں کے سمجھ میں آنا اہم مقصد ہونا چاہئے، اوراس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اسے طریقۂ کار اپناناچاہئے۔ 
 نوٹ کریں
  اکثربچے آن لائن پڑھائی کرتے وقت محض موبائل لے کر بیٹھ جاتے ہیں اورمحض لیکچر سننے پر اکتفاکرتے ہیں ، جوکہ کسی بھی طرح سودمند نہیں ہے۔ بچوں کو چاہئے کہ جب وہ لیکچر سننے بیٹھیں تو اپنے ساتھ پین اور کاپی لے کر بیٹھیں اور ضروری نکات کو نوٹ کرتے جائیں تاکہ مواد کو بہتراندازمیں سمجھا سکے۔ یہی نکات آگے چل کے آپ کے کام بھی آئیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK