نئی نسل کو زندگی سے محبّت کرنا کیسے سکھائیں؟

Updated: September 29, 2022, 1:50 PM IST | Saima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں

 Through encouraging words, the new generation can be taught to love life .Picture:INN
حوصلہ افزاء باتوں کے ذریعے نئی نسل کو زندگی سے محبت کرنا سکھایا جاسکتا ہے۔ تصویر:آئی این این

مقصد حیات سے واقفیت ضروری
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۱ء میں ۲۸۰؍ ملین افراد ڈپریشن کا شکار تھے جس کی سب سے بڑی وجہ نا امیدی ہے۔ ناامیدی کے سبب خودکشی جیسے انتہائی خطرناک فعل کو بھی انجام دینے سے گریز نہیں کیا جارہا ہے۔ یہ اس المیہ کی جانب اشارہ ہے کہ نئی نسل اپنی ذات کی اہمیت سے نا واقف ہے۔ وہ ناواقف ہے اس بات سے کہ اس کی تخلیق کسی عظیم مقصد کے تحت کی گئی ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ایک ذرہ کو بھی بے مقصد تخلیق نہیں کیا۔ سب سے پہلے نئی نسل کو ان کی زندگی کے مقصد سے واقف کرایا جائے۔ انہیں احساس ہو کہ ان کی ذات ان‌کیلئے، ان کے گھر والوں کیلئے، سماج کیلئے اور ملک کیلئے کس قدر اہمیت کی حامل ہے یہ احساس ہی انہیں خود سے محبت کرنا سکھائے گا۔ بامقصد ہونا انسان کو زندگی سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔ بامقصد شخص کو منزل مقصود پر پہنچنے کی چاہ ہوتی ہے اور کچھ کرگزرنے کا عزم ہوتا ہے۔
خان شبنم فاروق (ممبئی)
زندگی ایک حسین تحفہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی ربِ کریم کی دی گئی نعمتوں میں سے ایک حسین اور قیمتی نعمت ہے۔ آج کے نوجوان اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں۔ ذرا سی پریشانی میں بس زندگی سے فرار کا راستہ تلاش کرنے لگتے ہیں گویا انہیں زندگی سے کوئی لگاؤ ہی نہیں ہے۔ ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ انہیں زندگی کی خوبصورتی سے روشناس کروائیں۔ انہیں زندگی کا مقصد سمجھائیں کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانت ہے اور اسے ہم اچھے کاموں میں گزاریں کیونکہ سمجھانے کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ نئی نسل اس بات کو سمجھے اور اس قیمتی تحفے کی قدر کرے۔ موجودہ دور کی نئی نسل تنہا رہنا پسند کرتی ہے جو درست نہیں ہے۔ یہ بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو اپنے قریب کریں۔ ان کی باتیں سنیں۔ انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ان سے ہمیشہ کہیں ’’مَیں آپ کے ساتھ ہوں‘‘۔ یہ جملہ انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دے گا۔‘‘
آیت چودھری (موتی گنج، یوپی)
نوجوانوں کو دین سے قریب کریں
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے۔ دنیا کی تخلیق کے پیچھے ربِ کریم نے مقصد طے کیا ہے۔ اس مقصد کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہماری زندگی جب کوئی مقصد طے کر لیتی ہے تو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد میں لگ جاتی ہے۔ نوجوانوں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نئی نسل کے کئی نوجوان چھوٹی چھوٹی پریشانی کے سبب ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر انتہائی قدم اٹھاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایک دوسرے سے موازنہ کرکے خود کو کمتر اور ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں دینی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ دین ہمیں تعلیم کا مقصد اور زندگی کی اہمیت بہتر طریقے پر سکھاتا ہے۔ جب ہم نوجوانوں کو دین کی طرف کر دیں گے تو ہمیں ان میں ایک الگ تبدیلی محسوس ہوگی اور وہ خود سے محبت کرنا اور اپنی اہمیت کو سمجھ کر ایک کامیاب زندگی گزارنا سیکھ جائیں گے۔
قمرالنساء جمیل احمد (مالونی، ملاڈ)
سبق پھر پڑھ صداقت کا
اس پر فتن دور میں جہاں زندگی کو جینا بہت مشکل ہوا جا رہا ہے، مذہبی منافرت اور ذات پات کی آڑ میں لوٹ مار، قتل و غارت گری عام ہے، کہیں جنگ و جدال کا بھیانک بازار گرم ہے، ایسے میں روزگار کے مواقع بھی متواتر گھٹتے جارہے ہیں۔ اس سے عوام الناس خصوصاً نسل نو مایوسی اور پسماندگی کا شکار ہوتی جارہی ہے جس سے آپسی بھائی چارہ اور یکجہتی کا شیرازہ بکھرتا جارہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ نسل ِ نو کو اسلوبِ زندگی سے روشناس کرائیں جس کا بہترین نمونہ اسلامی تعلیمات میں قرآن و احادیث میں مفصل طریقے سے موجود ہے۔ نسل ِ نو جب صوم و صلوۃ اور توبہ و استغفار کو اپنا شعار بنا لے گی اور اپنی تمام حاجت کیلئے رجوع الی اللہ ہو گی تو اسے زندگی سے رغبت بھی ہوگی اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہوگی:
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا 
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا !
نرگس شہیر مومن (زیڈعابد روڈ، بھیونڈی)
حوصلہ افزاء کتابوں کا مطالعہ
نئی نسل کی نشوونما میں ماں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے کیونکہ ولادت سے لیکر بچپن گزرنے تک بچے ماں کی پرورش اور تربیت میں رہتے ہیں۔ لہٰذا بچپن ہی سے بچوں کو دینی رجحان کے ساتھ خدمت انسانیت سے متعلق واقعات ذہن نشین کرانا بہتر ثابت ہوتا ہے۔ صحابیات و صحابۂ کرام کی حیات کے وہ پہلو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے، جن میں وہ مشکل ترین حالات میں بھی ثابت قدم رہے۔ نئی نسل کو زندگی سے محبت کرنے کی ترغیب دینے کے سلسلے میں یہ بات بھی ذہن نشین کرانا بہت ضروری ہے کہ تعلیم ہی انسان کا سب سے قیمتی زیور ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کیلئے جدید ہندوستان کے معماروں (مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر عبد الکلام وغیرہ) کے حالات زندگی پر مشتمل کتب کا مطالعہ کروایا جائے۔ اس طرح نوجوانوں میں مثبت سوچ پیدا کرکے ان میں خوشگوار تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔
ڈاکٹر شیبا افتخار انصاری (بھیونڈی، تھانے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK