بچّوں میں بڑھتا ذہنی دباؤ اور اس کا سدباب

Updated: December 01, 2021, 1:45 PM IST | Dr.Sharmeen Ansari | Mumbai

آج کل کے ماحول کی مناسبت سے اگربچوں کا جائزہ لیں تو بچے اسکول کی پڑھائی، سوشل میڈیا اور گھریلو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے کافی ذہنی تناؤ کا شکار نظرآتے ہیں۔ اگرصحیح وقت پر ان کی پریشانیوں کا ازالہ نہیں کیاگیا تو آگے چل کر خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ بچوں کو ذہنی تناؤ سے نجات دلانے میں ماؤں کا کردار اہم ہوتا ہے

The home environment has a profound effect on the minds of children so it is the responsibility of the mother to make the home environment pleasant.Picture:INN
گھرکے ماحول کا بچوں کے دماغ پر بہت گہرااثر پڑتاہے اس لئے ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ گھرکاماحول خوشگوار بنائیں ۔ تصویر: آئی این این

بچپن میں بچوں کی نشوونما نہایت تیزی سے ہوتی ہے۔ اس دوران بچوں کی ذہنی اور جسمانی بہت ساری تبدیلیاں ہوتی ہیں، اس میں سے کچھ تبدیلیاں قدرتی طور پر سب کے ساتھ ہوتی ہیں اور کچھ آس پاس کے ماحول، حالات، معاشرے کی وجہ سے بچوں میں نظرآتی ہیں۔ آج کل کے ماحول کی مناسبت سے اگربچوں کا جائزہ لیں تو بچے اسکول کی پڑھائی، سوشل میڈیا اور گھریلو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے کافی ذہنی تناؤ کا شکار نظرآتے ہیں اوریہ بہت دکھ کی بات ہے کہ جس عمر میں بچوں کو کھیلنا کودنا چاہئے اس عمر میں بچے ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں اور اگرصحیح وقت پر ان کی پریشانیوں کا ازالہ نہیں کیاگیا تو آگے چل کر خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ 
ذہنی تناؤ کی علامات
 ایک تحقیق کے مطابق یہ پتہ چلاہے کہ ہندوستان میں تقریباً ۵ ؍ کروڑ سے زیادہ بچے ذہنی تناؤ کاشکارہیں۔ نیشنل مینٹل ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۱۳؍ سے ۱۷؍ سال تک کی عمر کے تقریباً ۷ء۳؍ فیصد بچے کسی نہ کسی پریشانی سے گزررہے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ شہر کے بچوں میں گاؤں کے بچوں کے مقابلے میں ذہنی تناؤ زیادہ ہے۔ ذہنی تناؤ میں چند علامات دیکھنے ملتی ہیں:
ز کسی ایک چیزکو ٹکٹکی باندھ کے دیکھنا۔ 
ز نیندنہ آنایاآدھی رات کو نیندکھل جانا، بے چین اور چڑچڑاہونا۔ 
ز بغیر بات کے گھنٹوں رونا۔ 
ز ہر وقت ڈر لگنا یا اجنبیوں سے خوف۔ 
ز ہروقت غصہ کرنایا بلاوجہ خوش ہونا۔
ز سردرد یا پیٹ درد محسوس کرنا۔ 
ز بچے کو بھوک کم یابہت زیادہ لگنا۔
ز بچوں کا بستر پر پیشاب کرنا۔ 
ز ناخن چبانا، پسندیدہ چیزوں سے دور ہوجانا۔ 
وجوہات
 کچھ بچے بہت زیادہ ذہنی تناؤ محسوس کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے اکیلے پن کا شکار بھی ہوجاتے ہیں اس لئے ماؤں کو ان کے ذہنی تناؤ کی وجہ جا ن کر اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بچوں کے ذہنی تناؤ کی درج ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔ 
ز جب بچے اپنے ماں باپ سے دور ہوجاتے ہیں تب وہ ذہنی تناؤ محسوس کرسکتے ہیں۔ ایسے بچے اپنے آپ کو تنہا اور غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی بات پر گھبرا جاتے ہیں۔ 
ز جب بچوں کی پرورش اور تربیت لڑائی جھگڑے کے ماحول میں ہوتی ہے تب بھی بچے تناؤ محسوس کرتے ہیں۔ 
ز جو بچے کسی ذہنی یا جسمانی مسائل کا شکار ہوتے ہیںان میں بھی تناؤ کے آثار نظر آتے ہیں۔ 
ز بچوں کاکھیل کود یا جسمانی کارکردگی کے لئے وقت نہ ہونا بھی ذہنی تناؤ کی وجہ ہوسکتی ہے۔ 
ز جوبچے سوشل میڈیا یاگجیٹ کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ بچے بھی ذہنی تناؤ کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔ 
ز علاوہ ازیں، ماں باپ کے درمیان ناچاقی، علاحدگی، گھروالوں کی آپسی رنجش، بھرپور پیار نہ مل پانا، ہروقت ڈانٹ کاسامنا کرنا جیسی وجوہات کی بناء پر بھی بچے تناؤ کاشکار ہوسکتے ہیں۔ 
 بچوں کے ذہنی تناؤ کو دورکرنے کے طریقے 
بچوں پر بہت زیادہ دباؤ نہ ڈالیں: اکثر مائیں بچوں پر پڑھائی یا کسی اور کارکردگی کو لے کر بہت زیادہ دباؤ ڈالتی ہیں اور بچوں کو ان کی صلاحیت سے زیادہ امیدیں وابستہ کرتی ہیں جوصحیح نہیںہے۔ ماؤں کو چاہئے کہ بچوں کی صلاحیت کو پہچانیں اور بچوں سے ان کی صلاحیت کے مطابق امیدیں رکھیں۔
متوازن غذا: بچوں کے کھانے پینے میں اگر غیر متوازن غذا اور جنک فوڈ شامل ہوں توانہیں بہت ساری ذہنی اور جسمانی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس لئے ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی غذا کا ایک خاکہ بنائیں اور اس کے مطابق متوازن غذا ہی دیںتاکہ وہ ذہنی وجسمانی طور پر صحتمند رہ سکیں۔ 
خود اعتماد بنائیں: ماؤں کو چاہئے کہ بچوں کا حوصلہ بڑھاکر انہیں خود اعتماد بنائیں۔ انہیں زندگی کے اصول سکھائیں۔ پریشانیوں سے نبردآزما ہونے کے اصول بتائیں، زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرنا سکھائیں تاکہ بچہ زندگی کی دشواریوں کا سامنا بآسانی کرسکے۔ 
خوشگوارماحول: گھرکے ماحول کا بچوں کے دماغ پر بہت گہرااثر پڑتاہے اس لئے ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ گھرکاماحول خوشگوار بنائیں اور آپسی رنجش اور لڑائی جھگڑوں کو بچوں کے سامنے نہ کرتے ہوئے اکیلے میں حل کریں۔ 
گجیٹ کا استعمال: چونکہ گجیٹ اور سوشل میڈیا بچوں کو بہت زیادہ متاثرکرتاہے اس لئے ماؤں ان چیزوںکا استعمال اپنی نگرانی میں کرائیں۔  آخر، ماؤں اپنے بچے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں انہیں آپ کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK